رمضان المبارک :روزہ دار کے لیے جائز افعال و اعمال

گیارہویں قسط۔

از قلم :طیبہ شمیم تیمی بنت ابو انس شمیم ادریس سلفی/ بابو سلیم /دربہنگہ*

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اب جب کہ ہم رمضان المبارک اور روزہ کے تعلق سے تمام اہم و بنیادی چیزوں کے بارے میں جانکاری حاصل کر چکیں ہیں۔ تو آئیے اب ہم یہ جانتے ہیں کہ انسان روزہ کی حالت میں کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں کر سکتا اور کون سی چیز سےروزہ ٹوٹ جاتا ہے اور کون سی شئی سے نہیں ٹوٹتا. تو آئیے سب سے پہلے ہم اس چیز کے بارے میں علم حاصل کرتے ہیں کہ ہم روزہ کے حالت میں کیا کیا کر سکتے ہیں اور کون سا کام کرنے اوراس کو انجام دینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اورہمارے اجر و ثواب میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوتی تاکہ ہم اپنے روزوں کی حفاظت کر سکیں.

1)وضو یا غیر وضو میں کلی کر سکتے ہیں اور ناک میں پانی چڑھا سکتے ہیں لیکن اس میں اس حد تک مبالغہ نہ کریں کہ حلق تک پانی پہنچ جائے. البتہ بغیر قصد کے اور غلطی سے پانی حلق تک پہنچ جائے تو کوئی حرج نہیں لیکن اس سے بھی بچنا ضروری ہے. کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”اسبغ الوضو و بالغ الاستنشاق الا ان تکون صائما “.وضو اچھی طرح کرو اور ناک میں اچھی طرح پانی چڑھایا کرو مگر روزے کی حالت میں ایسا نہ کرو. (ابن ماجہ /407/وصححہ الالبانی فی ابن ماجہ /328). 2)سر میں تیل لگا سکتے ہیں اور کنگھی کر سکتے ہیں. حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا :”اذا کان صوم احدکم فلیصبح دھینا مترجلا “.جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو چاہئے کہ یوں صبح کرے کہ اس نے تیل لگایا ہو اور کنگھی کی ہو. (بخاری /قبل الحدیث /1930). 3).خوشبو لگا سکتے ہیں :امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے روزہ دار کے لئے خوشبو لگانا جائز قرار دیا ہے. (مجموع الفتاویٰ /25/241). 4)غسل کر سکتے ہیں :ایک صحابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :کہ “رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يصب الماء علي رأسه من الحر و هو صائم”.میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی بہا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم روزہ دار تھے. (ابو داؤد 2365/وصححہ الالبانی فی ابی داؤد /2072). . 5).حالت جنابت میں روزہ رکھ سکتے ہیں اور بعد میں غسل کرسکتے ہیں. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ أن رسول الله (صلى الله عليه وسلم) كان يدركه الفجر و هو جنب من أهله ثم يغتسل و يصوم “.کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی (بعض اوقات) اس حالت میں فجر ہو جاتی کہ آپ ہم بستری کرنے کی وجہ سے جنبی ہوتے (ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم سحری کھا لیتے) پھر غسل کر کے روزہ رکھ لیتے. (بخاری /1926/مسلم/1109).

6).سینگی یا پچھنا لگوا سکتے ہیں :جیسا کہ حدیث میں ہے :احتجم النبی صلی اللہ علیہ و سلم و ھو صائم “.کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے. (بخاری /1938).

7).سرما لگا سکتے ہیں :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (ان النبی صلی اللہ علیہ و سلم اکتحل فی رمضان و ھو صائم). کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم ماہ رمضان میں روزے کی حالت میں سرمہ لگایا. (ابن ماجہ/1360/و صحیح ابن ماجہ /1678). . 8).جو ضبط نفس کی طاقت رکھتا ہو وہ بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے اور مباشرت کر سکتا ہے. جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے :”کان النبی صلی اللہ علیہ و سلم یقبل و یباشر و ھو صائم و کان املککم لاربه. “کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم روزہ دار ہوتے لیکن (اپنی ازواج مطہرات کا) بوسہ لیتے اور ان کے ساتھ مباشرت کرتے (یعنی ان کے جسم کے ساتھ جسم ملاتے) اور آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم تم میں سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے. (بخاری /1967/مسلم/1106).

9).برش و مسواک کر سکتے ہیں :بخاری میں ہے :”و یذکر عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم انه استاك و هو صائم “.کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے یہ منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے روزے میں مسواک کیا. (بخاری /قبل الحدیث /1930). اور ٹوتھ پیسٹ بھی استعمال کر سکتے ہیں اگر وہ حلق میں نہ جائے لیکن افضل یہ ہے کہ رات کو ہی یہ استعمال کر لیا جائے. . 10).سبزی وغیرہ کا ذائقہ (یعنی نمک) چکھ سکتے ہیں. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا :کہ “لا باس ان یتطعم القدر او الشئی “.کہ ہنڈیا یا کسی چیز کا ذائقہ معلوم کرنے میں کوئی حرج نہیں. (بخاری /قبل الحدیث /1930). . 11).تھوک نگل سکتے ہیں :امام عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا :”ان ازدرد ریقه لا أقول يفطر “اگر روزہ دار اپنا تھوک نگل لے تو میں یہ نہیں کہتا کہ اس کا روزہ ٹوٹ گیا. (بخاری /قبل الحدیث /1930). 12).اگر روزہ دار کے حلق میں مکھی چلی جائے تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا :امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا :”إن دخل حلقه الذباب فلا شئي عليه “.کہ اگر روزہ دار کے حلق میں مکھی داخل ہو جائے تو اس پر کچھ نہیں ہے. (بخاری /قبل الحدیث /1933). . 13).ناک میں دوا ڈال سکتے ہیں اگر وہ حلق تک نہ پہنچے :امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا :”لا بأس بالسعوط للصائم إن لم يصل إلى حلقه “. کہ ناک میں (دواء وغیرہ) چڑھانے میں اگر وہ حلق تک نہ پہنچے ,تو کوئی حرج نہیں ہے. (بخاری/ قبل الحدیث /1934). . 14)..عورت دوران روزہ میک اپ کر سکتی ہے اور مہندی لگا سکتی ہے ابن باز رحمہ اللہ اسی کے قائل ہیں. (مجموع الفتاویٰ لابن باز /349/1). قارئین کرام :روزہ دار اگر ان میں سے کوئی اعمال یا افعال کرتا ہے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا. جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے. اس لئے اس میں سے جس چیز کی ضرورت محسوس ہو وہ کر سکتے ہیں . اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ اے اللہ تو ہمارے روزہ کو شرف قبولیت سے نواز .آمین ثم آمین تقبل یا رب العالمین.

من جانب :علامہ دکتور محمد لقمان السلفی اسلامک لائبریری/ مظفر پور/ بہار.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *