اشاعت اسلام اور غلط فہمیوں کا ازالہ

 

……………………………….

سرفرازعالم ابوطلحہ ندوی.

……………………………….

اشاعت ِاسلام کو ہر صاحبِ ایمان کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے اور ہر دور میں اہلِ ایمان نے اپنی بساط بھر اس فریضے کی ادائیگی کی کوشش کی ہے۔جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں اہل ایمان کی تعداد میں تیزی سے اضافے ہوئے ہیں۔ یہی چیز باطل طاقتوں کو کھٹک گئی اور اسلام پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے شروع کر دیئے۔ آج کی ماڈرن سیکولر ریاستوں میں یہ اعتراضات مزید تیز وتند ہوگئی ہے۔انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے۔لیکن اسلام کی تاریخ پر نظر رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے یہ جاننا مشکل نہیں کہ اسلام کی اشاعت تلوار کے زور پر ہرگز نہیں ہوئی۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اس کی تبلیغ و اشاعت کے لیے پابند ضرور کیا ہے لیکن اس کے مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو تلوار کے زور پرمسلمان بنایا گیا ہے۔

اشاعت اسلام کے معنی تو یہ ہیں کہ تمام دنیا کو اسلام کی دعوت دی جائے اور لوگوں کو اصول اور مسائل سمجھا کر اسلام کی طرف راغب کیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جس ملک پر فوج کشی کرتے توسپہ سالار کو تاکید کرتے کہ پہلے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جائے اور اسلام کے اصول وعقائد سمجھائے جائیں۔ اگر اس کے لیے وہ تیار ہو جائیں تو فبہا،ورنہ انہیں جزیہ دینے پر آمادہ کیا جائے۔اگر اس پر بھی تیار نہ ہوں تو ہی جنگ شروع کی جائے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ حضرت عمرکا طریقہ رہا ہے کہ وہ فوج پر ایسے سپہ سالار مقرر کرتے جو صاحبِ علم وفقہ ہوتے۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ فوجی افسروں کے لیے علم و فقہ کی ضرورت اسی تبلیغ اسلام کے مقصد سے ضروری سمجھی گئی تھی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ایرانیوں اور عیسائیوں کی بازنطینی ریاستوں کے پاس جو اسلامی سفارتیں بھیجی گئیں،ان کو بھی اسلام کی دعوت پیش کرنے کے مقصد کو سب سے مقدم رکھنے کو کہا گیا تھا اور تاریخ گواہ ہے کہ ان سفارت کاروں نے بڑی خوبی اور صفائی سے اسلام کے اصول و عقائد ان کے سامنے بیان کئے تھے۔

اشاعت اسلام کی بڑی تدبیر یہ ہے کہ غیرمسلم ا قوام کے سامنے اسلام کاعملی نمونہ پیش کیا جائے۔ اگر ایسا ہوجائے تو خود بخود لوگوں کے دلوں میں اسلام کی حقانیت گھر کرجائے گی اور لوگ اس کی طرف راغب ہوجائیں گے۔ اسلام کی آغوش میں پناہ لے کر وہ اس کی برکتوں سے مستفیض ہوکراللہ پاک کے سچے بندے بننے پر مجبور ہوجائیں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اسلام کثرت سے پھیلا تو اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ انھوں نے اپنی تربیت اور ارشاد سے تمام مسلمانوں کو اسلام کا اصلی نمونہ بنا کر پیش کردیا تھا۔ اسلامی فوجیں جس ملک میں جاتی تھیں، لوگوں کے دلوں میں بغیر کسی وجہ کے ان کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوجاتا تھا، کیونکہ چند بادیہ نشینوں کا دنیا کی تسخیر کے لیے اٹھنا ان کے لیے حیرت واستعجاب سے خالی نہ تھا۔ اس طرح جب لوگوں کو انہیں دیکھنے اور ان سے ملنے کا اتفاق ہوتا تھاتو وہ پاتے تھے کہ ایک ایک مسلمان سچائی، سادگی، پاکیزگی، جوش اور اخلاص کی تصویر نظر آتا۔ یہ چیز لوگوں کے دلوں کو کھینچتی تھی اور اسلام ان کے قلب میں گھر کر جاتا تھا۔صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اسلام کی سربلندی کے لئے اپنا تن دھن من سب کچھ قربان کر چکے تھے، انہوں نے راہ حق میں اپنی ہر چیزلٹا دی تھی۔ اپنی جائیداد تک کی پرواہ کبھی نہ کی اورکسی طرح کاخوف کئے بغیر راہ حق میں اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے۔ یہی وجہ تھی کہ ان سے اللہ پاک نے ان کی رضامندی خرید لی تھی اوراللہ پاک نے ان کو اپنی خوشنودی کی خوشخبری سنادی تھی۔قرآن نے ان کے بارے میں اللہ رب العالمین کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ‘ یعنی اللہ ان سے راضی ہوگیاتھا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے تھے۔

اسلام کی نشر واشاعت کا کام نہایت ہی اعلی و ارفع ہے۔ اشاعت اسلام حکمت ودانائی اور عقل و شعور کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ سلف صالحین کے ہاتھوں اسلام کی نشر واشاعت کا کام بہت ہی مناسب طریقے سے ہوا ہے۔ فتوحات کے معاملے میں بھی ان کا رویہ بہت عادلانہ ومنصفانہ ہوتا۔یہاں تک کہ ان کے فیصلے بھی انصاف پرمبنی ہوتے،چاہے وہ اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ان کے اخلاق، دین، تقوی اور استقامت کے رنگ میں رنگے ہوتے۔ جسے دیکھ کر غیر قومیں اسلام کی آغوش میں سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوجاتیں۔ اس سے اسلام کی نشر واشاعت کو بڑی تقویت ملی۔ وہ لوگ اپنی تگ و دو اورمحنت و استقامت کے ذریعے اسلام کی تعلیمات کو پورے عالم میں پھیلانے کی ٹھان چکے تھے۔ان کے اندر یہ اولوالعزمی اس لیے آئی تھی کہ وہ اسلام کوکلی طورپرسرچشمئہ حق تسلیم کرتے تھے اور یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اسلام ایک مکمّل نظام حیات ہے۔انسان کی زندگی میں اسلام داخل کرنے کے لئے ضروری ہے مذکورہ باتوں کو حرزِ جان سمجھ کرانہیں ہمیشہ سامنے رکھا جائے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کی سربلندی کے لیے ہم صحابئہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقے کو اپنائیں اور لوگوں کو اسلام کی شفاف تعلیمات سے آگاہ کریں۔ اچھے،امن پسنداور انسانیت دوست افرادکو صحیح اور خیر پسندی کی راہ پر لانے کی بھر پور کوشش کی جائے۔ اس سلسلے میں اسلام کی جو تعلیمات ہیں، ان تک انہیں پہنچایا جائے۔ کیونکہ اشاعت اسلام کا اہم ترین مقصد ہی ہے ساری انسانیت کو فلاح و بہبود کی جانب گامزن کرنا۔ ان کو انسانیت کی ڈگر پر چلانا ہی اشاعت اسلام کا عظیم مقصد ہے۔ اسلام کی اصل صلاح و فلاح کا تعلق آخرت کی زندگی پر منحصر ہے، اس زندگی کی کامیابی کو حاصل کرنے کے لئے اشاعت اسلام لازم ہے۔ اسلام کا معنی ہی ہے اپنے آپ کو سپرد کر دینا۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان اپنی زندگی کے اطوار و اخلاق کو اپنے خالق حقیقی کی مرضی کے مطابق بنائے اور اسلام کی ہمہ گیریت کے لئے اپنے آپ کو کھپا دے،یہ اشاعت اسلام کا اعلی طریقہ ہے۔ اسلام کی ترویج انہیں لوگوں کو سونپی گئی ہے جو اپنے کو صلاح و فلاح کے مطابق بنانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس کے مطابق بنانے کی فکر کریں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ جو مناسب اور موزوں تدابیر ہیں وہ اختیار کریں۔ان تدابیر کی ایک ترتیب رکھی گئی ہے، اس ترتیب کا لحاظ رکھ کر تبلیغ کا کام کیا جائے تو آسانیاں پیدا ہوں گی۔

اس ترتیب کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ جو لوگ ناواقف ہیں، ان کو شفقت و محبت کے ساتھ اسلام کی تعلیمات سے واقف کرایا جائے، اسی کا نام’دعوت اسلامی‘ ہے۔ اس رو سے ہر مسلمان کی حیثیت داعی کی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کی ایک وقیع تعداد اس کام پر مامور ہوں۔ ایسی ذمہ داری کی انجام دہی اللہ تعالیٰ کو محبوب و مطلوب ہے، کیونکہ وہ انسانیت کی بھلا ئی دیکھنا چاہتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ اسلام کی اشاعت جبر وتشدد سے نہیں بلکہ افہام و تفہیم سے عبارت ہے۔ یہ کام اللہ کی نظر میں نہ صرف یہ کہ ضروری ہے بلکہ اس کی رحمت و شفقت کو کھینچنے والا بھی ہے۔ اگرمسلمانوں کی جماعت میں سے کوئی بھی شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام نہ کرے توسبھی ماخوذ ہوں گے اور یہ کوتاہی انسانوں پر اللہ کے عتاب کا سبب بنے گی۔ تاریخ شاہد ہے کہ جہاں اس سلسلے میں سستی وکاہلی برتی گئی تو اللہ کا عتاب ان سب پر نازل ہونا شروع ہوگیا۔ ان پر ناراضگی کے اثرات ظاہر ہوئے اور مصائب کے آلام ٹوٹ پڑے۔

دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ دعوت کے کام میں یعنی افہام و تفہیم اور حکمت و موعظت کے ساتھ اشاعت اسلام کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کی جائیں تو ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے جو بھی معقول طریقے ہیں ان کو اختیارکیا جائے۔ اللہ پاک نے ان طریقوں کو اختیار کرنے کی اجازت دی ہے مگر، عدل کے ساتھ۔

اگر اس ترتیب کے ساتھ اشاعت اسلام کے مراحل کو طے کیا جائے تو حق کی باتوں کو انسانوں کی درمیان پھیلانے میں زیادہ دقت پیش نہیں آئے گی۔صلاح و فلاح کے طریقوں کو لوگوں کو بتاکر ان کی زندگی کو راہ راست پر لایا جاسکتا ہے۔دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے اور ہم اخروی سرخروئی حاصل کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سبھوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *