تقوی کسے کہتے ہیں؟

تقوی کسے کہتے ہیں ؟

از قلم ۔ شبیر ندوی

 

گذشتہ تحریر میں، میں نے روزہ اور اس کے بنیادی مقصد تقوی پر کچھ تحریرکیا تھا لیکن تقوی اپنے معانی و مطالب کے لیٸے وضاحتی بیان چاہتاہے ۔ تو آٸیے قرآن و احادیث کی روشنی میں لفظ تقوی اور اس کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

قارئین کرام : عربی زبان میں وقی یقی کے معنے ہیں کسی شیٸ کے ضرر سے اپنے آپ کو بچانا ۔ اور اسی سے ہے اتقا ٕ جو قرآن مجید میں کٸی معنوں میں استعمال ہے

* جس چیز سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اس سے بچنا ۔ مثلا : ” إلا أن تتقوا منھم تقة “ ( آل عمران ٢٨ ) مگر یہ کہ تم ان سے بچو جیسا کہ بچنا چاہیٸے ۔

* کسی آفت و بلا سے ڈرنا مثلا : ” واتقوا فتنة لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصة “ (الانفال ٢٥ ) اس فتنہ سے ڈرو جو تم میں خاص طور پر انہی لوگوں کو نہیں پکڑیگا جنہوں نے ظلم کیا ہوگا ( مطلب اللہ کا عذاب خاص یعنی مجرم کی وجہ سے عام یعنی غیر مجرم بھی پکڑیں جاٸیں گے )

* نفس ، زبان ، ہاتھ پاٶں ان تمام چیزوں کو نافرمانیوں سے بچانا ۔ مثلا : ” الحج أشھر معلومات ، فمن فرض فیھن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج وما تفعلوا من خیر یعلمہ اللہ وتزودوا فإن خیر الزاد التقوی “ (البقرة ١٩٧ ) ترجمہ کی ضرورت نہیں ۔ مطلب حج کے سفر کے لیٸے جو لوگ نکلیں ان کے لیٸے ضروری ہیکہ اپنے نفس کو شہوت سے ، زبان کو گالی گلوج اور بدگوٸی سے اور ہاتھ پاٶں کو جنگ و جدال سے محفوظ رکھیں ۔ ان تمام باتوں سے محفوظ رہنے کو تقوی قرار دیا اور اس تقوی کو بہترین زاد راہ سے تعبیر فرمایا ۔

* حدود الہی پر قاٸم رہنے کو تقوی سے تعبیر کرنا ۔ مثلا : ” ولا یجرمنکم شنآن قوم علی ألا تعدلوا إعدلوا ھو أقرب للتقوی “ ( الماٸدة ٨ )کسی قوم کا بغض تمہیں اس بات پر نہ اکساٸے کہ تم اسکے بارے میں عدل سے ہٹ جاٶ عدل پر قاٸم رہو یہی بات تقوی سے زیادہ اقرب ہے ۔

* اللہ تعالی کی تمام منہیات اور عمومی تمام معصیات سے بچنا ۔ مثلا : ” إن تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا ویکفر عنکم سیآتکم “ ( الانفال ٢٩ ) اگر تم اللہ تعالی سے ڈروگے تو اللہ تم کو حق و باطل کا امتیاز بخشےگا اور تمہارے گناہوں کو دور کریگا ۔

محترم قارٸین : ان تمام قرآنی آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہیکہ متقی وہ شخص ہے جس کے دل میں خدا کی تعظیم اور اسکے غضب کا اندیشہ ہو اور وہ خدا کے قاٸم کیٸے ہوٸے حدود کو توڑنے ، اسکے عہد و میثاق کی خلاف ورزی کرنے اور اسکی امانتوں میں خیانت کرنے سے ڈرتا ہو ۔

اب آٸیے : احادیث کی روشنی میں تقوی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

بخاری و مسلم کی ایک حدیث ہے جسکے راوی نعمان بن بشیر ہیں طول نہ دیتے ہوٸے متن حدیث کو ذکر نہیں کیا جاسکتا جسکا ترجمہ یہ ہیکہ ” اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال واضح ہے اورحرام بھی واضح ہے اور انکے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں جنکو اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں ۔ جو ان مشتبہ چیزوں سے بچا وہ اپنے دین اور آبرو کو بچا لے گیا ۔ اور جو شبہات میں پڑا وہ حرام میں مبتلا ہوا ، جس طرح وہ چرواہا جو چراگاہ کے پاس اپنا گلہ چراتا ہے غالب گمان ہیکہ اس کا گلہ چراگاہ میں پڑ جاٸے اور اللہ کا محفوظ علاقہ (چراگاہ ) اسکے محارم ہیں ۔

دوسری حدیث حضرت ابو ھریرہ راوی ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون مجھ سے یہ باتیں لیکر عمل کرے گا یا عمل کرنےوالے کو سکھاٸے گا ۔ میں نے عرض کیا میں یا رسول اللہ : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور پانچ باتیں گن کر بتاٸیں ۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ تھی کہ حرام چیزوں سے پرہیز کر سب سے بڑے عابد بن جاٶ گے ۔

تقوی میں اصل شیٸ جسکا اہتمام مطلوب ہے وہ محرمات و مشتبہات سے اجتناب ہے ۔ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے تقوی کے استفسار پر ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کیا آپ کبھی خار دار کانٹوں کے بیچ سے گذرے ہیں تو حضرت عمر نے فرمایا کیوں نہیں تو حضرت ابی بن کعب نے فرمایا اس وقت آپ کا عمل کیا ہوتا ہے ؟ تو فرمایا کہ میں اپنے پورے کپڑے کو سمیٹ کر چلتا ہوں کہ کہیں میرا دامن ان کانٹوں میں الجھ نہ جاٸے تو حضرت ابی بن کعب نے فرمایا بس یہی تقوی ہے ۔ (مسلم )

قارئین : تقوی کا اصل مرکز دل ہے ۔ البتہ اسکا اظہار جسم کے مختلف حصے سے مختلف اعمال کے ذریعہ ہوتا ہے ۔ جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوٸے فرمایا ” التقوی ھھنا ، التقوی ھھنا ، التقوی ھھنا “ مطلب تقوی یہاں ہے ۔

الغرض یہ کہ تقوی اصل میں اللہ تعالی سے خوف و رجا کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے مطابق محرمات و مشتبہات اور تمام ممنوعات سے بچنے کا نام ہے ۔

اخیر میں اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کہ یا اللہ تمام روزے کو پورے اہتمام کے ساتھ رکھنے کی توفیق نصیب عطا فرما اور روزے کا بنیادی مقصد تقوی کے اعلی معیار پر پہنچنے کی بھی توفیق نصیب عطا فرما ۔

وما علینا الا البلاغ ۔

دعا کا طالب

شبیر ندوی

سرپرست نداٸے حق ویلفیٸر سوساٸٹی پتھراہا ارریہ بہار

6394004292

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *