رمضان کا روزہ اور معذوروں کا حکم

رمضان کا روزہ اور معذوروں کا حکم

محمد ذبیح اللہ عبد الرﺅف التیمی

6200592456

اسلام دنیا کے سابقہ مذاہب میں سب سے بہتر و برتر،افضل و اعلی اور معتدل ومتوسط مذہب ہے ۔اس میں نہ تشدد و تکلف ہے اور نہ تساہل وتغافل ۔بلکہ دونوں کے بیچ بیچ کی راہ کا نام اسلام ہے۔جس پرعمل کرنانہایت آسان و سہل ہے۔اس مذہب میں ہر شخص کو اس کی وسعت و قدرت اور طاقت و قوت کے مطابق دین کا مکلف بنایا گیاہے۔نہ کسی کو تنگی وحرج میں مبتلا کیاگیا ہے اور نہ کسی کو تکلیف وپریشانی میں ڈالا گیا ہے۔ہر ایک کو اس کی جسمانی اور مالی قوت و طاقت کے حساب سے اسلامی احکام و مسائل پر عمل کرنا واجب قرار دیا گیاہے۔قرآن و حدیث میں اس بابت بہت سی دلیلیں وارد ہوئی ہیں۔اللہ تعالی نے اس امت کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے فرمایا:”وجعلناکم امةوسطا“(سورہبقرہ:143)اور تم لوگوں کو معتدل امت بنایا۔اور دوسری جگہ بیان فرمایا:”لایکلف اللہ نفسا الاوسعھا“(آل عمران:286)اللہ تعالی نے کسی نفس کو مکلف نہیں بنایا ہے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔اور نبی ﷺ نے فرمایا:”الدین یسر“(بخاری)دین آسان ہے۔شریعت کی یہ آسانی اور سہولت ہرایک عبادت کے لئے ہے۔

رمضان کاروزہ جو سال میں صرف ایک ماہ کے لئے فرض کیا گیا ہے اور ہر ایک بالغ،عاقل اورصحت مند مرد و زن مسلمان کے لئے اس کا رکھنا واجب کیا گیا ہے اس میں بھی معذوروں کوسہولت وآسانی دی گئی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:اے ایمان والوتم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح سے تم سے پہلے کے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے،تاکہ تم پرہیزگار بن جاﺅ۔گنتی کے چند دن ہیں۔لیکن تم میں سے جو بیمار ہویا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی کو پورا کرلے ،اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں(بقرہ:183) رمضان کے مقدس مہینے میں جن معذوروں کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت دی گئی ہے منجملہ طور ان کی چار قسمیں ہیں؛

(1)پہلی قسم مریض:مریض شخص کو رمضان کے روزے نہ رکھنے کی رخصت دی گئی ہے ۔لیکن مرض کی کمی وزیادتی کے حساب سے اس کے اوپر عائد ہونے والے احکام مختلف ہیں ۔اگر مرض وقتی ہے اور روزہ رکھنے سے اس کے مرض میں اضانہ کا امکان ہے تو ایسا شخص روزہ نہیں رکھے گااور دوسرے دنوں میں اس کی قضا کرے گا۔اللہ تعالی نے فرمایا :”جوشخص بیمار ہویا سفر میں ہوتووہ دوسرے دنوں میں گنتی کو پورا کرلے “۔یعنی دوسرے دنوں میں اس کی قضا کرلے ۔اور اگر مرض دائمی ہے اوراس سے شفایابی کی امیدنہیں ہے تو ایسے مریض کے لئے ہردن کے روزہ کے بدلے بطور فدیہ ایک مسکین کو ایک وقت کا کھانا کھلانا یا آدھا صاع(تقریبا سواکیلواناج)دینا ضروری ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا:”اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہیں وہ فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلائیں“۔اسی طرح سے اگرکوئی شخص عمردرازی کی وجہ سے اتنا کمزور و لاغر ہے کہ روزہ برداشت نہیں کرسکتاتو اس شخص کا بھی حکم دائمی مریض کا حکم ہے۔

(2)مسافر :جن لوگوں کو رمضان کے فرض روزے چھوڑدینا مباح قرار دیاگیا ہے کہ ان کی دوسری قسم مسافر ہے ۔اللہ تعالی نے حالت سفر میں روزہ چھوڑدینے کی رخصت دی ہے ۔فرمایا :”فمن کان منکم مریضا اوعلی سفر فعدة من ایام اخر“تم میں سے جو بیمار ہویا سفر پر ہوتو اسے دوسرے دنوں میں قضا کرناچاہیئے ۔مسافر کے لئے روزہ چھوڑنے کی دوشرطیں ہیں ؛ایک یہ کہ سفر کی مسافت اتنی ہوجس میں نمازکا قصر کرنا جائز ہو۔دوسری شرط یہ ہے کہ سفر کو روزہ چھوڑنے کا حیلہ وبہانہ نہ بنائے ۔ایساکرنا شریعت کی نگاہ میں حرام ہے۔اگرکوئی شخص بلاضروت خاص کے سفر میں اس لئے رہتاہے کہ روزہ رکھنے سے بچ جائے تو یہ ناجائزہے۔

(3)تیسری قسم حیض ونفاس والی عورتیں:حیض ونفاس کی حالت میں نماز اور روزہ دونوں کو چھوڑدینے کا حکم ہے ۔اگر کوئی عورت اس حالت میں روزہ رکھنا بھی چاہے تو اس کا روزہ نہیں ہوگا بلکہ الٹا وہ گناہ گار ہوگی ۔کیونکہ ان دونوں حالتوں میں اللہ تعالی نے عبادت نہ کرنے کی چھوٹ دینے کے ساتھ ساتھ نماز و روزہ کو حرام بھی قرار دیاہے۔کیونکہ یہ ناپاکی حالتیں ہیں اور ناپاکی میں نماز وروزہ ممنوع ہیں۔لیکن حیض و نفاس کے دنوں کی نمازیں معاف ہیں جبکہ روزے کودوسرے دنوں میں رکھنا ضروری ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:کیاایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے (بخاری:1951)اور سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم لوگوں کو روزوں کی قضا کرنے کا حکم دیا جاتاتھا (69\335)۔

(4)چوتھی قسم حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں :رمضان کے پاک ومقدس مہینے میں جن لوگوں کو روزے کو ترک کرکے دوسرے دنوں میں قضاکرنے کی چھوٹ دی گئی ہے ان میں حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں بھی ہیں ۔اگر حاملہ عورت کو روزہ رکھنے سے حمل کو نقصان پہنچنے کاخوف واندیشہ ہوتواس کے لئے رمضان کے روزہ کو چھوڑدیناشریعت نے مباح قرار دیا ہے۔لیکن اسکے لئے وضع حمل کے بعد چھوٹے ہوئے دنوں کے روزے کا رکھنا ضروری ہے ۔اسی طرح دودھ پلانے والی عورتوں کو بھی روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ دی گئی ہے اس شرط کے ساتھ کہ روزہ رکھنے سے اس کے گود میں پل رہے بچے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو بایں طور کہ روزہ رکھنے سے دودھ کی مقدار کم ہوجائے اور بچے کا پیٹ نہ بھر پائے اواگرر ایسا نہیں ہوتاہے تو پھر دودھ پلانے والی کو بلاوجہ روزہ ترک کرنے کی اجازت نہیں ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالی نے مسافر سے آدھی نماز اور روزہ معاف کردیاہے اور دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت سے بھی روزہ معاف کردیاہے(ابوداﺅد:2107)۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *