رمضان المبارک:رمضان المبارک میں کیے جانے والے افضل اعمال

نویں قسط۔ حصہ پنجم

اعتکاف کرنا

 

از قلم :طیبہ شمیم تیمی بنت ابو انس شمیم ادریس سلفی /بابو سلیم پور/ دربہنگہ*.

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عزیز قارئین : الحمد للہ. چھ عظیم و افضل اعمال کا ذکر ہو چکا ہے 1.روزہ.2.تراویح.3.توبہ و استغفار. 4.قرآن کریم کی تلاوت 5.صدقہ و خیرات اور6.نفل نمازوں کا اہتمام کرنا. اب آئیے ساتویں عمل یعنی اعتکاف کے بارے میں جانتے ہیں. یوں تو پورا ماہ رمضان بہت اہمیت کا حامل ہے لیکن ماہ رمضان کے آخری عشرہ کی انتہائی فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہے .اس لئے اس میں بکثرت عبادت اور زیادہ سے زیادہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے. ہمارے پیارے محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم بھی اس آخری عشرہ میں عبادت میں خوب محنت کرتے تھے. جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے :”کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یجتھد فی العشر الاواخر ما لا یجتھد فی غیرھا ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم عبادت میں جتنی محنت آخری عشرے میں کرتے تھے اتنی کبھی نہیں کرتے تھے. (مسلم/1175).اور دوسری روایت میں ہے کہ “أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا دخل العشر احيا ليله, و أيقظ أهله, و شد مئزره “. جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم رات بھر جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے, اور کمر بستہ ہو کر خوب عبادت کرتے. (بخاری /2024/ومسلم/1174).اس لئے ہمیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہئے. اور کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہمارا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہو. اور اگر ہم صحیح معنوں میں آخری عشرہ کو ضائع نہیں کرنا چاہتے اور اس سے بھر پور استفادہ کرنا چاہتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت و ریاضت کر کے تو اس کا سب سے بہتر شکل یہ ہے کہ ہم اس عشرہ کو اعتکاف میں گزاریں. تاکہ ہم اس ایام کا ایک لمحہ ضائع کئے بغیر ان سے بھر پور استفادہ کر سکیں.

معزز قارئین :اعتکاف لغت میں ٹھہر جانے, بند رہنے, رکے رہنے اور کسی شئی کو لازم پکڑ لینے کو کہتے ہیں. (المنجد /575). اور شریعت میں اعتکاف ایک خاص کیفیت سے کسی شخص کا (عبادت کی غرض سے) مسجد میں خود کو روک لینے کو کہتے ہیں. (سبل السلام /2/909).اعتکاف سنت ہے. اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے. جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:” كان النبي صلى الله عليه وسلم يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتي توفاه الله, ثم اعتكف ازواجه من بعده “. یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو فوت کر دیا. پھر آپ کے بعد آپ کی بیویاں اعتکاف بیٹھنے لگیں. (بخاری /2026/مسلم/1172).اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (کان رسول اللہ يعتكف العشر الأواخر من رمضان). یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے. (بخاری /2025/ومسلم/1171). اگر کسی کے لئے آسانی ہو تو بیس دن بھی اعتکاف میں بیٹھ سکتا ہے. جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :”كان النبي صلى الله عليه وسلم يعتكف في كل رمضان عشره أيام, فلما كان العام الذي قبض فيه اعتكف عشرين يوما”.نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف میں بیٹھتے تھے. پھر جب وہ سال آیا جس میں آپ فوت ہوئے تو اس میں بیس دن اعتکاف بیٹھے .(بخاری /2044).اور اعتکاف صرف مسجد میں ہی کیا جا سکتا ہے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :”و انتم عاکفون فی المساجد”.اور تم مساجد میں اعتکاف کرنے والے ہو. (سورہ بقرہ /157).اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ “انھا کانت ترجل النبی صلی اللہ علیہ و سلم و ھی حائض و ھو معتکف فی المسجد “.کہ وہ ایام ماہواری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی مانگ نکالا کرتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم مسجد میں اعتکاف بیٹھے ہوتے. (بخاری /2029/ومسلم /297).راجح قول کے مطابق اعتکاف تمام مساجد میں جائز اور درست ہے :کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :ولا تباشرھن و انتم عاکفون فی المساجد “.عورتوں سے اس وقت مباشرت مت کرو جبکہ تم مسجدوں میں اعتکاف میں ہو. (سورہ بقرہ /187).اس میں کسی مسجد کی تخصیص نہیں بلکہ اس میں تمام مساجد شامل ہیں. عورت بھی اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی وفات کے بعد آپ کی بیویاں اعتکاف کرتیں تھیں. “(بخاری /2026).اور عورتیں بھی مساجد میں ہی اعتکاف میں بیٹھیں گی کیونکہ عورتوں کے لئے اعتکاف کے متعلق کوئی الگ حکم شریعت میں موجود نہیں. اور نہ کسی حدیث سے ثابت ہے کہ عہد رسالت میں عورتوں نے گھروں میں اعتکاف کیا ہو. اور جمہور علماء بھی اسی کو راجح قرار دیتے ہیں کہ عورت مسجد میں ہی کرے گی. اس لئے اگر عورتوں کے لئے مسجد میں اعتکاف کرنے کا انتظام ہو تو اعتکاف کریں گی ورنہ نہیں کریں گی. اور شادی شدہ عورت اپنے شوہر کے اجازت سے ہی اعتکاف میں بیٹھے. کیونکہ یہ نفل عبادت ہے. اس لئے عورتوں کو چاہیے کہ وہ بغیر شوہر کے اجازت کے اعتکاف میں نہ بیٹھیں کیونکہ شوہر کی اطاعت واجب ہے اور اعتکاف سنت و نفل عبادت ہے. اور نفل کو واجب پر ترجیح نہیں دیا جائے گا. مستحاضہ (استحاضہ کی بیماری میں مبتلا) عورت بھی اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے. جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی بیویوں میں سے ایک خاتون (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا) نے, جو کہ مستحاضہ تھیں, اعتکاف کیا. وہ سرخی اور زردی یعنی( استحاضہ کا خون )دیکھتی تھی. اکثر ہم کوئی برتن ان کے نیچے رکھ دیتے اور وہ نماز پڑھتی رہتیں. “(بخاری /2037).البتہ ایام ماہواری میں عورتوں کے لئے اعتکاف جائز نہیں کیونکہ حائضہ عورت کے لئے مسجدوں میں ٹھرنا جائز نہیں.

معزز قارئین : اعتکاف کرنے والے جس دن سے اعتکاف کا ارادہ رکھے اسی شام کو اعتکاف کرنے والا مسجد پہنچ جائے اور فجر کی نماز کے بعد اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو جائے. جمہور علماء اور ائمہ اربعہ اسی کے قائل ہیں. (فتح الباری /323/4).حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے :کہ (کان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد أن يعتكف صلي الفجر ثم دخل معتكفه). کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو نماز فجر ادا فرما کر اپنی اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو جاتے. (بخاری /2032/مسلم/1172). اعتکاف کرنے والا دوران اعتکاف مسجد سے باہر دنیاوی کاموں کے لئے تو کیا دینی کاموں کے لئے بھی نہیں نکل سکتا. جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :معتکف کے لئے سنت یہ ہے کہ وہ دوران اعتکاف مریض کی عیادت کیلئے نہ جائے, جنازہ کے لئے حاضر نہ ہو, بیوی کو مت چھوئے اور نہ اس سے مباشرت کرے. اور کسی کام کے لئے مت نکلے سوائے اس کے جس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو “. (ابو داؤد /2473/و صححہ الالبانی) )البتہ بنا شہوت کے معتکف بیوی کو چھو سکتا ہے :جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے کہ وہ دوران اعتکاف نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے سر میں کنگھی کرتی (بخاری /2029).اور دوسری روایت میں ہے کہ سر دھوتیں (بخاری /2031). معتکف سخت حاجت کے وقت ہی باہر نکل سکتا ہے. جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے بارے میں بیان کرتی ہیں کہ :كان لا يدخل البيت إلا لحاجة إذا كان معتكفا “.یعنی آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم جب اعتکاف میں بیٹھے ہوتے تو کسی (سخت) حاجت کے بغیر گھر میں داخل نہ ہوتے. (بخاری /2029/ومسلم/297). معتکف مسجد میں خیمہ لگا سکتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ (“کان النبی صلي الله عليه وسلم يعتكف في العشر الأواخر من رمضان فكنت أضرب له خباء فيصلي الصبح ثم يدخله “). یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے. میں آپ کے لئے (مسجد میں) ایک خیمہ لگا دیتی. اور آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم صبح کی نماز ادا کر کے اس میں داخل ہو جاتے تھے. (بخاری /2033/مسلم/1172).معتکف مسجد میں ہی کھانا کھائے گا کیو نکہ اس کے بغیر اس کے لئے کوئی چارہ کار نہیں. اور امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “اعتکاف کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ وہ نماز, تلاوت قرآن اور ذکر الہی میں مشغول رہے. مزید فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھانا, علم سکھانا, فقہاء سے مناظرہ کرنا, ان کی مجالس اختیار کرنا, حدیث لکھنا اور جیسے دیگر ایسے کام جن کا نفع دوسروں تک پہنچتا ہو. (دوران اعتکاف) ہمارے اکثر اصحاب کے نزیک مستحب نہیں ہیں. اور یہی امام احمد رحمہ اللہ کے کلام کا ظاہر (مفہوم) ہے. (المغنی /4/479/480). اور دین اسلام سے مرتد ہو جانا, کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنا, مباشرت وہم بستری کرنا بغیر ضرورت مسجد سے باہر جانا وہ افعال ہیں جو دوران اعتکاف ممنوع اور اعتکاف کو باطل کر دینے والے ہیں.

قارئین کرام :ہم مسلمانوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی اس سنت مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے آخری عشرہ میں ضرور اعتکاف میں بیٹھنے کا اہتمام کرنا چاہئے. کیونکہ یہ ایسا عمل ہے جس میں ہم دنیاوی کاموں سے بالکل بے نیاز ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کی ہی طرف متوجہ رہتے ہیں. اور کثرت سے عبادت و استغفار, ذکر الٰہی, تلاوت قرآن مجید اور نوافل میں مصروف رہتے ہیں. اس لئے ہم تمام کو اس پر ضرور عمل کرنا چاہئے. لیکن ہاں! اسی طرح جس طرح کتاب و سنت میں ثابت ہے کیونکہ اس کے مخالف اور کتاب و سنت سے غیر ثابت عمل قابل قبول نہیں بلکہ مزید گناہ کا باعث ہے. لیکن چونکہ ابھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے سے مسجدیں بند ہیں اور وہاں جا نہیں سکتے اس لئے فی الحال اس پر عمل کرنا ناممکن ہے لیکن جہاں آسانی ہو وہاں ضرور اس کا اہتمام کیا جائے. اور اگر ان شاء اللہ آخر رمضان تک اللہ کے فضل و کرم سے لاک ڈاؤن ختم ہو جائے یعنی کھل جائے تو اس کا ضرور اہتمام کریں. اگر اس رمضان میں لاک ڈاؤن نہ کھلے تو جب بھی کھلے کر سکتے ہیں. کیونکہ اعتکاف رمضان و غیر رمضان یعنی پورے سال میں کبھی بھی کیا جا سکتا ہے. کیونکہ شارع نے اسے کسی معین وقت کے ساتھ خاص نہیں کیا اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے بھی شوال میں اعتکاف کیا. جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے کہ(“…. فترك الاعتكاف ذلك الشهر ثم اعتكف عشرا من شوال”.) آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے اس ماہ (یعنی رمضان) کا اعتکاف چھوڑ دیا اور شوال کے عشرے کا اعتکاف کیا. (بخاری /2033/مسلم/1173).اور سعودی مجلس افتاء کا فتویٰ ہے اعتکاف کسی بھی وقت جائز ہے لیکن رمضان کے آخری عشرے میں افضل ہے. (فتاوی اللجنۃ الدائمہ للبحوث العلمیہ و الافتاء /10/410).اس لئے ہمیں جب بھی موقع ملے اور آسانی ہو توضرور اعتکاف کریں. اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس عمل عظیم کا اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرما. اور ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی سے بہرہ ور فرما. آمین ثم آمین تقبل یا رب العالمین .

 

من جانب :علامہ دکتور محمد لقمان السلفی اسلامک لائبریری /مظفر پور/ بہار .

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *