تعلیم سے آتی ہے اقوام میں بیداری

“تعلیم سے آتی ہے اقوام میں ںبیداری”

 

تحریر : میر ساحل نرکٹیاوی

 

بلاشبہ تعلیم عروج و ترقی کا زینہ کمال و جمال کا گنجینہ اور قوم ملت کو بیدار کرنے کا بہترین وسیلہ ہے, یہ وہ شاہین ہے جس میں ثریا کی پرواز کا راز مضمر ہے

یہی وہ سر چشمہ ہے جو انقلابات,

ایجادات,انکشفات, اور اختراعات کا مصدرہے سچ کہا علامہ اقبال رحمہ اللہ نے

تعلیم سے آتی ہے اقوام میں ںبیداری “ہے علم کے پنجہ میں ششمیر جہا نداری ”

یہی وجہ ہے کہ ہر مذہب نے اپنے پیروکاروں کو تعلیم سے آراستہ ہونے کی تعلیم دی جبکہ مذہب اسلام کی بنیاد تعلیم پر ہی رکھی گئی. جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : اقرأ باسم ربک الذی خلق,خلق الانسان من علق ,اقرأ و ربک الأکرم ,الذی علم بالقلم,علم الأنسان مالم یعلم”

اتنا ہی نہیں بلکہ تعلیم کو حاصل کرنا فرض قرار دیا .

قارئین! تعلیم کے ذریعہ ہی ایک انسان حلال و حرام کے مابین فرق کرتا ہے تعلیم کے ذریعہ ہی انسان کا کردار سنورتا ہے تعلیم کے بغیر کامیابی کا حصول ممکن نہیں اور یہی تعلیم ایک علم رکھنے والا (عالم ) اور علم نہ رکھنے والا(جاہل) کے برابری کو بھی اجاگر کرتا ہے. یہ حقیقت ہے کہ اسلام کی ابتدائی دور میں مسلمانوں کی ترقی کا راز یہی تھا کہ وہ تعلیم کی دولت سے مالا مال تھے جس کی وجہ سے انہوں سلطنت کی.

تاریخ بتلاتی ہے کہ پہلے علم معابد و کنائیس کی دیواروں تک محدود تھا. چھٹی صدی کے بعدمشرق سے مغرب تک پہونچی, تو مسلمانوں نے تعلیم کے میدان میں خوب جوہر دکھائے جس کا نتیجہ کہ کتابوں کی اشاعت اور بڑی بڑی لائبریریاں قیام عمل میں آئی جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات کے اندر تعلیم حاصل کرنے کا جزبہ پیدا ہوا اور شب و روز لائبریری سے اپنا رشتہ مضبوط رکھا لیکن افسوس یہ ہے کہ جو قوم کل تک علم کی روشنی دور دور تک پھیلا رہی تھی آج وہی قوم پیچھے نظر آرہی ہے آج ان کے بچے ممبئ, دہلی, بنگلور کے کل کارخانوں اور ہوٹلوں میں کام کرتے نظر آتے ہیں.چند سکوں کی خاطر آج والدین بچوں کو بچپن میں ہی بھیج دیتے ہیں جس کی وجہ سے اس کا مستقبل روشن ہونے کے بجائے تاریک ہوجاتی ہے علم سے غفلت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج اس سے دنیا میں کوئی مقام حاصل نہیں ہے ہر جگہ و ذلیل و خوار نظر آتی ہیں.افسوس ہوتا ہے کہ اگر تعلیم سے آراستہ جو فرد بھی ہیں ان کے لئے کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم سے دینی و سیاسی باتوں کو بآسانی سے لوگوں تک پہنچا سکیں اور ناہی اس کا کوئی اپنا چینل ہے جس کے ذریعہ ملک کے حالات کو بیان کرسکیں.آج طرح طرح کے الزامات جو تھوپے جارہیں ہیں اس

کا جواب دینے کا ہمارے پاس وہ ذریعہ نہیں ہے کہ ان تک اپنی بات پہنچاسکیں اس ترقی یافتہ دور میں ابھی ہم پیچھے ہیں جو ہمارے لئے شرمندگی کی بات ہے .

علم کی اہمیت ہر زمانہ میں مسلم رہی ہے خاص طور سے علم شرعی کی لیکن ہمیں علم دینی کے ساتھ علمی شرعی کی جانب بھی توجہ مبذول رکھنے کی ضرورت ہے.

اس لئے اگر قوموں میں بیداری لانا چاہتے ہیں تو اپنے بچوں اور بچیوں کو تعلیم کی زیور سے آراستہ کرے انہیں مفسر قرآن, محدث زماں بنائیں ساتھ ساتھ اعلیٰ افسر بنائے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعہ دین اسلام کی خدمت کرسکیں. اور سماج و معاشرہ کو آگے بڑھا سکیں.

اس لئے ہمیں ضرورت ہے کہ ہم تعلیم سے جوڑے چونکہ علم ایک عظیم دولت ہے جس سے کنارہ کشی ہلاکت کا باعث ہوا کرتی ہے .

تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اور بچو اور بچیوں کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے سر زمین نرکٹیا “نیپال ” کے کچھ علماء کرام بنام رضوان تیمی, میر ساحل تیمی, امتیاز صدف, مشتاق شاہد اور استخار عالیاوی ان سبھی حضرات نے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے دعا کیجئے کہ اللہ ان لوگوں کی محنتوں کو قبول فرمائے

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *