روزہ کے احکام و مسائل:آخری قسط

 

جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

ابوعفراء سراجی

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

عام دنوں میں اکل وشرب، بیویوں سے ہم بستری کرنا جائز ہے،لیکن یہی چیزیں رمضان المبارک کی آمد کے بعد حرام ہوجاتی ہیں ۔اگر کوئی شخص رمضان المبار ک کے ایام میں کسی فعل یا کسی امر کی بجاوری کرتا ہے ،تو اس کے فساد کا حکم اس وقت تک نہیں لگا سکتے جب تک کہ اس پر صریح وصحیح دلیل وارد نہ ہو جائے، کیوں کہ اس مسئلہ میں اصل ،صحت ہے-

کتاب وسنت میں ایسے دلائل وارد ہوئے ہیں،جن میں روزہ توڑنے والی چیزوں کی تفصیلات موجود ہیں ،جو ذیل کے سطور میں ذکر کیے جائیں گے :۔

۱۔جان بوجھ کر کھانا پینا:

روزہ کی حالت میں عمداًکھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے :”…وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجَرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصَّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ…“.(سورہ بقرہ: ۱۸۷) ترجمہ: ”تم کھاتے یپتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے۔پھر رات تک روزے کو پورا کروہ …“۔

نبی کریم ﷺفرماتےہیں کہ اللہ تعالی کا فرمان گرامی ہے : ”يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي“.(مسند أحمد ،ح: ۱۰۱۷۶) ترجمہ: ”روزہ دار میری رضا کی خاطر کھانا پینا چھو ڑدیتا ہے“۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ رقمطراز ہیں : ”علماء کا اشیاء خورد ونوش کے عمداًکھانے سے روزہ ٹوٹنے پر اجماع ہے،اور رہی بات ان اشیاء کی جو بطور خوراک نہیں استعمال کی جاتیں جیسے سگریٹ نوشی وغیرہ ،تو اس پر بھی عام اہل علم کا اتفاق ہے کہ اس کا کش لگانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے“۔(المغنی : ۳/۳۵۰)

اسی طرح جن چیزوں کے استعمال سے جسم کو تقویت ملتی ہے،جیسےمقوی دوائیں اور انرجی سے بھرپور انجکشن، تو یہ اکل وشرب کے قائم مقام ہے ،لہذا ان اشیا کے لینےسے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔البتہ کسی مرض کی بناپر پٹھے یا نسوں میں انجکشن لگوانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ۔تاہم کسی بھی روزہ دار کےلیے جائز نہیں ہے کہ انرجی والی دوائیں استعمال کرے، کیوں کہ وہ کھانے پینے ہی جیسے ہیں۔(فتاوی اللجنۃ الدائمہ: ۱۰/۲۵۲)

روزہ کی حالت میں انجکشن کی دوقسمیں ہیں :

پہلی قسم: وہ انجکشن جو اکل وشرب کے قائم مقام ہوتا ہے- بایں لحاظ مریض کے کھانے پینے کی متبادل ومقوی دوائیں اور انجکشن استعمال کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔

دوسری قسم: وہ انجکشن جو بطور اکل وشرب نہیں لیا جاتا بلکہ وہ علاج ومعالجہ کے لیے اور جسمانی مرض کو ختم کرنے کی خاطر استعمال میں آتا ہے تو یہ روزہ پراثر انداز نہیں ہوتا ،اور رہی بات خون کا جسم میں ٹرانفسرکروانا، تو اس سے روزہ فاسد ہوجاتاہے۔

۲۔جماع کرنا:

بحالت روزہ اپنی بیویوں سے ہمبستری کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس پر شرعی کفارہ واجب ہے۔تاہم رمضان المبارک کی راتوں میں مباشرت اور جماع کرنا جائز ہے ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:”أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ…“۔(سورہ بقرہ : ۱۸۷)

ترجمہ:”روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے تمہارے لیے ملنا حلال کیا گیا ، وہ تمہارا لباس ہے اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیدہ خیانتوں کا اللہ کو علم ہے، اس نے تمہار ی توبہ قبول فرماکر تم سے درگزر فرمالیا“۔

۳۔ منی کا بوس کنار سے خارج ہونا:

جب منی بوس وکنار یاکسی شہوت انگیز چیز پر نظر ٹکانے یا استمنا بالید(مشت زنی) سے خارج ہوجائے ، تو روزہ فاسد ہوجاتا ہے ، ایسی صورت میں روزہ کی قضا واجب ہے اور کچھ نہیں ۔

جب “اللحنۃ الدائمہ “سے استمنا بالید سے متعلق دریافت کیاگیا ، تو انہوں نے فرمایا کہ جو شخص ایسا روزہ کی حالت میں کرلے ،تو چاہیے کہ وہ توبہ کرے اور اس دن کے روزہ کی قضا کرے ، کیوں کہ کفارہ صرف جماع کرنے پر ہے ۔(مجموع فتاوی ورسا ئل ابن عثیمین:۱۹/۱۷۴)

۴۔ قےکرنا:

جان بوجھ کر قےکرنے سےروزہ فاسد ہوجاتاہے لیکن غیرارادی طور پر قے آنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔نبی کریم ﷺکا فرمان ہے: ”مَنِ اسْتِقَاءَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، وَمَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ“.(سنن أبی داود،ح: ۲۳۸۰،سنن ترمذی،ح:۷۲۰)

ترجمہ:”جس نے جان بوجھ کرقے کیا اس پر قضا ہے اور جسے قےغیر ارادی طور پر آجائے اس پر قضا نہیں ہے“۔

۵۔سینگی لگوانا:

یہ مختلف فیہ مسائل میں سے ہےجس میں اہل علم کے دواقوال ہیں:

پہلاقول: جمہور اہل علم اس بات کی طرف گیے ہیں کہ سینگی یعنی پچھنے لگوانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ۔اس کے قائلین درج ذیل روایات سے استدلال کرتے ہیں ۔

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ”احْتَجَمَ النَّبِيُّ ﷺ وَهُوَ صَائِمٌ“.(صحيح البخاري، كتاب الصوم،باب الحجامة والقيء للصائم،ح:1939) ترجمہ:”نبی کریم ﷺ نے بحالت روزہ سینگی لگوائی “۔

ثابت بن البنانی فرماتے ہیں:عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: ”کیا آپ روزہ دار کے لیے سینگی لگوانے کو ناپسند کرتے ہیں ؟ فرمایا : نہیں ، مگر کمزوری کی وجہ سے“۔(صحيح البخاري،كتاب الصوم،باب الحجامة والقيء للصائم،ح:1940)

متذکرہ بالا روایات کے علاوہ اور بھی روایات ہیں جن سے اس کے قائلین استدلال کرتے ہیں۔

دوسراقول: سینگی لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے۔امام احمدبن حنبل، ابن تیمیہ اور ابن القیم رحمہم اللہ اسی کے قائل ہیں۔دلیل میں شداد بن اوس کی حدیث اور اس جیسی دیگر احادیث سے استدلال کرتے ہیں۔

نبی کریم کا فرمان ہے:”أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ“.(سنن أبي داود،كتاب الصوم،باب: في الصائم يحتجم،ح:2369) ترجمہ:”سینگی لگانے والے اور سینگی لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا“۔

شيخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: ‘پچھنا لگانے کی وجہ سے روزہ توڑنے میں حکمت ہے۔ رہی بات سینگی لگوانے والےکی تو اس کی حکمت یہ ہےکہ سینگی لگوانے سے جوخون نکلتا ہے اس کی وجہ سے اس کا جسم کمزور ہوجاتاہے اوراس حالت میں جسم متوازن غذا کا تقاضہ کاکرتا ہے تاکہ اس کی قوت وتوانائی پھر سے عودکرآسکے۔اگر سینگی لگوانے والا جسمانی کمزوری کے باوجود پورا دن روزہ برداشت کرے تومستقبل میں امکان ہےکہ اس کی صحت پر برے اثرات مرتب ہوں۔بنابریں حکمت کا تقاضہ ہے کہ وہ پچھنا لگوانے کے سبب اس دن کا روزہ چھوڑدے۔بایں لحاظ بحالت روزہ پوچھنا لگوانا جائز نہیں ہے مگر ضرورت کے پیش نظر۔جب ضرورت کے پیش نظر سینگی لگوانا جائز ہے تو ضرورت کے پیش نظر روزہ چھوڑنا بھی جائزہے۔جب روزہ چھوڑنا جائز ہے تو کھاناپینا بھی جائز ہے ۔اس لیے ہم کہتے ہیں : (ضرورت کے پیش نظر)سینگی لگواؤاور کھاؤ پیو تاکہ تمہاری قوت وتوانائی عود کرآسکے،اورتم ضعف ونا توانائی کی وجہ سے متوقع مرض سے محفوظ رہ سکو۔ اوررہی بات نفلی روزہ کی تو اس میں سینگی لگوانے میں کوئی حرج نہیں ۔کیوں کہ نفلی صائم بغیر عذر کے روزہ چھوڑ سکتا ہے ، لیکن بغیر صحیح وجہ کے نفلی روزہ چھوڑنا مکروہ ہے‘۔ (الشرح المقنع على زاد المستقنع ۶/۳۸۱)

اس مسئلہ میں اہل علم کے دونوں پہلو مع دلائل آپ نے پڑھا۔دونوں کے الگ الگ دلائل ہیں ۔البتہ اس میں شیخ الإسلام ابن تیمیہ کا قول لائق اعتناء ہے جو کہ حکمت ومصلحت کے عین موافق ہے۔بایں طور بحالت روزہ سینگی لگوانے سے گریز کرنا افضل اور احوط ہے۔

۶۔حیض اور نفاس کا خون خارج ہونا:

حیض اور نفاس کا خون خارج ہونے سے روزہ فاسد ہوجاتاہےگرچہ سورج غروب ہونے سے چند لمحہ پہلے کیوں نہ خارج ہوا ہو۔اسی طرح اگر خون فجر کے بعد منقطع ہوتو بھی روزہ صحیح نہیں ہوگا بلکہ ان پر قضا واجب ہوگی۔عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:«كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ، وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

ترجمہ:”ہمیں عہد نبوی ﷺمیں ماہ واری آتی تھی ،توہمیں روزہ کی قضا کا حکم دیا جاتا اور نمازکی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا“۔

 

اللہ ہم سب کو دین کی صحیح سوجھ بوجھ عطا فرمائے- آمین یارب العالمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *