رمضان المبارک :روزہ دار کے لئے حرام و ممنوع افعال و اعمال

بارہویں قسط

از قلم :طیبہ شمیم تیمی بنت ابو انس شمیم ادریس سلفی/ بابو سلیم پور/ دربہنگہ* .

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قارئین کرام :ہم نے گیارہویں قسط میں یہ جان لیا ہے کہ روزہ دار کون سا افعال کر سکتا ہے اور اس کو کرنے سے نہ روزہ ٹوٹتا ہے اور نہ ثواب میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے. تو آئیے اب یہ جانتے ہیں کہ کون سا افعال روزہ دار کے لئے ممنوع و حرام ہے اور اس سے روزہ اور اس کے اجر و ثواب میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ روزہ ٹوٹ جانے کا بھی خدشہ رہتا ہے.

1).روزے میں وصال کرنا حرام ہے :اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”لا تواصلوا “وصال مت کیا کرو.. (بخاری/1961).اس کا ذکر تفصیل کے ساتھ آٹھویں قسط میں گزر چکا ہے مزید جانکاری کے لئے اس کی طرف رجوع کریں. 2). روزہ دار پر واجب ہے کہ وہ جھوٹ بولنے, غیبت کرنے اور لڑائی جھگڑا کرنے سے بچے. ہاں! البتہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا لیکن اس سے روزہ کے اجر و ثواب میں کمی واقع ہوتی ہے. (جیسا کہ سعودی مجلس افتاء کا فتویٰ ہے). (فتاوی اللجنہ الدائمہ للبحوث العلمیہ والافتاء /10/333).اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا فرمان ہے :”کہ اگر کوئی روزہ دار ہو تو اسے چاہئے کہ فحش گوئی نہ کرے اور نہ شور مچائے. اور اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑنا چاہے تو اسے صرف یہ جواب دے کہ میں ایک روزہ دار شخص ہوں. “(بخاری /1904/مسلم/1151). . 3)جہالت کی باتیں اور لغو و رفث سے بھی روزہ دار کو بچنا لازم ہے :جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”ليس الصيام من الاكل و الشرب إنما الصيام من اللغو والرفث “.روزہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں ہے بلکہ روزہ تو لغو (ہر بے فائدہ و بیہودہ کام) اور رفث (جنسی خواہشات پر مبنی حرکات و سکنات اور کلام) سے بچنے کا نام ہے. (صحیح الترغیب /1082). . 4)مبالغہ کے ساتھ کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے. کیونکہ ایسا کرنے سے پانی حلق تک چلا جاتا ہے. اور یہ روزہ دار کے لئے حرام و ممنوع فعل ہے. (صحیح ابن ماجہ /328)میں ہے کہ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے روزہ کی حالت میں وضو میں بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے. ” . . 5)جو شخص ضبط نفس کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کے لئے بیوی سے مباشرت کرنا اور بوسہ لینا ممنوع ہے :جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے دریافت کیا کہ کیا روزہ دار اپنی بیوی سے بغل گیر ہو سکتا ہے ؟تو آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے اسے رخصت دے دی. آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے پاس ایک اور آدمی آیا اس نے بھی یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے اسے اس سے روک دیا. (راوی حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) کہ جسے آپ نے رخصت دی تھی وہ بوڑھا تھا اور جسے روکا تھا وہ نوجوان تھا. (صحیح ابو داؤد /2090). . قارئین عظام :ہم تمام روزہ داروں کو چاہئے کہ ان افعال سے بچیں تاکہ ہم اپنے روزوں کی حفاظت کرتے ہوئے پورا پورا اجر و ثواب پا سکیں. اور ہمارے ثواب میں ذرا برابر بھی کمی لاحق نہ ہو اور ہمارا روزہ عند اللہ مقبول ہو. . اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے اللہ تو ہمیں ان ممنوع کردہ افعال و اعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرما جو ہمارے روزے پر اثر انداز ہو اور جس کی وجہ کر ہمارے روزے کے اجر و ثواب میں کمی واقع ہو. آمین ثم آمین تقبل یا رب العالمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *