ارطغل ڈرامہ کی شرعی حیثیت : ایک تحقیقی جائزہ

ارطغل ڈرامہ کی شرعی حیثیت : ایک تحقیقی جائزہ

✍️⁩ : م ۔ ع ۔ اسعد

متعلم : کلیة الحدیث ، بنگلور

 

”ارطغل“ ؛ شاید یہ نام اب محتاج تعارف نہیں ، ترکی سے نشر ہونے والا یہ ایک ڈرامہ ہے جس میں سلطنت عثمانیہ کے قیام کے اسباب و دوافع کو ارطغل نامی غازی کی سوانح حیات اور اور جنگ میں اس کے کارناموں کے ذریعے فلمایا گیا ہے ۔

لوگ اس کے اتنے گرویدہ ہو گئے ہیں کہ اس کی تعریف کا راگ الاپ رہے ہیں حتی کہ پڑھا لکھا طبقہ بھی اس میں اس قدر محو ہو چکا ہے کہ اس کی تشہیر کرتے نہیں تھکتا ، بلکہ ان کی دیوانگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ تشہیر کرتے وقت ساتھ میں صنف نازک کی بعض تصاویر کو بھی بصد شوق شیئر کر رہے ہیں ، اور اگر انہیں کوئی سمجھانے کی کوشش کرے تو بجائے نصیحت قبول کرنے کے الٹا ان پر چڑھ دوڑتے ہیں اور طعن و تشنیع کے تیر برساتے اور سطحی قسم کے جملے کستے نظر آتے ہیں اور ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ والے محاورے کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔

بات اگر صرف یہیں تک ہوتی تو شاید قلم اٹھانے کی ضرورت پیش نہ آتی ، لیکن معاملہ حد سے کافی آگے نکل چکا ہے۔ یہاں تک کہ لوگوں نے اس منکر کو بھی جواز کی صف میں لا کھڑا کیا ، پس میں نے ضروری سمجھا کہ چونکہ ہم ہر حال میں ، آخری سانس تک شریعت کے مکلف ہیں اس لئے اس ڈرامہ کا شرعی جائزہ لیا جائے تاکہ بات بالکل واضح ہو جائے ، اور جواز کے قائلین کے یہاں کوئی اشکال باقی نہ رہے

 

ذیل میں کچھ قباحتیں بیان کی جا رہی ہیں کہ جو اس ڈرامہ کے عدم جواز کی واضح دلیل ہیں

1 : اس ڈرامہ میں پہلی قباحت یہ ہے کہ اس میں بے پردگی موجود ہے ، جبکہ اسلام میں بے پردگی قطعاً جائز نہیں ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے امت محمدیہ کو پردے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔

﴿یَـٰۤأَیُّهَا ٱلنَّبِیُّ قُل لِّأَزۡوَ ٰ⁠جِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاۤءِ ٱلۡمُؤۡمِنِینَ یُدۡنِینَ عَلَیۡهِنَّ مِن جَلَـٰبِیبِهِنَّۚ ذَ ٰ⁠لِكَ أَدۡنَىٰۤ أَن یُعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورࣰا رَّحِیمࣰا﴾ [الأحزاب ٥٩]

ترجمہ:

اے نبی ! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکایا کریں۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہوجایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔

صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ، اور فرمایا

﴿قُل لِّلۡمُؤۡمِنِینَ یَغُضُّوا۟ مِنۡ أَبۡصَـٰرِهِمۡ وَیَحۡفَظُوا۟ فُرُوجَهُمۡۚ ذَ ٰ⁠لِكَ أَزۡكَىٰ لَهُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِیرُۢ بِمَا یَصۡنَعُونَ﴾ [النور ٣٠]

ترجمہ:

مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں یہ ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔

اور اگلی آیت میں یہی حکم مومنہ عورتوں کو ( باپردہ ہونے کے باوجود ) دیا اور فرمایا

﴿وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَـٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَـٰرِهِنَّ وَیَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ﴾

ترجمہ:

مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں ۔

 

بلکہ ایک حدیث میں تو غیر محرم کی طرف دیکھنے کو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھوں کا زنا قرار دیا ، چنانچہ آپ نے فرمایا

عن أَبي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال : ( إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذَلِكَ لاَ مَحَالَةَ ، فَزِنَا العَيْنِ النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ المَنْطِقُ ، )

روى البخاري (6243) ، ومسلم (2657)

 

پس اس ڈرامہ کو جب ہم شریعت کے اس زاویے سے دیکھتے ہیں تو پاتے ہیں کہ تقریباً پورا ڈرامہ اس بے پردگی سے بھرا پڑا ہے ،

 

2 : دوسری قباحت یہ ہے کہ معاملہ صرف بے پردگی تک ہی محدود نہیں بلکہ اس ڈرامہ میں بے حیائی و فحاشی کے ایسے مناظر بھی ہیں جنہیں دیکھ کر کسی متقی انسان کے بھی جذبات برانگیختہ ہو جائیں اور شہوت نسوانی بھڑک جائے چہ جائیکہ عام انسان ۔

حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فواحش کے قریب جانے سے بھی منع فرما دیا

﴿وَلا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ﴾ [الانعام : 151 ]

ترجمہ:

اور بےحیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس مت جاؤ خواہ وہ اعلانیہ ہوں یا پوشیدہ ۔

 

یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے فحاشی پھیلانے والوں کے لئے سخت وعید بھی سنائی ہے اور دردناک عذاب کی دھمکی دی ہے

ارشاد باری ہے ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ ﴾ [النور : ١٩]

ترجمہ:

جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے۔

 

پس جب آپ غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ آیت میں جہاں فحاشی پھیلانے والوں کے لئے سخت وعید ہے وہیں مابین السطور ( بند الفاظ میں ) ہر قسم کی فحاشی سے اجتناب کرنے کا حکم بھی مضمر ہے ، کیونکہ آیت میں اگر فحاشی سے بچنے کا حکم نہ ہوتا تو یقیناً فحاشی پھیلانے والوں کے لئے وعید بھی نہ ہوتی

اس کو سہل انداز میں یوں سمجھیں کہ کوئی باپ اپنے بڑے بیٹے کو اس لئے ڈانٹتا اور مارتا ہے کیونکہ وہ اپنے چھوٹے بھائی کو سنیما ہال فلم دکھانے لے گیا تھا ،

پس کوئی بھی عقلمند اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالے گا کہ باپ اپنے چھوٹے بیٹے کو فلم بینی کی اجازت دے رہا ہے ، بلکہ ہر سلیم العقل شخص یہی کہے گا کہ بڑے بیٹے کو مارنے کے ساتھ ساتھ باپ چھوٹے بیٹے کو بھی زبان حال سے یہ نصیحت کر رہا ہے کہ تم کبھی ایسا نہ کرنا

 

3 : جیسا کہ ماقبل میں بیان کیا جا چکا ہے کہ اس میں ایسے فحش مناظر موجود ہیں کہ جو انسان کے محرمات میں واقع ہونے کا سبب بنتے ہیں ، اور اصول فقہ کا ایک بہت ہی معروف قاعدہ ہے کہ *ما أدى إلى الحرام فهو حرام* یعنی : جو عمل حرام کی طرف لے جائے تو وہ ( لے جانے والا ) عمل بھی حرام ہوتا ہے ۔

اسی لئے اللہ رب العالمین نے ہر حرام کام کی طرف لے جانے والے تمام راستوں کو ہی بند کرتے ہوئے یہ اعلان کر دیا

﴿وَلَا تَقۡرَبُوا۟ ٱلزِّنَىٰۤۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَـٰحِشَةࣰ وَسَاۤءَ سَبِیلࣰا﴾ [الإسراء ٣٢]

ترجمہ:

خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے ۔

 

4 : اس ڈرامہ میں عشق و عاشقی ، حرام محبت اور ناجائز تعلقات کے ذریعہ بے حیائی کو فروغ دیا گیا ہے ، یہاں تک کہ بعض ذرائع سے مجھے یہاں تک خبر ملی کہ اس ڈرامہ میں بھائی ، بہن کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرتا ہے اور باپ کچھ بھی نہیں کہتا نیز بعض باوثوق ذرائع سے یہ بھی خبر ملی کہ ایک عورت ، دو مردوں کے رابطہ میں رہتی ہے ( نعوذ باللہ من ذلک )

آخر یہ بے حیائی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے ؟ مگر حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو ان تمام منکرات اور محظورات کے باوجود نہ یہ کہ صرف اس ڈرامہ کو جائز سمجھ کر دیکھتے ہیں بلکہ فخریہ انداز میں غیروں کو بھی اس کے دیکھنے کی تلقین کرتے ہیں ،

 

حیراں ہوں کہ دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں ، نوحہ گر کو میں

غالب

 

5 : اس ڈرامہ میں ایک قباحت یہ بھی ہے کہ اس میں وقت کا ضیاع ہے ، وہ وقت کہ جو انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور جس کی عظمت و اہمیت کا عالم یہ ہے کہ خود رب العالمین نے ”و العصر“ کہہ کر قرآن میں اس کی قسم کھائی ہے ، مگر افسوس اس بیش قیمت وقت کو انسان ان لا یعنی اور بے کار کی چیزوں میں صرف کر رہا ہے ،

اور اس پر مستزاد یہ کہ ہمارے پڑوسی ملک میں اس سال ٹیوی چینل پر ، پہلے روزے سے روزانہ اس ڈرامہ کو نشر کیا جا رہا ہے ! العیاذ باللہ ثم العیاذ باللہ

یعنی مذکورہ ظلم کیا کم تھا ؟ کہ اس ماہ مقدس کو بھی ہم اس بیہودگی کی نذر کر دیں اور اس با برکت مہینے کی برکات کو اپنے دامن میں سمیٹنے کی بجائے گناہوں سے اپنی جھولیاں بھر لیں ۔۔۔

 

بہرحال یہ چند باتیں تھیں جو میں نے ان کے سوال ” اس ڈرامہ میں حرج کیا ہے ؟ “ کے جواب میں مع دلائل ان کے گوش گزار کیں ۔

اب آئیے ہم آپ کو اُن بعض شبہات کی طرف لے کر چلتے ہیں کہ جن کی بناء پر لوگ اسے نہ کہ صرف جائز ٹھہرا رہے ہیں بلکہ اس کی نشر و اشاعت میں بھی ایک اہم رول ادا کر رہے ہیں ۔

 

پہلا شبہ :[ چونکہ زمانہ ترقی کر رہا ہے اور دین کی نشر و اشاعت کے لئے نئے نئے پلیٹ فارم سامنے آ رہے ہیں ، پس جس طرح غیر قومیں اپنی تاریخ کو ڈراموں اور فلموں کی شکل دیکر غیروں کو اس کی طرف مائل کر رہی ہیں ، اسی طرح دورِ جدید کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے ہمیں بھی اپنی تاریخ کو ڈراموں کی شکل دیکر عوام کے سامنے پیش کرنا چاہئے تاکہ لوگ انٹرٹینمنٹ کے طور پر اسے دیکھ بھی لیں اور اسی بہانے اپنی بھولی ہوئی تاریخ کے متعلق کچھ آشنائی بھی ہو جائے۔ ]

 

جواب : میں اس کے جواب میں صرف دو باتیں عرض کروں گا

پہلی بات : یہ کہ اسلام جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کے اختیار سے ہمیں نہیں روکتا بلکہ وہ تو ہر زمان و مکان اور ہر عصر و مصر کے لئے ہے لہذا ضرورت بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ ہر دور کے تقاضوں کو پورا اور خالی جگہوں کو ُپر کیا جائے ، مگر اس کے ساتھ ساتھ اسلام کچھ اصول و ضوابط بھی مقرر کرتا ہے کہ جن کی پاسداری ہم پر واجب ہے ،

پس جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کو اختیار کرنا اسی وقت تک جائز ہوگا جب تک اسلام کے اصول و ضوابط کا پاس و لحاظ رکھا جائے گا ، جبکہ یہاں مذکورہ منکرات کے سبب شریعت کے حدود سے واضح تجاوز کیا جا رہا ہے لہٰذا یہ شبہہ باطل اور بے بنیاد ٹہرا ۔

دوسری بات : یہ کہ بالفرض دو منٹ کے لئے اگر ہم آپ کی بات مان بھی لیں تو میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا کہ اس ڈرامہ کی شکل میں آپ کس تاریخ کو دکھانے اور سکھانے کی بات کر رہے ہیں ، اُس تاریخ کو جو تقریباً مکمل جھوٹ کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے یا اُس تاریخ کو جس کا اکثر و بیشتر حصہ موضوع و منگھڑت ہے کہ جسے خود ڈرامہ ساز نے گدی دار مسند کے اوپر بیٹھ کر گڑھ لیا ہے ، یقین نہیں آتا تو خود جاکر اس ڈرامہ کی ویکیپیڈیا پر ہسٹری تلاش کریں اور خود ان کی زبانی اس کا اعتراف سنیں ، ورنہ اگر ہم کہیں گے تو شکایت ہوگی

تنبیہ : میں یہاں یہ بات بھی واضح کرتا چلوں کہ اگر آپ اس ڈرامہ کو تاریخی حقائق کے ذریعے ثابت کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں پھر بھی دیگر منکرات کے سبب کسی طور پر بھی اس کے جواز کی کوئی صورت نہیں نکلتی ۔

 

دوسرا شبہ : *[ اس ڈرامہ کے جواز کے قائلین کی طرف سے ایک دلیل یہ بھی دی جا رہی ہے کہ اس میں جرات و شجاعت کو دکھلایا گیا ہے ، جہاد ہوتا ہے ، ملک کی فتوحات دکھائی جاتی ہیں ، کہ جسے دیکھ کر ایمان میں تازگی آتی ہے اور اس میں اضافہ ہوتا ہے ۔]*

جواب : آہ کیا زمانہ آ گیا ہے کہ لوگ فحش ڈرامے اور بے حیائی سے لبریز سیریل کو دیکھ کر اپنا ایمان تازہ کر رہے ہیں ، سمجھ نہیں آتا کہ پہلے ان کی عقلوں کا ماتم کروں یا ان کے ایمان کا جنازہ پڑھوں ؟ آخر لوگوں نے اس دین کو سمجھ کیا رکھا ہے !؟

خیر ۔۔۔۔ ان کی یہ دلیل ، ذیل میں بیان کی جانے والی وجوہات کے پیش نظر بے بنیاد ہے ،

1 : جسے آپ ایمان کی تازگی اور زیادتی تصور کر رہے ہیں وہ ایمان کا اضافہ نہیں بلکہ درحقیقت ایک شیطانی چال اور ابلیسی حربہ یے ، جنگ و جدال میں ایسی بے مثال بہادری کو دیکھ کر جذبات کا برانگیختہ ہونا اور دل میں جرات و شجاعت سے ملی جلی ایک ہیجانی کیفیت کا پیدا ہونا یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایک طبعی اور فطری امر ہے ،

اور یہ چیز صرف یہاں نہیں بلکہ جرات و شجاعت والی کوئی بھی ہالی ووڈ یا بالی ووڈ فلم دیکھیں تو یہی کیفیت آپ وہاں بھی پائیں گے ، فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس ڈرامہ کو آپ الگ نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہیں جبکہ دیگر فلموں کو الگ نظر سے ،

پس کیا آپ یہ کہنے کی جرات کر سکتے ہیں کہ شجاعت و بہادری پر مبنی دیگر فلموں سے بھی ایمان تازہ ہوتا ہے لہذا انہیں دیکھنا بھی جائز ہے ؟

2 : چلئے تھوڑی دیر کے لئے ، جذبات کی دو پل کی اس برانگیختگی کو اگر ایمان میں اضافہ کا نام دے بھی دیا جائے تب بھی ایمان میں اضافہ کے لئے یہ راہ اختیار کرنا ہرگز صحیح نہیں ، کیونکہ ایمان کو بڑھانے کے لئے مختلف اسباب و ذرائع ، قرآن و حدیث میں بیان کئے گئے ہیں ، کہ جن میں ہمارے لئے غنیمت ہے ،

پس ایمان کی تازگی کے لئے ایسا راستہ اختیار کرنا جو شریعت کے اصول و ضوابط سے ٹکرا رہا ہو اور شرعی حدود سے تجاوز کر رہا ہو تو وہ ایمان کی کمی کا سبب تو ضرور ہو سکتا ہے مگر اس کی زیادتی کا سبب کبھی نہیں ہو سکتا ۔

3 : بالفرض اگر ہم دو منٹ کے لئے آپ کی دونوں باتیں مان بھی لیں کہ جذبات کی ان مذکورہ کیفیات کا نام دراصل ایمان ہی ہے اور ایمان میں اضافے کے لئے اس راہ کو اختیار کرنا بھی جائز ہے اور اس کو دیکھ کر آپ کا ایمان تازہ بھی ہو جاتا ہے تو محترم ذرا یہ بھی تو بتائیں کہ اس ڈرامہ میں جنگ و جدال والا سین دیکھ کر جب آپ کا ایمان ( بزعم خویش ) بڑھتا ہے تو اسی میں موجود بے پردگی و بے حیائی اور فحاشی و رومانس والے سین کو دیکھتے وقت آپ کا آسمان کی بلندیوں کو چھونے والا ایمان کہاں چلا جاتا ہے ، ؟ یا آپ اس وقت اپنی آنکھیں موند لیتے ہیں ؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ ”میں اس وقت اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہوں“ یا ”اپنا چہرہ کسی اور جانب پھیر لیتا ہوں“ تو یہ سراسر جھوٹ ہے ، کیونکہ بعض جگہ پر تو ایسا ممکن ہے پر ہر جگہ نہیں ، کیونکہ پورا ڈرامہ ہی اس گندگی سے بھرا ہوا ہے ۔ اور اگر آپ کہتے ہیں کہ ”میں ان مناظر کا بھی بخوبی مشاہدہ کرتا ہوں“ تب تو آپ کا ایمان محفوظ ہی نہیں رہا کیونکہ اگر محفوظ رہتا تو آپ ان بے حیائی اور فحاشی والے مناظر کا مشاہدہ ہی نہیں کرتے ، کیونکہ جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کا ایمان کم ہو جاتا ہے اور بندہ جس قدر اس کا ارتکاب کرتا ہے اسی قدر اس کا ایمان بھی کم ہوتا جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے :

{ عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن …. } ( متفق عليه )

حضرت ابو ہریرہ رضی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زناکار جب زنا کرتا ہے تو وہ بحالت زنا ، مومن نہیں ہوتا ۔

اور دوسری حدیث میں مزید وضاحت کے ساتھ ہے کہ

{ عن أبي هُرَيرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” إذَا أذنَبَ العَبْدُ نُكِتَ فِي قَلْبِهِ نُكْتَة سَوْدَاءُ، فإنْ تابَ صُقِلَ مِنْها، فإنْ عادَ عادَتْ حتى تَعْظُمَ فِي قَلْبِهِ }

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ رکھ دیا جاتا ہے ، پس اگر وہ اس سے توبہ کر لے تو اس کا دل دھو دیا جاتا ہے ، اور اگر وہ دوبارہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ نکتہ بھی بڑھتا جاتا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل پر چھا جاتا یے .

پس شریعت کے اس ترازو پر ذرا اپنے ایمان کو تولیں اور اندازہ لگائیں کہ اس ڈرامہ میں ( بزعم خویش ) ایمان بڑھانے کا سامان ( جہاد و قتال اور اس میں دکھائی گئی جرآت و شجاعت ) زیادہ موجود ہے یا پھر اس کو کم کرنے اور گھٹانے کا سامان ( بے پردگی و بے حیائی اور فحاشی وغیرہ ) زیادہ موجود یے ۔

میں یہ بات دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ اس میں ثانی الذکر چیز یعنی ایمان کو گھٹانے کا متاع زیادہ موجود ہے ،

پس مکمل تجزیہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس ڈرامہ سے ایمان بڑھتا تو دور بلکہ کم ہوتا ہے اور اس میں مزید نقص آتا ہے

*خلاصہ* : لہٰذا پوری تحریر کا خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس ڈرامہ کو دیکھنا کسی طور پر بھی جائز نہیں ، چہ جائیکہ اس کی تشہیر کی جائے اور لوگوں کو اس کی طرف رغبت دلائی جائے

 

و اللہ اعلم بالصواب

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *