رمضان المبارک:شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے

دسویں قسط

 

از قلم :طیبہ شمیم تیمی بنت ابو انس شمیم ادریس سلفی بابو سلیم پور /دربہنگہ*

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قارئین عظام :ہم تمام اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ماہ رمضان برکت و عظمت اور بہت ہی اہمیت و فضیلت کا حامل ہے. لیکن رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی اہمیت و فضیلت بقیہ 20دنوں کے بہ نسبت زیادہ بیان کی گئی ہے. اس عشرہ کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ اسی عشرہ میں وہ رات آتی ہے جس کی عبادت ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر و افضل ہے اور اسی رات کثرت سے فرشتے آتے ہیں برکت و رحمت کے نزول کے ساتھ. نیز یہ رات سراسر خیر و سلامتی والی رات ہوتی ہے.اور یہی وہ رات ہے جس میں قرآن مجید جیسا انمول تحفہ دنیائے انسانیت کو دیا گیا .یہ یقینا اللہ رب العزت کی طرف سے امت محمدیہ کے لئے بہت بڑا انعام ہے کہ ان کی ایک رات کی عبادت پر اللہ تعالیٰ انہیں ہزار مہینوں یعنی (تراسی سال چار مہینوں کی) عبادت کا اجر و ثواب عطا فرماتا ہے. جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :”إنا أنزلناه في ليلة القدر و ما ادراك ما ليلة القدر ليلة القدر خير من ألف شهر تنزل الملائكة و الروح فيها بإذن ربهم من كل أمر سلام هي حتي مطلع الفجر “.یعنی بیشک ہم نے اسے (قرآن کریم کو)قدر والی رات میں نازل فرمایا کیا آپ جانتے ہیں کہ شب قدر کیا ہے. شب قدر کی عبادت ہزار مہینوں سے بہتر ہے, اس میں (ہر کام) سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح الامین( جبرئیل)نازل ہوتے ہیں. یہ رات سراسر سلامتی والی ہوتی ہے.(سورہ قدر). اور حدیث شریف میں ہے کہ جس شخص نے اس رات کو نہیں پایا گویا وہ ہر قسم کی خیر و برکت سے محروم رہا. جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (“ان هذا الشهر قد حضر كم و فيه ليلة خير من ألف شهر من حرمها فقد حرم الخير كله ولا يحرم خيرها إلا كل محروم “.بلاشبہ یہ (بابرکت) مہینہ تمہارے پاس آیا ہے (اسے غنیمت سمجھو).اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے. جو شخص اس رات کی خیر و برکت سے محروم رہا وہ ہر طرح کی خیر و برکت سے محروم رہا اور اس کی خیر و برکت سے صرف وہی محروم رہتا ہے جوہر (قسم کی خیر سے) محروم ہو. (ابن ماجہ /1644/حسن صحیح). اور جس طرح ماہ رمضان کا روزہ رکھنا اور تراویح پڑھنا گزشتہ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے اسی طرح شب قدر میں قیام کرنا پچھلے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے. جیسا کہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہے :”من قام ليلة القدر إيمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه “.یعنی جو شخص ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے شب قدر کا قیام کرتا ہے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیا جاتا ہے. (بخاری /2014/ مسلم /760).اس رات کی اتنی زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے اس لئے ہر شخص کو ضرور کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اس رات کو پائے. اس کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر وہ کون سی رات ہے جو رات قدر والی ہے تاکہ ہم اس کو پا سکیں. اس سلسلے میں راجح قول یہ ہے کہ شب قدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک ہے. فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہے :”تحروا ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من رمضان “. شب قدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو. (بخاری /2017/مسلم/1129).نیز فرمایا :”التمسوها في العشر الأواخر من رمضان ليلة القدر في تاسعة تبقي في سابعة تبقي في خامسه تبقي “.شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو. جب نو راتیں باقی رہ جائیں یا یا جب سات راتیں باقی رہ جائیں یا جب پانچ راتیں باقی رہ جائیں.(بخاری/2021).اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے. بیس راتیں گزر جانے کے بعد اکیسویں رات آتی تو شام کو آپ گھر واپس آ جاتے. جو لوگ اعتکاف میں ہوتے وہ بھی اپنے گھروں کو واپس آ جاتے. ایک رمضان میں جب آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم اعتکاف میں تھے تو اس رات میں بھی (مسجد میں ہی)مقیم رہے جس میں آپ کی گھر جانے کی عادت تھی. پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جو کچھ اللہ نے چاہا آپ نے لوگوں کو حکم دیا. پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :كنت اجاور هذه العشر, ثم قد بدا لي أن اجاوره هذه العشر الأواخر فمن كان اعتكف معي فليثبت في معتكفه, و قد اريت هذه الليلة ثم انسيتها, فابتغوها في العشر الأواخر, و ابتغوها في كل وتر, و قد رأيتني أسجد في ماء وطين “.میں اس دوسرے عشرے میں اعتکاف کیا کرتا تھا. لیکن مجھ پر یہ ظاہر ہوا ہے کہ مجھے اب اس آخری عشرے میں اعتکاف کرنا چاہئے. اس لئے جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ اپنے مقام اعتکاف میں ہی ٹھرا رہے. مجھے یہ رات یعنی (شب قدر) دکھائی گئی پھر بھلوادی گئی. اس لئے تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو. میں نے خود کو (خواب میں) دیکھا کہ میں اس رات کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں. پھر اس رات آسمان پر ابر ہوا اور بارش برسی. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی نماز پڑھنے کی جگہ (چھت سے پانی ٹپکنے لگا. یہ اکیسویں رات کا ذکر ہے. میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم صبح کی نماز کے بعد واپس آ رہے تھے اور آپ کے چہرہ مبارک پر کیچڑ لگا ہوا تھا. “(بخاری /2018/مسلم/1167).نیز ایک حدیث میں ہے کہ “فمن كان متحريها فلیتحرھا في السبع الأواخر “.جو اسے تلاش کرنے کا خواہش مند ہو وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے. (بخاری/2015/مسلم/1165).اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”ليلة القدر ليلة سبع و عشرين “لیلۃ القدر ستائیسویں رات کو ہوتی ہے. (ابو داؤد /1386/وصححہ الالبانی فی صحیح ابی داؤد /1236).ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں پانے کی کوشش کرنی چاہئے خاص طور سے ستائیس کی رات میں زیادہ اہتمام کرنا چاہئے کیونکہ اس رات کے آنے کا زیادہ امکان ہے. لیکن یہ اسی رات ہو یہ ضروری نہیں اس لئے تمام طاق راتوں میں تلاش کیا جائے. کیونکہ شب قدر کی تعین آپ سے بھلا دی گئ جیسا کہ حدیث ہے. “أرأيت ليلة القدر ثم انسيتها “. کہ مجھے شب قدر دکھلائی گئی پھر مجھے بھلا دی گئی. (مسلم /1168).نیز عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہمیں شب قدر کی خبر دینے کے لئے تشریف لا رہے تھے. کہ دو مسلمان آپس میں جھگڑا کرنے لگے. اس پر آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :میں آیا تھا کہ تمہیں شب قدر بتا دوں لیکن فلاں و فلاں آپس میں جھگڑا کر لیا. پس اس کا علم اٹھا لیا گیا. اور امید ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہوگا. (بخاری /2023).اس رات کو بھلا دینے میں حکمت یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے اور اس رات کو پانے کے لئے زیادہ سے زیادہ عبادت کریں(. واللہ اعلم) .ہاں البتہ حدیث مبارکہ میں شب قدر کو پہچاننے کی چند علامات بیان کی گئی ہے. ایک نشانی تو یہ ہے کہ اس رات بارش کا نزول ہوتا ہے. جیسا کہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہے :کہ مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر بھلا دی گئی.وارنی صبحھا اسجد فی ماء و طین “.اور میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اس کی صبح کو پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں. (مسلم/1168).اور دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے اس کی علامت بیان کرتے ہوئے فرمایا :”تصبح الشمس صبيحة تلك الليلة مثل الطست ليس لها شعاع حتي ترتفع “.یعنی شب قدر کی صبح کو سورج کے بلند ہونے تک اس کی شعاع نہیں ہو تی. وہ ایسے ہوتا ہے جیسے تھالی “.(مسلم/762).(یعنی سورج میں زیادہ گرمی نہیں ہوتی وہ بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے). نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے اس کی ایک اور علامت بیان کرتے ہوئے فرمایا :”ايكم يذكر حين طلع القمر و هو مثل شق جفنه “.تم میں سے کون اسے (یعنی شب قدر کو) یاد رکھتا ہے.( اس میں) جب چاند نکلتا ہے تو ایسے ہوتا ہے جیسے بڑے تھال کا کنارہ. (مسلم/1170).

قارئین کرام :اب جب ہم نے شب قدر کی فضیلت و اہمیت جان لیا اور یہ بھی جان لیا کہ شب قدر آخری عشرہ کی طاق راتوں یعنی 21,23,25,27,29کی رات کو ہمیں تلاشنا ہے اور اسکی چند علامات بھی ہمیں معلوم ہوا. تو ہمیں چاہئے کہ ہم اس رات کی برکت و رحمت اور فضیلت و اہمیت کو پانے کے لئے اور خاص طور سے ہزار مہینوں کی عبادت کا اجر و ثواب حاصل کرنے کے لئے ان طاق راتوں کو ضرور جگیں .اور اس کا اہتمام کریں. اور لہو و لعب سے بچتے ہوئے صرف عبادت دعاء و مناجات میں مشغول رہیں. تاکہ ہم واقعی میں شب قدر پا سکیں اور ان طاق راتوں میں یہ دعا بکثرت پڑھیں جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے :وہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ یہ شب قدر ہے تو میں کیا پڑھوں ؟آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا یہ دعا پڑھو :”اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی “.اے اللہ! بے شک تو بہت معاف کرنے والا ہے, معاف کرنا تجھے پسند. پس تو ہمیں معاف فرما دے “.(ابن ماجہ /3850/ترمذی/3513/وصححہ الالبانی فی ابن ماجہ /3105).لیکن افسوس صد افسوس آج اکثر لوگ شب قدر کو چھوڑ کر شب برات کو اہمیت دیتے ہیں. لیلۃ القدر کا اہتمام کریں یا نہ اس میں جگیں یا نہ لیکن شب برات جس کا صحیح حدیث سے کوئی ثبوت نہیں یعنی شریعت اسلامیہ سے بالکل ثابت ہی نہیں اس کا اہتمام اس طرح کرتے ہیں گویا یہی شب قدر ہو. ہم تمام کو غلط فعل پر عمل کرنے سے بچنا چاہئے.اور صرف اور صرف وہی عمل کرنا چاہئے جو کتاب و سنت اورصحیح احادیث سے ثابت ہو. اور شب قدر کو ہر مومن و مسلمان کو پانے کی کوشش کرنی چاہئے. کیونکہ یہ امت مسلمہ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے بہت بہت بہت بڑا انعام ہے کہ ہماری عمر 60/سے70/ہونے کے باوجود اگر ہم نے اس ایک رات کو پا لیا تو ہمیں ہزار مہینوں کی عبادت کے ثواب سے نوازا جاتا ہے. اور اگر ہم اپنے وفات تک 30/40رمضان بھی پا لیں اور اس میں شب قدر کو حاصل کر لیں. تو اللہ اکبر ہمیں کتنے ہزار مہینوں کا ثواب عطا کیا جائے گا. اس لئے ہر مسلمان کی یہ کوشش ہونی چاہئے وہ اس رات کے اجر و ثواب سے کبھی محروم نہ ہو پائے .

اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے اللہ تو ہمیں یہ رات بار بار نصیب فرما اور اسے پانے کی توفیق عطا فرما. آمین ثم آمین تقبل یا رب العالمین. من جانب :علامہ دکتور محمد لقمان السلفی اسلامک لائبریری /مظفر پور/ بہار .

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *