حلال تو چھوڑ دیا مگر حرام نہیں

 

حلال تو چھوڑ دیا مگر حرام نہیں

 

ابوعادل محمد منظور ندوی

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اس بات سے تو ہم سبھی واقف ہیں کہ روزہ نام ہے طلوع فجر سے غروب شمش تک کھانا، پینا اورجماع سے رکنے کا۔ یہ ساری وہ چیزیں ہیں جو روزہ کے علاوہ دنوں میں بالکل حلال ہیں لیکن اللہ کی خاطر انکی رضاء اور اپنی نجات کے لئے ان تمام حلال چیزوں سے خود کو روکے رکھتے ہیں لیکن ان حرام چیزوں سے خود کو نہیں بچا پاتے جن کو اللہ نے ہر حال میں حرام کیا خواہ روزے کی حالت میں ہوں یا غیر روزے کی، تو بھلا ایسے روزے کا کیا فائدہ جو حلال سے تو روک دے پر حرام سے باز نہ رکھ سکے، ایسے لوگوں کو محض بھوکا پیاسہ رہنے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور اللہ کو ان کے بھوکے اور پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں،

قارئین! آئیے ہم جانتے ہیں کہ وہ کیا چیزیں ہیں جو ہم حرام ہونے کے باوجود نہیں چھوڑ پاتے در ایں حال کہ ہم حلال چیزوں کو چھوڑ دیتے ہیں، تو سرے فہرست ہے غیبت، جھوٹ، چغل خوری، یہ وہ خصلتیں ہیں جن کو اللہ نے ہر حال میں حرام قرار دیا ہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے (یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ ٱجۡتَنِبُوا۟ كَثِیرࣰا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعۡضَ ٱلظَّنِّ إِثۡمࣱۖ وَلَا تَجَسَّسُوا۟ وَلَا یَغۡتَب بَّعۡضُكُم بَعۡضًاۚ أَیُحِبُّ أَحَدُكُمۡ أَن یَأۡكُلَ لَحۡمَ أَخِیهِ مَیۡتࣰا فَكَرِهۡتُمُوهُۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ تَوَّابࣱ رَّحِیمࣱ)[سورة الحجرات 12]

اے ایمان والو بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں، اور بھید نہ ٹٹولہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی، اور اللہ سے ڈرتے رہو،بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ( تفسیرجناگڑھی)

محترم قارئین! اب ذرا غور کریں کہ کون روزہ دار اس بات سے ناواقف ہوگا کہ کھانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، کوئی بھی نہیں، اگر اس آیت میں غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ غیبت کرنے کو اللہ تعالی نے مردار بھائی کا گوشت کھانےکے مترادف قراد دیا، گو اس سے روزہ ٹوٹ نہیں جاتا جیساکہ کھالینے سے ٹوٹ جاتا ہے لیکن ٹو ٹنے سے کم نہیں کیونکہ اللہ کے رسول علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم نے فرمایا کہ ایسے شخص کو بجز بھوکا رہنے کے کچھ بھی تو حاصل نہیں ہوتا، “عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « رُب صائم ليس له من صيامه إلا الجوع، ورُب قائم ليس له من قيامه إلا السهر» (رواه ابن ماجه).

اتناہی نہیں بعض علماء نے تو یہاں تک فرمایا کہ ایسے شخص کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ جمہور علماء نہ ٹوٹنے کے قائل ہیں۔

یہ ایسا حرام ہے کہ جس سے عوام تو کیا خواص بھی نہیں بچ پاتے آج معاشرے میں یہ برائی اس قدر عام ہوگئی ہے کہ جہاں بھی دو شخص بیٹھے باتیں کررہے ہوں وہاں اکثر کسی تیسرے کا ہی تذکرہ ہوتا ہے اور تو اور رمضان کے مہینہ میں بالخصوص جیسے غیبت سے اجر میں اضافہ ہوتا ہو نماز پابندی سے ادا کریں گے لیکن فارغ ہوتے ہی جائزہ لینا شروع۔ ارے فلاں نماز میں نہیں تھا، ارے اسکی تو بات ہی نا کرو دن بھر کام میں لگاہوتا ہے نماز سے کیا مطلب انہیں، کیا بتلائیں بھائی کبھی روزہ بھی نہیں رہتا اور پھر کیا کہنا اس شخص کو ایسا ننگاکیا جاتا ہے بیچارہ خود بھی کبھی ایسا نا ہوا ہو، اتنا ہی نہیں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اکثر اسے غیبت بھی نہیں سمجھتے اور بعض دیندار سمجھے جانے والے تو برملا کہ دیتے کہ انکی برائی تھوڑے نا بیان کررہے ہیں جو باتیں ان میں ہیں وہی تو بتلارہے ہیں لیکن ان بیچارے کو یہ نہیں پتہ کہ یہی تو غیبت ہے، اگر وہ باتیں ان میں نا ہوتیں تب تو بہتان ہوجاتا، ایک دفع اللہ کے رسول نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین سے سوال کیا ” أتدرون ما الغيبة؟” کیا تمہیں معلوم ہے غیبت کسے کہتے ہیں؟ صحابہ کرام نے کہا اللہ اور اللہ کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ذكرك أخاك بما يكره قيل أفرأيت إن كان في أخي ما أقول قال إن كان فيه ما تقول فقد اغتبته وإن لم يكن فيه فقد بهته” کہ تیرا اپنے بھائی کا ایسے الفاظ سے ذکر کرنا جس کو وہ ناپسند کرتا ہو، کسی نے سوال کیا یا رسول اللہ اگر وہ باتیں اس میں پائی جاتیں ہوں جو ذکر کی گئی تب بھی غیبت ہے؟ اللہ کے رسول نے فرمایا: ” اگر وہ باتیں اس شخص میں موجود ہوں تبھی تو تم نے اس کی غیبت کی اگر وہ باتیں ان میں موجود نہیں تب تو تم نے ان پر بہتان لگایا. ( صحيح مسلم: كتاب البر والصلة والآداب: باب تحريم الغيبة)

غیبت ایسی بیماری ہے جسکے سائڈ افیکٹس بہت زیادہ ہیں، یہ گناہ بےلذت اور ایسا گناہ ہے جس سے انسان کا دین و دنیا کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے الٹا دونوں جہاجہاں میں نقصان ہی اٹھانا پڑتا ہے، غیبت کرنے والا دنیا میں ذلیل و رسوا ہوتا ہی ہے اسکی آخرت بھی خراب ہوتی ہے، یہ عام حالت میں بھی حرام ہے اور روزے کی حالت میں تو بدرجہ اولی اور اس سے روزے دار کو روزہ کا بھی شدت سے احساس ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو عورتوں نے روزہ رکھا لیکن روزہ میں اس شدت کی پیاس لگی کہ ہلاکت کے قریب ہوگئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو بلوایا اور ایک برتن میں قئی کرنے کا حکم دیا، ایک نے خون اور گوشت قئی کیا تو آدھا پیالہ بھر دیا اور دوسری نے بھی پہلی کے مثل قئی کیا یہاں تک کہ پیالہ بھرگیا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” إن هاتين صامتا عما أحل الله، وأفطرتا على ما حرم الله عز وجل عليهما، جلست إحداهما إلى الأخرى؛ فجعلتا يأكلان لحوم الناس” کہ ان دونوں نے اللہ کے حلال کی ہوئ روزی سے تو روزہ رکھا مگر اللہ کے حرام کردہ چیز سے افطار کیا کہ دونوں آپس میں بیٹھ کر لوگوں کی غیبت کی، اور نتیجہ یہ ہوا کے روزہ برداشت نہ کرسکیں(رواه ابن أبي شيبة في مسنده (2/177) وأحمد (5/431) ورواه البخاري في تاريخه (5/440) ونص البخاري أن هذا مرسل)

یہ روایت گرچہ ضعیف ہے لیکن مشاہدہ و تجربہ سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے، اور تائید نہ بھی ہو تب بھی غیبت کی حرمت اور اسکی قباحت میں کمی نہیں آئے گی.

آئیے اب ہم جھوٹ کی بات کرتے ہیں، ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ جھوٹ حرام ہے عام حالتوں میں بھی اور روزہ کی حالت میں تو بالخصوص حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «من لم يدع قول الزور والعمل به، فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه» (رواه البخاري) کہ جس نے جھوٹ اور اسپر عمل نہیں چھوڑا تو اللہ کو اسکی ضرورت نہیں کہ وہ بھوکا پیاسہ رہے.

پتہ یہ چلاکہ روزہ رکھ کر جھوٹ، غیبت کرنے سے بجز بھوکا رہنے کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، اور روزہ کا یہ قطعی مقصد نہیں کہ انسان بھوکا پیاسہ رہے بلکہ مقصد تو یہ ہے ” لعلكم تتقون” ( البقرۃ:۱۸۳) کہ روزہ رکھ کر تم تقوی اختیا کرلو اللہ سے ڈرنے والا اسی طرح بن جاؤ جس طرح روزے کی حالت میں اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو بھی اللہ کے کہنے پر ہاتھ نہیں لگاتے تو حرام کو کیوں نہیں چھوڑ دیتے، معاشرے میں ایسے بہت سے لوگ مل جائیں گے کہ جس نے چوری نہیں کی ہو کسی کا قتل نہیں کیا ہو لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے کتنے لوگ ہیں جس نے جھوٹ چھوڑ دیا ہو غیبت چھوڑ دی ہو اور کبھی اپنے بھائی کی ہتک عزت نا کی ہو جبکہ یہی تو مقصد تھا روزے کا کہ اللہ سے ڈرکر سارے منکرات چھوڑنے والے بن جائیں۔

رہی بات چغل خوری کی تو اس سےجو فتنہ و فسادات، لڑائی جھگڑے، بدگمانیاں، قطع تعلق، بھائی کا بھائی سے جدا ہونا ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہونا یہاں تک زندگی بھرکی دشمنی اور نہ جانے معاشرے میں کیسے کیسے خلفشار جنم لیتے ہیں یہ کسی سے بھی مخفی نہیں اور ساتھ ہی ایسے شخص کی آخرت بھی خراب ہوتی ہے ایسے شخص کے لئے قبر سے ہی عذاب کی شروعات ہوگی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سنادیا ہے، ایک دفعہ اللہ کے نبی کا گزر دو قبروں پر ہوا آپ نے ارشاد فرمایا: “إنهما ليعذبان وما يعذبان في كبير، ثم قال: بلى، أما أحدهما فكان يمشي بالنميمة، وأما الآخر فكان لا يستنزه من البول وفي لفظٍ: لا يستتر من البول” ( بخاري و مسلم) ان دونوں کو عذاب ہورہا ہے اور کسی بڑی مشکل امر کے لئے نہیں ہورہا ہے،(یعنی اس سے بچنا آسان تھا کوئی زیادہ مشکل نہیں تھا) پھر فرما کیوں نہیں، (مطلب بات تو بڑی ہے) کہ ان میں سے ایک چغلی کیا کرتا تھا، اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا،اور دوسری حدیث میں آیا ہے: ” لا يدخل الجنة نمام” (رواه البخاري ومسلم عن أبي حذيفة رضي الله عنه) کہ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا ، پتہ چلا چغل خوری موجب عذابِ قبر و مانعِ دخول الجنۃ ہے. پتہ چلا جھوٹ، غیبت ، چغل خوری، فحش کلامی روزہ دار کے لئے کسی طور جائز نہیں اس سے روزہ کا مقصد جاتا رہتاہے اور روزہ رکھ کر اللہ کی رضاء نہ جہنم سے آزادی حاصل ہوتی ہے الٹا گناہ اور عذاب کے مستحق قرار پاتے ہیں.

اخیر میں اللہ سے دعاء ہے کہ اللہ ہم سب کو جھوٹ، غیبت،چغل خوری،بدکلامی جیسے گناہوں سے محفوظ رکھے اور رمضان کے خیرو برکات سے محروم نا فرمائے آمین

(وما ذلك على الله بعزيز)

ــــــــ ـــــــ ــــــــ ــــــــ ــــــــــــ

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *