رمضان المبارک کی فرضیت و فضیلت قرآن و احادیث کی روشنی میں

رمضان المبارک کی فرضیت و فضیلت قرآن و احادیث کی روشنی میں

 

نتیجہ فکر :- محمد تفضل عالم مصباحی پورنوی.

متعلم :- مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی. /9889916329

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں سے بے پناہ الفت و محبت کرتا ہے، ان کو ہمیشہ فضل و کرم سے نوازتا رہتا ہے، ان کے درجات کو بلند کرنے، اپنا قرب عطا کرنے اور متقین کے فہرست میں شامل کرنے کے لئے بہت سارے مواقع، مہینے، ایام اور اوقات و لمحات عطا کرتا ہے انہیں مختلف اور با برکت مہینوں میں سے ماہ رمضان المبارک بھی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر روزے کو فرض فرمایا.

صوم کی وجہ تسمیہ:-

عربی زبان میں روزے کو صوم کہتے ہیں جس کے معنی رک جانے کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے انسان خواہشات نفس اور کھانے پینے سے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک رک جاتا ہے اور اپنے جسم کے تمام اعضاءکو برائیوں سے روکے رکھتا ہے۔

رمضان المبارک کی وجہ تسمیہ:-

ایک وجہ :- اس ماہ کو رمضان اس لئے کہتے ہیں کہ یہ ماہ مقدس گناہوں کو جلا دیتا ہے.

دوسری وجہ :- رمضان کا لفظ ”رمضاء“ سے مشتق ہے جس کے معنی گرم پتھر کے ہیں. عرب قبیلوں نے جب مہینوں کے نام رکھنا چاہا تو ان ایام میں یہ مہینہ انتہائی گرمی کے موسم میں آیا چناں چہ اس کا نام رمضان رکھا۔

امت محمدیہ پر فرضیت روزہ :-

اسلام میں اکثر عبادات اللہ تعالیٰ کے کسی نہ کسی مقرب بندے کی یادگار سے جڑی ہے جیسے حاجیوں کا قیام عرفات حضرت آدم و حوا، قربانی حضرت ابراہیم و اسمٰعیل، سعی صفا و مروہ حضرت ہاجرہ و اسمٰعیل علیھم السلام کی یادگار ہیں. اسی طرح رمضان المبارک کے روزے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یادگار ہے چنانچہ ماہ رمضان المبارک میں اللہ کے رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بھوکے اور پیاسے عبادت الہی میں مصروف رہا کرتے تھے رہا کرتے تھے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ رمضان المبارک کے پورے مہینے میں روزے رکھنا امت محمدیہ پر فرض کر دیا.

اللہ رب العزت نے مدینۃ المنورہ میں 10/شعبان المعظم سن 2/ ہجری کو امت محمدیہ پر روزہ فرض فرمایا جیساکہ قرآن مقدس میں مذکور ہے.

“يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ”

(سورہ بقرہ – پارہ 2)

اے ایمان والوں تم پر روزہ فرض کیا گیا جیساکہ کہ تم سے پہلے والوں پر روزہ فرض کیا گیا تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ.

ماہ صیام کی درجہ بندی :-

رمضان المبارک کے کے مہینے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے.

(1) پہلا عشرہ رحمت کا ہے

(2) دوسرا عشرہ گناہوں سے مغفرت کا ہے

(3) تیسرا عشرہ جنہم سے آزادی حاصل کرنے کا ہے.

جیساکہ فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے ” ھُوَ شَہْرٌ اَوَّلُہٗ رَحْمَۃٌ وَاَوْسَطُہٗ مَغْفِرَۃٌ وَآخِرُہٗ عِتْقٌ مِّنَ النَّارِ۔” (الجامع لشعب الایمان للبیہقی جلد 5۔ باب فضائل شھر رمضان۔ الباب الثالث والعشرون، باب فی الصیام)

فضائل رمضان المبارک :-

اس ماہ مبارک کی فضیلتیں بے شمار ہیں روزے کے ہر ایک جز کا بدلہ و ثواب نا قابل بیان ہے یعنی سحری، افطار، تراویح، احترام روزہ نیز صدقات و خیرات کا ثواب عدیم المثال ہے قلت صفحات کی بنیاد پر میں ان میں سے چند پہلوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کر رہا ہوں ملاحظہ کریں.

فضائل رمضان المبارک کو بیان فرماتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا.

” جب رمضان المبارک کی پہلی رات آتی ہے تو جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پورا ماہ رمضان ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے ذریعے اپنے بندوں کو ندا دیتا ہے اے نیکی طلب کرنے والے! متوجہ ہو اور اے گناہوں کے طلب گار! رک جا پھر وہ کہتا ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے جسے بخش دیا جائے؟ کوئی سائل ہے جسے عطا کیا جائے؟ کوئی توبہ کرنے والا ہے جس کی توبہ قبول کی جائے؟ اور صبح ہونے تک یہ نداء ہوتی رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر عیدالفطر کی رات دس لاکھ ایسے بندوں کو بخشتا ہے جن پر عذاب واجب ہو چکا ہے”.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا.

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِ يْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَه. مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه.

( بخاری و مسلم ، کتاب الصوم، باب صوم رمضان.)

’’جس نے بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ.

(سنن نسائی، کتاب الصيام.)

’’روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی شخص کے پاس لڑائی کی ڈھال ہو۔‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِها إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی مَا شَاء ﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالَی :  إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِی، وَأَنَا أَجْزِی بِهِ.

( ابن ماجه، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل الصيام.)

’’انسان کے نیک عمل کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا اﷲ چاہے بڑھا دیتا ہے ۔ ﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے :  روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔‘‘

مذکورہ بالا آحادیث کریمہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ رمضان المبارک کے عظمت و برکت والے ایام میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عبادت و ریاضت، صدقات و خیرات، فطرات و عطیات کرنے اور غربا و مساکین، راہ گیر، ضرورت مندوں کو کھانا کھلانے سے اللہ رب العزت بے شمار ثواب عطا فرماتا ہے.

اختتامیہ :-

امت مسلمہ کے ہر فرد کو چاہیے کہ اس مبارک مہینے میں خود کو غیبت، چغل خوری، ڈاکہ زنی، چوری، کذب بیانی، دل آزاری، دل شکنی، کسب حرام، اکل حرام، لڑائی جھگڑا اور تمام چھوٹی سے چھوٹی برائیوں سے محفوظ رکھے اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عبادت و ریاضت، توبہ و استغفار اور جان و مال کی خیرات کرے تاکہ رب العزت کا قرب حاصل ہو سکے.

آمین ثم آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *