اہل مدارس کا پیغام اہلِ ثروت کے نام

 

 

اہلِ مدارس کا پیغام اہلِ ثروت کے نام۔

 

از قلم: عرفان ابو طلحہ تیمی

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

یہ تلخ حقیقت ہے کہ مدارس اسلامیہ ایک دینی قلعہ اور علم و آگہی کا حسین سنگم ہے، اس کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ مسلمانوں کے ارتقاء کا زمانہ، دوسری بات یہ ہے کہ مدارس کی تاریخ اس امت میں مدرسہ “صفہ” سے جا ملتا ہے، یا بالفاظ دیگر یہ کہا جائے کہ مدارس اسلامیہ کی تاریخ غار حرا سے بھی ملتی ہے، مدارس اسلامیہ ہند کے کارنامے ایک کھلی کتاب کی مانند ہیں، اس نے اپنے طول طویل دور تاریخ میں جو افراد پیدا کیے انہوں نے ملک اور قوم وملت کی خاطر بےپناہ اور بے لوث خدمات انجام دیں۔ جسے دنیا کھبی بھی فراموش نہیں کر سکتی ہےاور اگر کر بھی دے تو اس کا انکار ویسے ہی ہے جیسے دوپہر کے وقت سورج کا اور چاندنی رات میں چاند کا انکار۔

مگر افسوس کہ اس حقیقت کے باوجود آج قومی وبین الاقوامی سطح پر مدارس اسلامیہ کو مشکوک اور ترچھی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، ستم بالا ستم یہ کہ اس سے ہر ممکن بدنام کیا جا رہا ہے ملک کی خفیہ ایجنسیاں اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہیں حکومت بھی مشکوک نگاہوں سے اسے دیکھ رہی ہیں، اتنا ہی نہیں بلکہ اس میں پڑھنے والے طلبہ کو بغیر کسی ثبوت کے دہشت گرد اور ٹیررسٹ کے الزام میں جیلوں میں قید وبند کر دیتے ہیں اور انہیں مختلف زاویوں سے ٹار چر کرتے ہیں۔

خود مسلمانوں کی سوچ مدارس اسلامیہ کے تئیں اچھی نہیں ہے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مدارس اسلامیہ سے پڑھ کر نکلنے والے طلبہ و طالبات ملک وسماج کے لئے ایک طرح کا بوجھ ہوتے ہیں، نکمے ہوتے ہیں، اس لئے مدارس میں اپنے بچوں اور بچیوں کو داخل کرنا ان کی زندگی اور کیریئر کو خراب کرنا ہے۔

تو آیئے مدارس اسلامیہ کے کردار کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا یہ ملک وملت کے لئے کس قدر سودمند اور مفید ہے، جہاں تک ملک کی بات ہے تو ۱۸۵۷ء کی بغاوت ہو یا 1947ء کی جنگ آزادی ان ہی مدارس نے ملک کو کثیر تعداد میں مجاہدین فراہم کئے جہنوں نے انگریزوں کے ہر ظلم و ستم سہہ کر اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ملک کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد اور مکتی کرایا اگر مدارس کے تعلیم یافتہ اور خوشاچیں حضرات جنگ آزادی میں پیش پیش نہ ہوتے تو آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوتا۔

جہاں تک امت مسلمہ کی تعمیر کی بات ہے تو ان مدارس کے کارنامے روز روشن کی طرح عیاں وبیاں ہیں۔۔

مسلمان بادشاہوں نے ملک پر تقریباً آٹھ سو سال تک حکومت کی ،مگر جب ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو معلوم ہو گا کہ ان بادشاہوں نے اسلام کو نقصان ہی پہنچایا، نہ مسلمانوں کے لئے مدارس ومکاتب کھولے اور نہ کوئی یونیورسٹی قائم کی، قومی خزانے کو اپنی عیش و عشرت پر خرچ کیا، تاج محل، لال قلعہ بنوایا، اگر مسلمانان ہند کو اسلام سے روشناس کرایا تو انہیں مدارس نے عیسائیت، قادیانیت، مہدویت، باطنیت کا مقابلہ کیا تو انہیں مدارس نے، یہاں کے مسلمانوں کو جسمانی وذہنی غلامی سے نکالا تو انہیں مدارس نے، مسلم سماج سے شرک وبدعت، اندھی تقلید، بے جا رسوم ورواج ختم کئے تو انہیں مدارس نے، جھاڑ پھونک، تعویذ گنڈہ کے نام پر ایمان لوٹنے والے ڈھونگی باباؤں کا خاتمہ کیا تو انہیں مدارس نے، یہی مدارس ہیں جس نے مسلمانوں کو سکھایا کہ تمہاری عزت و کامرانی اسلام سے وابستگی میں ہے، مدارس نے مسلمانوں کو بتایا کہ تمہاری الگ تہذیب اور پہچان ہے، رھن سہن، لباس و پوشاک، بول چال میں کہیں وہ دوسری قوموں میں گم نہ ہو جائے، مدارس ہی کی بدولت مسجدیں آباد ہیں، مدارس سے مسلمانوں میں ایمان بالغیب کا شعور بیدار ہوا، مدارس سے اہلِ وطن کو اسلام کا صاف وشفاف پیغام ملا۔

محترم قارئین!

مدارس اسلامیہ مسلم سماج کے لئے پاور ہاؤس کا درجہ رکھتے ہیں جس طرح پاور ہاؤس پورے علاقے میں روشنی سپلائی کرتا ہے اسی طرح مدارس اسلامیہ مسلم امت میں دین کی روشنی پہنچا کر سماجی، اخلاقی، دینی شعور پیدا کرتے ہیں۔

نیز، مدارس اسلامیہ یہ وہ فیکٹری ہیں جس سے ہزاروں تعداد میں خالص توحید کے جیالوں کو اپنی پوری مصروفیات کے باوجود تیار کرتے ہیں پھر پوری دنیا میں پھیلے بت پرستی کا خاتمہ کرتا ہے، یہ مدارس اسلامیہ ہی ہیں کہ برے سے برے اور نازک حالات میں بھی امت مسلمہ کی اصلاح وہدایت میں لگے رہتے ہیں اور غیر مسلموں میں اسلام کا پرچار وپرسار کرتے ہیں۔

 

حضرات قارئین کرام!

مدارس اسلامیہ کے قیام کا مقصد روز اول سے ہی خالص کتاب اللہ وسنت رسول ﷺ کی تعلیمات کو سیکھنا اور سکھانا نیز، اسے عام کرنا ہے، جیساکہ نبی ﷺ نے فرمایا: ” جس ہدایت اور علم کو دے کر بھیجا گیا ہوں اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو عمدہ اور قابل کاشت زمین پر برستی ہے جو بارش کے پانی کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے اور زیادہ مقدار میں گھاس اور سبزہ اگاتی ہے، زمین کی دوسری قسم وہ گڑھے ہیں جو بارش کے پانی کو روک لیتی ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہیں خود پیتے ہیں، جانوروں کو پلاتے ہیں اور کھیتی باڑی کرتے ہیں، اور یہ موسلا دھار بارش جب سخت اور پتھریلی زمین میں برستی ہے تو نہ پانی اس میں ٹھہرتا ہے اور نہ ہی کوئی سبزہ اگتا ہے یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے علم دین کو حاصل کیا اور دوسروں کو سکھایا اور اس شخص کی مثال جس نے تکبر اور گھمنڈ سے اس علم کی طرف توجہ ہی نہیں دیا اور اللہ تعالی کی ہدایت کو قبول نہیں کیا چٹیل میدان کی طرح ہے جہاں سے بارش کا پانی بہہ کے نکل جاتا ہے”

(بخاری)۔

اس بلیغ مثال سے محمد ﷺ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ علم وحی علم نافع ہے۔ جو اسے وابستہ ہوگا وہ خود فائدہ اٹھائے گا اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائے گا، یہ وہ سدا بہار علم ہے جس سے انسان کا جسم اور دل و دماغ زرخیز ہوجاتا ہے یوں تو دنیا میں ڈھیر سارے علوم ہیں جو صرف دنیا طلبی ہے جو کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتے ہیں قیامت کے دن اس لئے مضبوطی کے ساتھ مدارس اسلامیہ سے جٹ جائیں اور اپنی آخرت کو سنوار لیں۔

 

محترم قارئین!

تقریباً یہ لاک ڈاؤن تین یا چار مہینے کو عبور کر رہے ہیں اور یہ کسی بھی عاقل وبالغ سے مخفی نہیں ہے دوسری جانب مدارس کو مالی نقصان ہو رہا ہے اہلِ مدارس کی خوبصورت نیندیں حرام ہوچکی ہیں کہ آیا مدرسین حضرات کی تنخواہ کہاں سے لاؤں کس طرح مدارس وجامعات چلے ہر صاحب مدارس کو یہ فکر ستارہی ہے۔

ایسی صورتحال میں تمام اہل مدارس ملتمس ہے کہ اہلِ ثروت حضرات اس جانب خصوصی توجہ مبذول فرمائیں اور اپنی صدقات و خیرات عطیات کہیں نہ دے کر مدارس و جامعات کو بائ اکاونٹ ارسال کر کے عنداللہ ماجور اور عندالناس مشکور ہوں۔

کیونکہ:

 

رت آئی ہوئی تھی اب تلک اہل مدارس کی

کیا خبر کہ بنے کباب یہ لاک ڈاؤن مدارس کی۔

 

نہ جانے کب تلک کھل پائے یہ لاک ڈاؤن

ترس رہے ہیں مدرس کھا گئے یہ لاک ڈاؤن۔

 

حاصل ہو رہا تھا راتب سبھی مدرس کو اب تلک

معلوم کیا کسی کو کھا جائے راتب یہ لاک ڈاؤن۔

 

اہلِ ثروت توجہ دیں اب اہلِ مدارس پر

چل رہے ہیں یہ مدارس اب تلک خیرات پر۔

 

بنا چکے ہیں اہلِ مدارس اکاونٹ سبھی

ڈال، خیرات مدارس سنوار لے آخرت سبھی۔

 

التجاء طلحہ کی ہے اب یہی تمام اہلِ ثروت سے

نہ رکے صدائے قال اللہ وقال الرسول مدارس سے۔

 

آئیے ہم سب مل کر رب العالمین سے دعا کریں کہ اے میرے پروردگار عالم تو مدارس اسلامیہ کے تئیں تمام مسدد راستے کو ہموار کر دے، اور بہت سارے اہلِ ثروت کی توجہ کو مدارس اسلامیہ کی طرف پھیر دے۔ آمین۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *