رمضان المبارک:صدقہ فطر، احکام و مسائل

چودہویں قسط

از قلم :طیبہ شمیم تیمی بنت ابو انس شمیم ادریس سلفی/ بابو سلیم پور/ دربہنگہ* .

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

معزز قارئین: ماہ رمضان کے احکام میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے اختتام پر صدقہ فطر ادا کیا جائے. صدقہ کا معنی و مطلب تو ہم جانتے ہی ہیں البتہ فطر کا معنی ہے چھوڑنا, روزہ افطار کرنا, یا روزہ نہ رکھنے کے ہیں. اور شرعی اصطلاح میں صدقہ فطر اس صدقہ کو کہتے ہیں جو ماہ رمضان کے روزہ ترک کرنے کی خوشی میں اور شکریہ کے طور پر ادا کیا جاتا ہے اور یہ رمضان کے اختتام پر نماز عید سے پہلے ادا کیا جاتا ہے اسے فطرانہ بھی کہا جاتا ہے. صدقہ فطر سن 2ھجری میں فرض کیا گیا جس سال ماہ رمضان کے روزے فرض کئے گئے. (المرقاة/159/4). اور اس کی فرضیت کی حکمت یہ ہے کہ اس کی ادائیگی سے ایک تو رمضان میں جو کوتاہیاں اور غلطیاں سرزد ہوئی اس کا کفارہ بنتا ہے یعنی (روزہ کے دوران روزہ دار سے جو لغو اور بے ہودہ اقوال و افعال صادر ہوتا ہے ان کا کفارہ بنتا ہے). اور دوسرا یہ ہے کہ غریب لوگوں کو کھانے کے لئے کچھ اشیاء مل جاتا ہے یعنی( ان کی مدد ہوتی ہے ).جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ :”فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو و الرفث و طمعة للمساكين “.رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے صدقہ فطر کو اس لئے فرض کیا ہے تاکہ روزہ دار (دوران روزہ کی ہوئی) لغو اور فحش حرکات سے پاک ہو جائے اور مساکین کو کھانے کا سامان مل سکے “.(ابو داؤد /1609/وحسنہ الالبانی فی ارواء الغلیل /843).نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ہر شخص پر اس کی ادائیگی فرض قرار دیا ہے جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :کہ “فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير علي العبد و الحر, والذكر والأنثى, والصغير والكبير من المسلمين, و أمر بها أن تودى قبل خروج الناس إلى الصلاة “.رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے مسلمانوں کے غلام,آزاد, مرد و عورت بچے اور بوڑھے سب پر صدقہ فطر فرض کیا ہے. ایک صاع (یعنی تقریبا اڑھائی کلو) کھجوروں سے اور ایک صاع جو سے. اور اس کے متعلق حکم دیا ہے کہ یہ فطرانہ نماز (عید) کے لئے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے. (بخاری /1503/مسلم/984).صدقہ فطر ہر آزاد مسلمان پر اپنی طرف سے اور ان افراد کی طرف سے نکالنا واجب ہے جن کی کفالت اس کے ذمہ ہے مثلا بیوی, اولاد اور غلام وغیرہ. جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے :”أنه كان يعطي صدقه الفطر عن جميع أهله صغير هم وكبيرهم, عمن يعول و عن رقيقه, و رقيق نسائه “.وہ اپنے چھوٹے بڑے, ان تمام گھر والوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرتے تھے جن کی کفالت کے ذمہ دار تھے اور اپنے اور اپنی بیویوں کے غلاموں کی طرف سے بھی ادا کیا کرتے تھے. (رواہ ابن شیبہ /37/4/حدیث موقوف /وصححہ الالبانی فی الارواء الغلیل /320/3).نیز صدقہ فطر کھانے کی اجناس میں سے ایک صاع ہے. جس کا وزن (تقریبا اڑھائی کلو گرام) ہوتا ہے. جیسا کہ حديث رسول الله صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہے :”فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر, صاعا من تمر أو صاعا من شعير……الحديث “. رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فطرانہ فرض کیا, کھجور یا جو کا ایک صاع… (بخاری /1503).اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی جنس طعام سے ہی فطرانہ ادا کرتے تھے. جیسا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :کہ “كنا نخرج زكاة الفطر صاعا من طعام, أو صاعا من شعير, أو صاعا من تمر, أو صاعا من اقط, أو صاعا من زنيب “.ہم اناج سے ایک صاع, یا جو سے ایک صاع, یا کھجور سے ایک صاع, یا پنیر سے ایک صاع, یا منقی سے ایک صاع فطرانہ (صدقہ فطر) نکالتے تھے. (بخاری /1506/مسلم/980).اور دوسری روایت میں ہے :ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے عہد میں عید الفطر کے دن جنس طعام سے ایک صاع بطور فطرانہ ادا کرتے تھے. اور اس وقت ہمارا کھانا جو, منقی, پنیر اور کھجور سے تھا. “(بخاری /1510).صدقہ فطر ہر فرد کی طرف سے ایک صاع /تقریبا اڑاھائی کلو گرام /ادا کیا جائے گا. اس مقدار سے زیادہ کوئی شخص نکالنا چاہے تو بعض علماء نے کہا کوئی حرج نہیں اور بعض نے مکروہ قرار دیا ہے البتہ واجب مقدار سے کم نکالنا بالاتفاق ناجائز ہے. (مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ /70/25).اور خوراک و اجناس کے بدلے قیمت دینے کو اکثر علماء نے ناجائز قرار دیا ہے. یعنی صدقہ فطر ان کا کہنا ہے صدقہ فطر اجناس میں سے ہی دیا جائے گا اور بہتر یہی ہے کہ حدیث میں مذکور اشیاء نکالا جائے. اگر یہ نہ ہو تو کچھ بھی بطور خوراک استعمال کیا جاتا ہے وہ صدقہ کے طور پر دیا جائے. ہاں کسی عذر کی وجہ سے قیمت دینا چاہے تو بعض علماء نے اسے جائز قرار دیا ہے حدیث کے الفاظ (وطعمة للمساكين) سے استدلال کرتے ہوئے چونکہ صدقہ فطر دینے کا مقصد مساکین کو کھانا کھلانا ہے اور وہ قیمت کی ادائیگی سے بھی ممکن ہے. نیز کسی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے قیمت کی ادائیگی کی ممانعت بھی ثابت نہیں. تاہم افضل یہ ہے کہ اجناس سے ہی فطرانہ ادا کیا جائے اس لئے اسی پر عمل کرنا افضل و بہتر ہے. اور صدقہ فطر نماز عید سے پہلے ہی ادا کیا جائے گا. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے اسی کا حکم دیا ہے. فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہے :”و أمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة “. کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے حکم دیا ہے کہ یہ فطرانہ نماز عید کے لئے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے. (بخاری /1503).اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے :کہ” فمن أداها قبل الصلاةفهي زكاة مقبولة ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من صدقات “. جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا تو قابل قبول زکاۃ ہوگی. اور جس نے نماز کے بعد اسے ادا کیا تو وہ صرف صدقات میں سے ایک صدقہ ہی ہے(یعنی صدقہ فطر نہیں ہو گا). (ابو داؤد /1609/وحسنہ الالبانی فی الارواء الغلیل /843).اور اگر کوئی عید سے ایک دو دن پہلے ادا کر دے تو بھی کوئی حرج نہیں. جیسا کہ حدیث میں ہے :”وكان ابن عمر يعطيها الذين يقبلونها و كانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو يومين “.حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر ہر فقیر کو جو اسے قبول کرتا. دے دیا کرتے تھے اور لوگ صدقہ فطر عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے ہی دیا کرتے تھے. (بخاری /1511).اور صدقہ فطر کا مصرف راجح قول کے مطابق صرف مساکین اور فقراء و حاجت مند لوگ ہیں کیونکہ ان کے متعلق حدیث میں ہے :”طعمة للمساکین “.اسی سے اس کی (فقراء و مساکین کی) تخصیص ہوتی ہے .البتہ بعض لوگ اس حدیث (أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بزكاة الفطر). اور دیگر حدیث کے لفظ زکاۃ سے استدلال کر کے کہا کہ اس حدیث میں صدقہ فطر کو زکاۃ کہا گیا ہے, لہٰذا اس کا مصرف بھی وہی ہوگا جو زکاۃ کا مصرف ہے یعنی (جن آٹھ لوگوں کا سورہ توبہ میں ذکر ہے). وہی آٹھ لوگ ہیں. لیکن راجح یہی ہے کہ (وطعمۃ للمساکین) کے ذریعے اس کی تخصیص آ گئی ہے اس لئے اسی کو ترجیح دی جائے گی اور اسی پر عمل کرتے ہوئے صدقہ فطر صرف غرباء و مساکین اور فقراء و حاجت مند اور ضرورت مندوں کو ہی دیا جائے گا. . قارئین کرام :ہم نے جان لیا صدقہ فطر فرض اور واجب ہے اور یہ ہر فردکی طرف سے ایک صاع (اڑھائی کلو) اجناس اور خوراک عید گاہ جانے سے پہلے ادا کرنا ہے. اس لئے ہر گھر کے حاکم اور گارجین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی طرف سے اور اپنے زیر کفالت تمام لوگوں کی طرف سے فطرانہ عید گاہ جانے سے پہلے ہی ادا کر دیں اور ہر ممکن یہی کوشش کریں کہ اجناس ہی نکالیں الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو تو قیمت ادا کر سکتے اڑھائی کلو اناج یعنی گیہوں اور چاول وغیرہ کا جو قیمت ہوتا ہے اتنا. تاکہ تمام لوگوں سے جو روزہ میں کمی و کوتاہی سرزد ہوئی ہے اس کا کفارہ ہو اور تمام کا روزہ عند اللہ مقبول ہو. اور ہر شخص اپنے روزے کا پورا پورا اجر و ثواب پا سکیں. . اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ تو ہمیں سنت کے مطابق اپنی زندگی گزارنے اور ہر کام وقت پر کرنے کی توفیق عطا فرما. آمین ثم آمین تقبل یا رب العالمین.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *