رمضان المبارک:رمضان المبارک میں کیے جانے والے افضل اعمال

نویں قسط۔ حصہ دوم

قرآن کریم کی تلاوت کا بکثرت اہتمام کرنا

از قلم :طیبہ شمیم تیمی بنت ابو انس شمیم ادریس سلفی /بابو سلیم پور/ دربہنگہ*

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

گزشتہ قسطوں میں تین افضل اعمال کا ذکر تفصیل کے ساتھ کر چکی ہوں ( 1رمضان المبارک کے روزے رکھنا. 2 تراویح کا اہتمام کرنا. 3 بکثرت توبہ و استغفار کرنا. ) اب آئیے نمبر چار یعنی (قرآن کریم کی تلاوت کا بکثرت اہتمام کرنا) اس کے سلسلے میں میں آپ قارئین کی رہنمائی کرتی ہوں. رمضان المبارک میں کئے جانے والے اعمال میں سب سے افضل اعمال قرآن مجید کی تلاوت کرنا ہے. اس لئے رمضان المبارک میں کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کرنی چاہئے. خود ہمارے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ و سلم بھی رمضان المبارک میں اس کا بہت زیادہ اہتمام کرتے تھے۔ اور رمضان المبارک کی ہر رات حضرت جبرئیل علیہ السلام سے مل کر مدارسہ, دور کرتے یعنی (ایک دوسرے کو قرآن حکیم سناتے اور سنتے جیسے کہ قرآن کریم کے دو حافظ ایک دوسرے کو اپنا آموختہ سناتے ہیں). جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں ہے :”……و كان جبرئيل يلقاه في كل ليلة من رمضان فيدارسه القرآن….. “.اور جبرئیل علیہ السلام رمضان المبارک کی ہر رات میں آپ سے ملتے اور آپ سے قرآن کریم کا دور کرتے تھے.(یعنی دونوں ہستیاں ایک دوسرے کی سنتے اور ایک دوسرے کو سناتے). (بخاری /1902). اور حدیث شریف میں یہ بھی ہے کہ یہ معمول ہر رمضان میں جاری رہا یہاں تک کہ آپ کی وفات یعنی آپ نے جو آخری رمضان پایا تو آپ نے سابقہ معمول کے برعکس دو بار قرآن کریم کا دور و مدارسہ جبرئیل علیہ السلام کی معیت (ساتھ) میں فرمایا. اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہ اللہ علیہم اجمعین بھی اس ماہ میں بہت زیادہ قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام فرماتے تھے. اور اس کثرت سے تلاوت میں مصروف رہتے تھے کہ تین دن میں ہی قرآن کریم ختم کر دیتے تھے.جیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور امام بخاری رحمہ اللہ اور امام قتادہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ سات دنوں میں قرآن مجید ختم کر دیتے تھے. اور امام نخعی کے بارے میں آتا ہے کہ وہ آخرآخری عشرہ میں خاص طور سے قرآن کریم ختم کرنے کا اہتمام کیا کرتے تھے نیز امام مالک کے بارے میں آتا ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم دیتے تھے لیکن رمضان المبارک کے آتے ہی ہر کام چھوڑ کر اکثر اوقات قرآن کریم پڑھنے کے لئے خاص کر دیتے تھے. اور رمضان المبارک کے آتے ہی سفیان ثوری رحمہ اللہ تو حدیث کا مطالعہ اور محدثین کی مجالس چھوڑ کر قرآن مجید کی تلاوت میں منہمک ہو جاتے تھے .اور حضرت زہری کہا کرتے تھے کہ ماہ صیام تلاوت قرآن اور کھانا کھلانے کا نام ہے.

قارئین کرام :لیکن آج ہم عام دن تو دور کی بات ہے رمضان المبارک میں بھی قرآن حکیم پڑھنے کا اہتمام نہیں کرتے ،تو کثرت سے پڑھنے کی بات کون کرے. بعض پڑھتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے بس ڈیوٹی نبھانے کے لئے روز ایک دو رکوع پڑھ لیا اور بعض شروع رمضان میں خوب پڑھنے کا اہتمام کرتے بھی ہیں تو آخر رمضان آتے آتے چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہے :”كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجتهد في العشر الأواخر ما لا يجتهد في غيرها”. کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم عبادت میں جتنی محنت(رمضان کے) آخری عشرے میں کرتے تھے اتنی کبھی نہیں کرتے تھے ( مسلم /1175).اور بعض تو قرآن کریم پڑھتے ہی نہیں. حالانکہ قرآن کریم کی تلاوت کرنا بھی عبادت ہے اور یہی حال ہمارے اسلاف کرام کا تھا یعنی حدیث پر عمل کرتے ہوئے وہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں بہت زیادہ عبادت کرتے تھے. اور خاص کر تلاوت قرآن کا اہتمام کرتے تھے. ہمارا قرآن کریم سے اسی دوری کے باعث علامہ اقبال نے ہمارا مقارنہ ہمارےاسلاف سے کرتے ہوئے یوں فرمایا :

وہ زمانہ میں معزز تھے مسلماں ہو کر .

اور ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم رمضان المبارک میں بکثرت قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کریں اور عام دنوں میں بھی اس پر عمل کرنا نہ چھوڑیں یعنی عام دنوں میں ہم قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کریں ہی البتہ رمضان المبارک میں عام دنوں کے بہ نسبت زیادہ اہتمام کریں جس طرح ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم, صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہ اللہ علیہم اجمعین کیا کرتے تھے. نیز ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن کریم کی تلاوت غور و تدبر کے ساتھ کریں تاکہ ہم قرآن کریم کے مطالب و مفاہیم اور معانی کو بحسن و خوبی سمجھ سکیں. اسلاف کرام کے بارے میں آتا ہے کہ وہ اس طرح غور و تدبر کے ساتھ قرآن عظیم کی تلاوت فرماتے کہ بعض دفعہ ان پر ایسی کیفیت طاری ہوتی کہ وہ ایک ہی آیت بار بار دہراتے اور اللہ کے حضور خوب روتے اور گڑ گڑاتے . اس طرح اگر انسان غور و تدبر سے سنے تو بھی ان پر یہ کیفیت طاری ہو تی ہے. جیسا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا :”اقرء علي “.مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ. تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں آپ کو پڑھ کر سناؤں ؟ حالانکہ آپ پر تو قرآن کریم نازل ہوا ہے. آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”میں اپنے علاوہ کسی اور سے سننا چاہتا ہوں “.چناچہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورہ نساء پڑھنی شروع کر دی جب وہ اس آیت پر پہنچے :”فكيف إذا جئنا من كل امة بشهيد و جئنا بك علي هؤلاء شهيدا “.(اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ حاضر کریں گے اور (اے محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم) ان سب پر آپ کو گواہ بنائیں گے.) (سورہ نساء /41).تو آپ نے فرمایا :”حسبک “بس کرو. حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ “میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی طرف دیکھا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے.(صحیح بخاری /4582).اس لئے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم قرآن شریف غور و خوض اور تدبر کے ساتھ اور اس کے معانی و مفاہیم اور مطالب کو سمجھ کر پڑھیں .میں آپ کو ایک آسان اور بہتر طریقہ بتاتی ہوں اگر آپ اس پر عمل کریں گے تو ان شاء اللہ آپ بھی قرآن کریم کے معانی و مفاہیم اور اس کے مطالب کو بحسن و خوبی سمجھ سکیں گے اور اس پر عمل کر کے دنیا و آخرت دونوں جگہ کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہو سکیں گے .تمام اہل خانہ دوست و احباب اور رشتہ داروں کو اکٹھا کریں اور جو سب سے زیادہ کتاب و سنت کا علم رکھتا ہو وہ ایسی قرآن شریف لے جو تفسیر کے ساتھ ہو اور وہ اس کو سب کے سامنے پڑھے. مثلا پہلے ایک آیت پڑھے پھر اس کا ترجمہ پھر اس کے بعد اس آیت کی تفسیر و تشریح پڑھ کر لوگوں اور تمام اہل خانہ کو سنائیں. پھر ان سے پوچھ لیں کہ انہیں جو پڑھایا اور سمجھایا گیا وہ سمجھ آگیا یا نہیں اور اگر سمجھ گئے تو الحمد للہ ورنہ انہیں اپنے الفاظ اور سہل انداز و طریقہ سے سمجھائیں. اور پورے سال اس پر کم از کم ایک گھنٹہ ضرور عمل کریں اور خاص کر رمضان المبارک میں اس پر زیادہ سے زیادہ وقت دیں کم از کم 3/4گھنٹہ تو ضرور دیں اور زیادہ سے زیادہ آپ جتنا وقت چاہے دیں جتنا ہو سکے پڑھیں اگر ہم تمام مسلمان ایسا کریں گے تو ان شاء اللہ ہر فرد بآسانی قرآن مجید پڑھ اور سمجھ سکتا ہے اور اس پر صحیح طریقے سے عمل کر کے دونوں جہاں میں کامیاب و کامران ہو سکتا ہے. آخر میں اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ اے اللہ تو ہمیں قرآن مجید غور و تدبر کے ساتھ اس کے معانی و مفاہیم اور مطالب کو سمجھ کر بکثرت پڑھنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں اپنے سلف صالحین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما. آمین ثم آمین تقبل یا رب العالمین …..جاری

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *