میت کی طرف سے روزہ داروں کو افطار کرانے کا حکم

میت کی طرف سے روزہ داروں کو افطار کرانے کا حکم

 

بقلم : مامون رشید ہارون رشید سلفی.

 

محترم قارئین یہ مہینہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔ لوگ قسم قسم کی عبادتیں انجام دے کر اس ماہ مبارک کی رحمتوں اور فضیلتوں سے بہرہ مند ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ روزہ افطار کرانا بھی بڑے ثواب کا کام ہے اور لوگ اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیتے ہیں ایک تو کچھ لوگ خود اپنے لیے حصول ثواب کی خاطر افطاری کراتے ہیں اور دوسرے کچھ حضرات اپنے فوت شدہ احباب واقارب کو ایصال ثواب کے لیے افطاری کراتے ہیں۔اول الذکر مسئلہ یعنی خود حصول ثواب کے لیے افطار کرانا تو حدیث سے ثابت ہے اور رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم نے اس کی ترغیب بھی دی ہے جیسا کہ آگے اس کا ذکر آ رہا ہے لہذا یہ بالاتفاق مشروع ومستحب اور کار ثواب ہے۔

استاذ محترم فضیلۃ الشیخ سیف الرحمن الصلیح المدنی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: “تنبیہ: موجودہ دور میں مساجد یا دیگر جگہوں پر جو اجتماعی افطار پارٹیاں دی جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ و سلف کا زمانہ ان سے خالی نظر آتا ہے لہذا یہ عمل بھی غلط ہے۔ نیز فرماتے ہیں: اجتماعی افطار عمل رسول و سلف سے خارج ہے۔ انفرادی طور پر کسی کو کھلانا یا کسی کے گھر کھانا پہنچانا درست ہے، کیونکہ یہ فطری عمل ہے، اور اجتماعیت عمل زائد… لہذا عمل زائد محتاج دلیل ہے۔”

 

لیکن جب ہم کسی سے کہتے ہیں کہ خود حصول ثواب کے غرض سے اجتماعی طور پر افطار کرانا بھی غیر ثابت شدہ اور بدعی امور میں سے ہے تو بلا تامل ہم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ کہہ بیٹھتے ہیں کہ جب انفرادی طور پر افطار کرانا مشروع و مستجب ہے تو پھر اسی کام کو اجتماعیت کے ساتھ انجام دینے میں کیا حرج ہے .. جب ایک فعل کا مشروع ہونا ثابت ہے تو خواہ اسے تن تنہا کریں یا جماعت کے ساتھ اس میں پھر دلیل کی کیا ضرورت ؟؟

 

تو اس کے جواب کے طور پر ہم کہیں گے کہ یہ استدلال اور یہ اعتراض کئی وجوہ سے بالکل باطل اور یکسر بے تکا ہے جو دلائل کتاب و سنت سے لا علمی اور اصول فقہ و قواعد فقہیہ سے نا واقیفت کی پیداوار ہے :

 

اول : قواعد فقہیہ میں یہ بات ثابت اور مسلم ہے کہ جو بھی دینی عمل جس طرح سے کتاب وسنت میں وارد ہے اسے اسی طرح سے انجام دیا جائے ہیئت وکیفیت میں ذرا سی بھی تبدیلی اس عمل کو عبادت سے بدعت کے خانے میں لے جائے گی…

اگر کوئی عبادت عام یا مطلق ہے تو اسے عام یا مطلق ہی رکھا جائے کسی وقت یا جگہ کے ساتھ اس کی تخصیص یا تقیید بدعت ہے.. اسی طرح اگر کوئی عبادت خاص اور مقید ہے تو اسے خاص اور مقید ہی رکھا جائے.. اس کو عام یا مطلق قرار دینا بدعت اور خلاف شرع ہے .الأصل في العبادات المنع ” اور اس سےمتفرع درج ذیل قواعد و ضوابط :

 

(1) لا تثبت العبادة إلا بتوقيف

(عبادت صرف دلیل سے ثابت ہوتی ہے)

(2) الأصل في العبادات المقيدة الاتيان بها مقيدة

( جو عبادات مقید ہیں ان پر مقید ہی عمل کیا جائے گا ان میں کسی قسم کا اطلاق جائز نہیں ہے)

 

(3)الأصل في العبادات المطلقة التوسعة.

( عبادات مطلقہ میں قاعدہ عامہ یہی ہے کہ ان میں وسعت سے کام لیا جائے ان میں کسی طرح کی تقیید کے ذریعے تضییق جائز نہیں ہے)

(4) ما من العبادات على وجه العموم لا يدل عليه على وجه الخصوص.

 

…..اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ عبادات کی کیفیات میں ذرا سی بھی تبدیلی قطعا روا نہیں ہے…

 

دوم : اگر معاملہ ویسا ہی ہے جیسا یہ لوگ کہہ رہے ہیں تو پھر ہاتھ اٹھا کر اجتماعی ذکر و دعا کو بدعت تصور کرنا غلط قرار پائے گا حالانکہ عام طور پر محققین اہل حدیث کی یہی رائے ہے .. کیونکہ انفرادی طور پر دعا میں ہاتھ اٹھانا سنت اور آداب دعا میں سے ہے اور دعا کرنا بھی نیک اور مستحب عمل ہے بلکہ یہ عبادتوں کی اصل اور مغز ہے پھر ان دونوں چیزوں کا مجموعہ اجتماعی صورت میں آنے کی وجہ سے بدعت کیسے قرار پایا…. ؟؟

 

اسی طرح نماز کے بعد انفرادی طور پر دعا کرنا سنت مؤکدہ ہے پھر حنفی بریلوی حضرات اسی عبادت کو اجتماعی طور پر کرنے سے بدعتی کیوں قرار پائے…

 

اسی طرح انفرادی طور پر اللہ کے رسول پر درود و سلام بہت ساری فضیلتوں کا جامع عمل ہے اس کے باوجود بریلویہ باجماعت صلاۃ و سلام بھیجنے پر بدعتی کیوں قرار پائے…

 

اسی طرح نماز کے لیے انفرادی طور پر اذان دینا سنت نبوی ہے اور بڑے اجر و ثواب کا کام ہے اگر کچھ لوگ مل کر جماعت کے ساتھ اذان دیں تو اس میں کیا قباحت ہے سب کے سب ثواب کے مستحق ہوں گے اور قیامت کے دن سب کی گردنیں لمبی ہوں گی…. آپ حضرات ایسا کیوں نہیں کرواتے کیوں بہت سارے لوگوں کو اذان کے ثواب سے محروم رکھتے ہیں…

 

مبادا اگر میں ابھی چار لوگوں کے ساتھ مل کر اذان دینے لگوں تو فورا آپ حضرات مجھ ناچیز کے اس فعل کو بدعت کے کوڑے دان میں پھینک دیں گے اور مجھے لائق ملامت سمجھیں گے… ایسا کیوں ؟؟؟؟

 

کیوں کہ یہ ساری عبادات سلف صالحین سے ان مذکورہ کیفیات پر ثابت نہیں ہیں اس لیے نا ؟؟؟؟

 

تو پھر جب اجتماعی طور پر افطاری کروانا ثابت نہیں ہے تو وہ کیسے عبادت قرار پائے گا… ؟؟

 

 

(3) سوم : اگر آپ حضرات کی بات صحیح تسلیم کر لی جائے تو پھر بدعت اضافیہ کا تصور ہی باطل قرار پائے گا… کیونکہ بدعت اضافیہ کا مطلب ہی یہ ہے کہ کوئی عبادت عمومی طور پر ثابت ہو مگر اسے کسی خاص عدد ،مقدار ، کیفیت یا ہیئت کے ساتھ خاص کر دیا جائے ..

چنانچہ عبادات کے باب میں جتنی بدعتیں ہیں ان میں سے اکثر اسی نوعیت کی ہیں …اور اہل بدعت اپنی بدعت کو سنت اور عبادت باور کرانے میں اس سے متعلق وارد کسی نہ کسی عام نص سے ضرور استدلال کرتے ہیں تو کیا ان کے ان عمومی دلائل سے استدلال کرنے کی وجہ سے ان کی بدعت بطور عبادت تسلیم کر لی جائے… ؟ وإن لا فلا…

 

لہذا غور فرمائیں !!

 

رہا دوسرا مسئلہ کہ میت کی جانب سے افطار کرا سکتے ہیں یا نہیں تو اس سلسلے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے بنا بریں مسئلہ ہذا بھی ان دنوں اہل نظر کے ہاں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس کا جواب اللہ کی توفیق سے درج ذیل ہے:

شرعی تعلیمات اور نصوص قرآن و حدیث کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ میت کی طرف سے افطاری کرانا جائز نہیں ہے۔ یہی ہمارے استاد محترم شیخ ابو عبد العزیز محمد یوسف مدنی حفظہ اللہ، فضیلۃ الاستاذ سیف الرحمن الصلیح المدنی حفظہ اللہ اور مفتی جامعہ اسلامیہ دریاباد شیخ محمد جعفر الہندی حفظہ اللہ وغیرہما کا موقف ہے اور یہی درست اور راجح بھی ہے۔ اس ترجیح کی بنیاد چند باتوں پر ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:پہلی بات:

ایصال ثواب اور افطاری ایک عبادت ہے اور عبادت کے لیے ثبوت درکار ہے مگر قرآن و سنت اور آثار سلف میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ نہ تو اللہ کے رسول نے کبھی کسی مردے کی جانب سے افطاری کروائی ہے اور نہ ہی صحابہ یا تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حالانکہ افطار کروانے کی فضیلت پر حدیث وارد ہے اور سلف صالحین اس کا غایت درجہ اہتمام بھی کرتے تھے۔ حضرت زيد بن ثابت رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مَن فطَّر صائماً كان له مثل أجره غير أنه لا ينقص من أجر الصائم شيء”

(جس نے کسی روزہ دار کو افطاری کروائی اسے بھی اتنا ہی اجر وثواب حاصل ہوگا اور روزہ دار کے اجر وثواب میں سے کچھ بھی کمی نہيں ہوتی) سنن ترمذي حدیث نمبر:807، سنن ابن ماجہ حدیث نمبر:1746، علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے بھی صحیح الجامع (6415) میں درج کیا ہے۔

سلف صالحین رحمہم اللہ تعالی کھانے کھلانے کی حرص رکھا کرتے تھے اور اسے افضل عبادات میں سے خیال کرتے تھے۔

بعض سلف رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے:

مجھے اسماعیل کی اولاد سے دس غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اپنے دس بھوکے ساتھیوں کو بلا کر کھانا کھلاؤں۔

بہت سے صحابہ کرام اور سلف حضرات تو روزہ کی حالت میں اپنی افطاری کسی اور کو دینے پر ترجیح دیتے تھے، جن میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما اور داود الطائي، مالک بن دینار، احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالی عنہم شامل ہيں۔ اور ابن عمر رضي اللہ تعالی عنہما تو یتیموں اور مسکینوں کے بغیر افطاری ہی نہیں کرتے تھے۔

اور بعض سلف حضرات تو اپنے مسلمان بھائیوں کو کھانا کھلاتے اور خود روزہ کی حالت میں ان کی خدمت کرتے تھے، ان میں حسن بن مبارک شامل ہيں۔

ان تمام باتوں کے باوجود کہیں بھی یہ مذکور نہیں ہے کہ صحابہ کرام نے یا تابعین عظام نے کسی میت کی جانب سے افطار کرایا ہو۔ اور یہ اصول ہے کہ“کل خير في اتباع من سلف وكل شر في اتباع من خلف” یعنی ہر قسم کی بھلائی سلف صالحین کی اتباع میں ہے اور ہر قسم کا شر وفساد اتباع خلف میں ہے۔ لہذا میت کی جانب سے قرآن خوانی، قربانی اور روزہ افطاری یہ سب غیر ثابت شدہ اعمال ہیں جن کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں ہے اور جب بغیر دلیل کسی عمل کو عبادت سمجھ لی جائے تو وہ بدعت بن جاتی ہے۔دوسری بات:

یہ ہے کہ انسان دوسروں کے صرف انہی اعمال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جن کا اس کے لیے مفید ہونا شریعت اسلامیہ میں ثابت ہو خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ کیونکہ اللہ رب العزت نے قرآن مجید کے اندر فرمایا ہے: “وأن ليس للإنسان إلا ما سعى” یعنی انسان کے لیے صرف وہی کچھ ہے جسے اس نے خود کی کوشش سے حاصل کیا ہو۔ لہٰذا یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ کوئی بھی عمل جو میت نے نہیں کیا ہے اس کا ثواب یا عقاب اس تک نہیں پہنچے گا سوائے ان اعمال یا اشیا کے جن کی استثنا شریعت اسلامیہ میں موجود ہے۔ اس آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ میت کو دوسروں کا ثواب بالکل نہیں پہنچے گا کیونکہ کتاب وسنت میں بہت سارے نصوص اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ میت کو دوسرے کے عمل کا ثواب پہنچے گا۔ اسی لیے محققین علمائے کرام کا یہ کہنا ہے کہ میت کو دوسروں کے صرف انہی اعمال سے فائدہ ہوگا جن کا میت کے حق میں مفید ہونا شارع علیہ السلام نے بتا دیا ہو۔ اسی توجیہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے قول “وأن ليس للإنسان إلا ما سعى” اور ایصال ثواب کے ثبوت میں وارد دیگر نصوص شرعیہ کے مابین تطبیق ممکن ہے۔وہ اعمال جن کا ثواب میت تک پہنچنا شریعت میں ثابت ہے:

(1)دعا:

کیوں کہ دوسروں کی دعا سے مدعو لہ کا فائدہ اٹھانا قرآن و سنت اور اجماع امت کے دلائل سے ثابت ہے:

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:{واستغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنات} اسی طرح ایک دوسرے مقام پر اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے: {والذين جاءوا من بعدهم يقولون ربنا اغفر لنا ولإخواننا الذين سبقونا بالإيمان ولا تجعل في قلوبنا غلاً للذين آمنوا ربنا إنك رءوف رحيم} یعنی بعد میں آنے والے مومنین اپنے اور گزرے ہوؤں کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ تو ہمیں بخش دے اور ہمارے ان مومن بھائیوں کو بھی بخش دے جو ایمان میں ہم پر سبقت لا چکے ہیں۔

اس آیت میں دوسروں کے حق میں دعا کرنا مومنوں کی علامت بتائی گئی ہے۔ لہذا میت کے لیے کوئی بھی دعا کرسکتا ہے۔

(2)میت کی جانب سے صدقہ:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: أَنَّ رجلا قال لِلنّبِيّ صلَّى اللَّه عَليْه وَسلَّم إِنّ أُمِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وأَظُنّهَا لَوْ تكلّمتْ تَصَدَّقَتْ فَهَلْ لها أَجْرٌ إِنْ تصدّقْت عنْها قال نعم”

ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہوگیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انھیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کردوں تو کیا انھیں اس کا ثواب ملے گا؟ آپ نے فرمایا ہاں ملے گا۔( صحيح البخاري: 1388، صحيح مسلم)(3)میت کی طرف سے فرض یا نذر کا روزہ جو اس سے چھوٹ گیا ہو:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اللہ کے رسول نے فرمایا: “من مات وعليه صيام صام عنه وليه” یعنی: جو آدمی انتقال کرجائے اور اس پر کچھ روزے لازم ہوں تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزے رکھے۔ (متفق عليه)

( ولی وارث کو کہتے ہیں اور یہ قرآن و حدیث کی دلیل سے ثابت ہے)(4) میت پر اگر حج فرض ہو تو اس کی طرف سے حج کی ادائیگی کے ذریعے اس تک ایصال ثواب جائز ہے:

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں: أن امرأة جاءت إلی النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم فقالت: إن أمي نذرت أن تحج فماتت قبل أن تحج، أفأحج عنها؟ قال،نعم حجی عنها، أرأیت لو کان علی أمك دین أکنت قاضیته؟ قالت: نعم۔قال: فاقضوا الذی له، فإن اللّٰه أحق بالوفاء”

ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی لیکن وہ حج کرنے سے پہلے فوت ہوگئی ہے تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اس کی طرف سے حج کرو۔ تمھارا کیا خیال ہے اگر تمھاری والدہ پر قرض ہوتا تو اسے ادا کرتی؟ اس نے کہا: ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتے ہیں کہ اس کا قرض ادا کیا جائے لہٰذا تم اسے ادا کرو!

(صحیح البخاری، کتاب الاعتصام: 7315، صحیح مسلم، کتاب الصیام: 1149)(6) میت پر اگر نذر کا پورا کرنا رہ گیا ہو تو اس کو پورا کیا جا سکتا ہے:

دلیل حضرت ابن عباس کی مذکورہ بالا حدیث۔

اور ان کے علاوہ وہ اعمال جن کا ذکر شریعت میں وارد ہوا ہے اور سلف صالحین نے جن پر عمل کیا ہے۔ اگر کوئی ایسا عمل جس کے ذریعے میت کو ایصال ثواب شریعت میں ثابت نہیں ہے یا سلف صالحین نے اس کے ذریعے ایصال ثواب نہیں کیا ہے تو ہمارے لیے اس کے ذریعے ایصال ثواب درست نہیں ہے۔

اور ان تمام احادیث کی معارض نہیں ہے صحیح مسلم کی وہ حدیث جسے حضرت ابو ہریرہ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ والہ و سلم سے روایت کرتے ہیں: “إذا مات ابن آدم انقطع عمله إلا من ثلاث: صدقة جارية، أو علم ينتفع به، أو ولد صالح يدعو له” کیونکہ اس حدیث میں “انقطع عمله” سے خود میت کا عمل مراد ہے نہ کہ دوسرے کا عمل۔ اسی وجہ سے “انقطع عمله” کہا ہے “انقطع العمل له” نہیں کہا اور دونوں جملوں کے مابین واضح فرق ہے۔

البتہ ولد صالح کی دعا کو میت کا عمل اس لیے قرار دیا گیا ہے کیونکہ انسان کی اولاد خود اسی کی کمائی ہے کیونکہ وہی اس کی پیدائش کا سبب ہے۔ لہذا حدیث میں جو استثنا ہے وہ خود میت کے اپنے عمل کی انقطاع سے استثنا ہے نہ کہ دوسروں کے اعمال سے۔ ( مستفاد من کلام الشیخ ابن عثیمین)

اسی طرح مردہ انسان بھی اپنے انہی اعمال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جن کا ذکر شریعت مطہرہ میں وارد ہوا ہے اور وہ صرف تین چیزیں ہیں:

(1) صدقہ جاریہ جو خود اس نے کر رکھا ہو

(2) ولد صالح کی دعا

(3)اس کا ایسا علم جس سے بعد میں آنے والے فائدہ اٹھائیں۔ جیسا کہ حدیث میں ہے حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں اللہ کے رسول نے فرمایا ہے: “إِذا مات الإنْسان انْقطع عنْه عمله إِلّا من ثلاثة: إِلّا من صدقة جارية، أَو علْم ينْتفع به، أَوْ ولد صالح يدْعو له.رواہ الامام مسلم فی صحيحه ( ١٦٣١ ) اور استثنا کا مطلب ہی یہ ہے کہ جو مستثنیٰ کے علاوہ ہو وہ مستثنیٰ کے حکم سے خارج ہے چنانچہ یہ تین چیزیں مستثنیٰ ہیں ان کا ثواب میت تک پہنچے گا اور ان کے علاوہ میت کے جتنے اعمال ہیں وہ مستثنیٰ منہ ہیں لہذا ان کا ثواب میت تک ہرگز ہرگز نہیں پہنچے گا۔تیسری بات:

جو لوگ اسے درست سمجھتے ہیں وہ اس کے جواز کے لیے اسے صدقہ پر قیاس کرتے ہیں لیکن ان کا یہ قیاس باطل ہے کیونکہ صدقہ ایک الگ عبادت ہے اور روزہ افطاری ایک بالکل الگ عبادت۔ اور قیاس کے لیے یہ شرط ہے کہ مقیس اور مقیس علیہ میں کوئی شرعی فارق نہ ہو جبکہ صدقہ اور افطاری میں شرعی فارق موجود ہے وہ اس طور پر کہ آپ بلا کراہت کسی کو بھی افطاری کروا سکتے ہیں خواہ وہ امیر ہو یا غریب و فقیر مگر صدقہ وزکات پر صرف اور صرف فقرا و مساکین کا حق ہے۔ نہ تو مالداروں کے لیے صدقہ وزکات کھانا جائز ہے اور نہ ہی کھلانا۔چوتھی بات:

یہ ہے کہ میت کی طرف سے کھانا کھلانا شریعت مطہرہ میں ثابت نہیں ہے خواہ وہ بطور صدقہ ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی میت کی جانب سے جو صدقہ مشروع ہے اس میں کھانا شامل نہیں ہے بلکہ الٹا یہ کافروں کا دین ہے۔ ہندو مذہب میں میت کی روح کو سکون پہچانے کے مقصد سے “روٹیاہی” کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کفار و مشرکین سے اہل بدعت نے بھی اسے اپنالیا ہے چنانچہ یہ لوگ بھی تیجہ دسمی اور چالیسہ کی صورت میں میت کی طرف سے کھانا کھلانے کا اہتمام کرتے ہیں۔

لہذا میت کی طرف سے کھانا کھلانا یا افطاری کروانا ایک طرح سے کفار و مشرکین اور اہل بدعات وخرافات کی مشابہت قرار پائے گا۔ (مستفاد من کلام الشیخ محمد جعفر الہندی)

اور اگر کسی عمل میں عدم دلیل کے ساتھ ساتھ کفار و مشرکین کی مشابہت بھی شامل ہو جائے تو اس کی حرمت اور عدم جواز میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ ایک تو اللہ کے رسول نے “إنه ليس شيء يقربكم إلى الجنة إلا قد أمرتكم به وليس شيء يقربكم إلى النار إلا قد نهيتكم عنه” رواه أبو بكر الحداد في “المنتخب من فوائد ابن علويه القطان ” (١٦٨ / ١) وصححه الألباني في الصحيحة (2866) فرما کر یہ بتا دیا کہ کوئی بھی عمل جو تقرب الہی کا باعث ہو اس کا حکم میں نے اپنی امت کو دے دیا ہے۔ لہذا کوئی ایسا عمل جس کا باعث ثواب یا عبادت ہونا رسول سے ثابت نہیں ہے یا اس پر قرآنی یا حدیثی یا اثری دلیل موجود نہیں ہے تو اس کو عبادت سمجھنا بدعت ہے اور فرمان الہی“اليوم أكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا” کا بھی یہی مطلب ہے۔دوسری بات یہ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے“من تشبه بقوم فهو منهم” رواه أبو داود (4031) وأحمد ( 5667 ) وحسنه أحمد شاكر، والألباني، وشعيب الأرنؤوط۔ یعنی جس نے بھی کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے، کہہ کر کسی غیر قوم کی مشابہت بالکل حرام اور ناجائز قرار دیا ہے۔ امام ابن تیمیہ اس حدیث کی شرح کرت ہوئے فرماتے ہیں “وهذا الحديث أقل أحواله أن يقتضي تحريم التشبه بهم ، وإن كان ظاهره يقتضي كفر المتشبه بهم” یعنی اس حدیث کا کم از کم یہ تقاضا ہے کہ کفار سے مشابہت حرام ہے، اگرچہ ظاہری طور پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان سے مشابہت رکھنے والا شخص کافر ہے “اقتضاء الصراط المستقيم” (1/270)

لہذا ان تمام باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ میت کی جانب سے افطاری کروانا ایک طرف تو غیر ثابت شدہ اور غیر شرعی بے اصل وبے دلیل عمل ہونے کی وجہ سے بدعت ہے تو دوسری طرف کفار و مشرکین کی مشابہت کی وجہ سے سخت ممنوع اور حرام فعل ہے۔

والله أعلم بالصواب

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *