جب حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت روزہ چھوڑ دے ،تو وہ قضا کرے گی یا مسکین کو کھانا کھلائے گی؟

جب حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت روزہ چھوڑ دے ،تو وہ قضا کرے گی یا مسکین کو کھانا کھلائے گی؟

 

✒️: ابو عفراء سراجی

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

 

اس مسئلہ میں فقہاء کے مابین اختلاف واقع ہے۔البتہ مسکین کو کھانا کھلانے اور روزہ قضا کرنے کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:

پہلی صورت :اگر دونوں یعنی حاملہ اور مرضعہ اپنی جسمانی کمزوری کی وجہ سے صحت کے متاثر ہونے کا خدشہ محسوس کریں تو وہ صرف قضا کریں گی اس پر مستزاد کچھ نہیں۔

دوسری صورت: اگر دونوں اپنے بچے پر خوف کھاتے ہوئے روزہ چھوڑ دیں تو قضا کے ساتھ مسکین کو کھانا کھلائیں گی ۔اس صورت میں قضا کا مسئلہ تو بالکل واضح ہے کیوں کہ دونوں نے روزہ چھوڑا ہے، اوررہی بات مسکین کو کھانے کھلانے کی تو وہ دوسرے کی مصلحت کی وجہ سےہے۔

تیسری صورت: اگر دونوں اپنے نفس یا جنین اور بچے پر خوف محسوس کرتے ہوئے روزہ چھوڑدیں تو ان پر صرف چھوٹے ہوئے روزے کی قضا ہے۔اس صورت میں فقہاء کےچاراقوال ہیں جو مندرجہ دیل ہیں:۔

پہلا قول:اگر روزہ جنین یا بچے کی مصلحت کے پیش نظر چھوٹا ہے تو ایسی صورت میں صرف قضا واجب ہے۔

دوسرا قول: جنین یا بچے کی وجہ سے روزہ چھوٹے یا مرضعہ اور حاملہ کی جسمانی کمزوری کی وجہ سے بہر صورت صرف مسکین کو کھانا کھلانا ہے ،ان پر قضا لازم نہیں ۔ اس قول کے قائلین درج ذیل آثار سے استدلا ل کرتے ہیں :۔

نبی کریم ﷺ کافرمان ہے:«إن الله وضع الصيام عن الحبلى والمرضع». أخرجه الإمام أحمد (4/347)؛ وأبو داود في الصيام/ باب في الصوم في السفر (2408)

ترجمہ:”اللہ تبار ک وتعالى نے حمل والی اور دودھ پلانے والی عورت کا روزہ معاف کردیاہے“۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں:«…والمرضع والحبلى إذا خافتا على أولادهما أفطرتا وأطعمتا».یعنی جب مرضعہ اور حاملہ عورت اپنی اولاد پرخوف پر محسوس کرتی ہو تو دونوں روزہ چھوڑ دیں اور اس کے بدلے ایک مسکین کو ہرروز کھاناکھلائیں۔أخرجه الشافعي (1/266) ؛والدارقطني (2/207) وصححه؛ والبيهقي (4/230) . وصححه في «الإرواء» (4/20)

تیسرا قول: قضا کریں یا مسکین کو کھانے کھلائیں ،دونوں میں وہ مخیرہیں۔

چھوتھا قول: ان پر صرف قضا واجب ہے۔(الشرح الممتع على زاد المستقنع،ص: ۳۴۸-۳۵۰)

مذکورہ مختلف فیہ اقوال ذکرکرنے کے بعد شیخ ابن العثیمین رحمہ اللہ رقمطراز ہیں : میرے نزدیک چوتھا قول سب سے راجح ہے ۔کیوں کہ حاملہ اورمرضعہ مریض اور مسافر کے حکم میں ہیں۔ اس لیے ان پر قضا واجب ہے۔اور رہی بات عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے قضا کے متعلق خاموشی اختیار کرنے کی تو وہ معلوم ہے۔(الشرح الممتع على زاد المستقنع،ص:۳۵۰)

علامہ ابن بازرحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”پیٹ والی اوردودھ پلانےوالی عورت کا حکم مریض کے حکم کی طر ح ہے ۔جب ان پر روزہ رکھنا باعث مشقت ہو ،تو ان کے لیے روزہ چھوڑنا جائزہےاور جب بھی میسر ہو، چھوڑے گیے روزے کی قضا واجب ہے ، جیسے کہ مریض۔بعض اہل علم اس طرف گیے ہیں کہ ان پر ہردن ایک مسکین کو کھانا کھلاناواجب ہے ، جوکہ یہ قول ضعیف اور مرجوح ہے ۔صحیح یہ ہے کہ ان پر مسافر اور مریض کی طرح قضا واجب ہے ، جیساکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے : ”فَمَنْ کَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ“.(سورہ بقرہ:۱۸۴) ترجمہ: ”تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہیے،ہاں جو بیمارہو یا مسافرہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے“۔(مجموع الفتاوی: ۱۵/۲۲۵)

خلاصہ کلام:

چوتھا قول زیادہ صحیح لگ رہا ہےجس کی طرف علامہ ابن باز اور ابن العثیمین رحمہما اللہ گیے ہیں۔ حاملہ اورمرضعہ کو بوڑھی عورت کے حکم میں نہیں تسلیم کرسکتے کیوں کہ ان کی مشقت وقتی ہے نہ کہ دائمی۔اس لیےجب مشقت ختم ہوجائے تودونوں قضا کریں گی ۔

اللہ ہم سب کو صحیح سمجھ بوجھ عطافرمائے نیز سنت نبوی کو سینے سے لگانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *