یا اللہ توفیق دے

یا اللہ توفیق دے
نور حسن محمد حنیف سلفی نیپال
7294141994

رمضان المبارک کا مہینہ اپنے ساتھ بے انتہا خوبیاں، فیوض و برکات اور رحمت و مغفرت لئے ہم مسلمانان عالم پر چشم زدن میں سایہ فگن ہوگیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً اپنا نصف حصہ بھی مکمل کرنے کو ہے، اللہ نے جہاں عالم انسانیت کو کرونا وائرس جیسی مہلک وبا سے دو چار کیا ہے، وہیں ہم مسلمانان عالم کے لئے رمضان جیسا با برکت اور باعظمت مہینہ بھی عبادت و اطاعت اور شکر گزاری کے لئے عطا کیا ہے تاکہ ہم اپنے گھروں کو قبرستان بنانے سے محفوظ رکھیں اور گھر میں ہی فرائض و نوافل کا کثرت سے اہتمام کر یں اور رب کے حضور توبہ و استغفار کے ذریعہ اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرلیں پھر  اپنے مالک حقیقی سے تمام گناہوں کی معافی مانگ کر اس ماہ کے فیوض وبرکات سے فیضیاب ہوجائیں۔ یقین مانیں کہ اگر ہم اس ماہ رمضان میں کما حقہ روزہ رکھتے ہوئے دیگر عبادتوں کا اہتمام اپنے گھروں میں رہ کر کرلیں، تو ان شاء اللہ، اللہ ہم سب کو اس کرونا وائرس کی وبا سے چھٹکارا دے کر جہنم سے بھی نجات دے دے گا۔
دوستو! جب ہم اخبارات و جرائد کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے بے شمار روزے دار معصوموں اور نونہالوں کی تصویریں آتی ہیں جسے دیکھ دل خوشی سے جھوم جاتا ہے اور دلی دعائیں نکلتی ہیں کہ اللہ ان جنت کے پھولوں کو اسی طرح سدا لہلہاتا رکھے۔مگر جب سماج و معاشرہ کے دوسرے گروہ پر نظر پڑتی ہے تو انہیں دیکھ کر دل خون کے آنسوں رونے لگتا ہے کیونکہ اس ماہ مبارک میں معصوم بچے بھوک و پیاس کی شدت کو شوق سے برداشت کرکے روزہ کا ثواب حاصل کرنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں مگر کچھ نوجوان (جنہیں اللہ نے صحت جیسی عظیم دولت سے نوازا ہے) کھلے عام کھاتے پیتے نظر آتے ہیں کچھ دولت مند دولت کے نشے میں آخرت کو فراموش کئے بیٹھے ہیں اور سر راہ سیگریٹ نوشی کرکے گویا رمضان کا مذاق اڑاتے ہیں در اصل یہ وہ اسلام کے دوست نما دشمن ہیں جس کی وجہ سے اسلام بدنام ہوتا جارہا ہے سماج کے ایسے لوگ اسلام کے اس اہم رکن روزہ کی اہمیت کو  بالائے طاق رکھ کر اسلام کے قانون کی دھجیاں اڑاتے اور تمسخر کرتے ہیں بلکہ تنزیہ جملے بھی کسنے سے نہیں چوکتے کہ “ہمارے گھر میں کون سی کھانے کی کمی ہے کہ ہم روزہ رکھیں” العیاذ باللہ جہاں عالم انسانیت پر اتنی پریشانی اور آزمائش ہو وہاں اس طرح سے دین کے ساتھ کھلواڑ کرنا کسی کی ضمیر کو کیسے گوارہ ہوسکتا ہے۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ روزہ یہ ارکان اسلام میں سے ایک ہے؟ کیا یہ نہیں جانتے کہ اس رکن کی فرضیت کا انکار کرنا بھی کفر ہے؟ کیا یہ نہیں جانتے کہ بغیر شرعی عذر کے ایک روزہ بھی چھوڑنا گناہ کبیرہ ہے جس کا تدارک بغیر استغفار کے ممکن نہیں؟ اگر یہ لوگ یہ سب جانتے ہوئے بھی اپنے معاشرے کے معصوموں کی عملی زندگی سے سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں اور اپنی بد اعمالیوں پر نازاں ہیں تو انہیں روزہ خوروں کے اس بھیانک انجام کو یاد رکھنا چاہیے جس کا ذکر اس حدیث میں کیا گیا ہے۔   نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ “(میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دو آدمی آئے اور انہوں نے میرا بازو پکڑا)۔۔۔ لمبی حدیث ذکر کی، اس میں یہ بھی ہے کہ: وہ مجھے ایک ایسی قوم کے پاس لے گئے جنہیں ان کی ایڑیوں کے بل لٹکایا گیا تھا، ان کی بانچھیں چیر دی گئی تھیں اور ان سے خون بہہ رہے تھا، میں نے کہا: یہ کون ہیں؟  تو انہوں نے کہا: یہ افطاری کا وقت ہونے سے پہلے ہی روزہ  افطار کر نے والے لوگ ہیں ”
(سنن نسائی وصححہ الالبانی)
الله اکبر غور کیجیئے جب روزہ کی تکمیل نہ کرنے والوں اور وقت سے پہلے ہی روزہ توڑنے والوں کے لئے اتنی بھیانک سزا ہے تو جو لوگ سرے سے روزہ ہی نہیں رکھتے ہیں ان کا کیا حشر ہوگا؟ اللہ المستعان
یا اللہ تو ان تمام لوگوں کو روزہ رکھنے کی توفیق دے
محترم قارئین :-
اس سال اللہ نے ہمیں بے شمار آزمائشیں دی ہیں، ہمیں تمام آزمائشوں کا جم کر مقابلہ کرنا ہے،ساتھ ہی اپنے رب کو منانا بھی ہے، اور یہ بہت اچھی بات ہے کہ کرونا وائرس جیسے مہلک مرض کا بہترین علاج سوشل ڈسٹینسنگ ہی ہے، تو ہمارے لئے اک سنہرا موقع ہے کہ ہم خود بھی اسلام کے اراکین( خصوصاً نماز کے ساتھ روزہ اور زکوٰۃ )پر عمل کریں اور گھر والوں کو بھی پابندی سے عمل کرائیں جو ہمارے لئے ذریعہ نجات ہے۔
یا اللہ تو ہمارے نوجوانوں کو آخرت کی ہولناکیوں سے بچنے کے لئے اپنے گھروں میں نماز کے ساتھ  روزہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *