نگاہ لطف کے ہم بھی ہیں محتاج

 

نگاہ لطف کے ہم بھی ہیں محتاج

 

از : محمد وقار احمد مصباحی

جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی.

 

ارباب حل و عقد پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مدارس اسلامیہ کی تاریخ بہت قدیم اور پرانی ہے.. تاریخ اسلام کی سب سے پہلی درسگاہ عالمی شہرت یافتہ مقدس چبوترہ صفہ تسلیم کی جاتی ہے.. یہاں تشنگان علوم کی تعلیم و تربیت کا مفت انتظام و اہتمام ہوا کرتا تھا.. اشاعت اسلام کے ساتھ ساتھ افتتاح مدارس کا سلسلہ شروع ہوا.. رزلٹ کے طور پر عصر حاضر تک چھوٹے بڑے معروف و غیر معروف ان گنت مدراس معرض وجود میں آے..ابتداء اسلام سے عصر حاضر تک بے سرو سامانی کے باوجود انھیں مدارس نے گلشن اسلام کی آبیاری کے بیڑے اپنے کمزور و ناتواں پہ اٹھاے .. قومی تعاون اور رحمت الہی کے سہارے چلنے والے ان مدارس پر بارہا تنگدستی کے پہاڑ ٹوٹے مگر سال رواں مشہور مہلک وبا نے مدارس کے سرپرستوں کے ذہن و دماغ کو ماؤف کر دیا.. ان کی بےبسی دیکھ کر عوام نے امداد رسانی کا سلسلہ شروع کیا.. بلا شبہ یہ ایک قابل ستائش اقدام ہے.. مگر ان بڑے مدارس کے معاونین چھوٹے غیر معروف اداروں کے حالات اب بھی ناگفتنی ہیں .. ان کی طرف عوام کی نگاہ لطف کرم نہیں اٹھتی .. بلا شبہ یہ ایک لمحہء فکریہ ہے..

 

قارئین با تمکین!!!

ادارہ بڑا ہو یا چھوٹا ہر ایک کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے.. اگر ایک طرف بڑے مدارس میں بنیادی کلاسز میں طلبہ کی تعداد کم ہوتی ہے.. یعنی اگر اولی تا رابعہ کلاسز میں ان کی تعداد سو کے قریب ہوتی ہے تو وہیں سابعہ فضیلت میں ان کی تعداد دو سو کے قریب دکھائی دیتی ہے.. یعنی ایک طرح سے ان مدارس کی توجہ بڑے کلاسز پہ زیادہ ہوتی ہے.. لیکن بڑے کلاسز میں ان کی گنتی بڑھنے اور بڑھانے کا راز سربستہ یہ ہے کہ گاؤں دیہات کے چھوٹے چھوٹے ادارے اپنے ننھے منے پچوں کو تراش خراش کر بڑے اداروں کی طرف روانہ کرتے ہیں..ٹیسٹ وغیرہ کے ذریعے ان اعلیٰ اداروں میں ان مستقبل کے ضو فشانی کرنے والے آفتاب و ماہتاب کا ایڈمیشن ہوتا ہے.. بنیادی کلاسز کے سابق طلبہ اور نو وارد طلبہ مل کر بڑی درسگاہوں کے حسن کو دوبالا کر دیتے ہیں.. اب ان اداروں کا فریضہ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً رہنمائی کرنا ہوتا ہے.. چونکہ چھوٹے مدارس میں ان کے دماغوں کو صیقل کیا جا چکا ہوتا ہے.. اس لیے بہت جلد عقابی نگاہ طلبہ قرآن و حدیث منطق و فلسفہ کے رموز و اسرار سے آشنا ہونے لگتے ہیں.. ان تاریخی درسگاہوں سے علماء کے معزز القاب سے مشرف ہو کر اس قدرتی کارگاہ کے الگ الگ جولان گاہوں میں گوناگوں فرائض کی ادائیگی میں مستغرق ہو جاتے ہیں .. کچھ فلک پیما علمائے کرام ملک و بیرون ملک میں واقع دینی اداروں کی زمام قیادت و نظامت تھام لیتے ہیں تو کچھ ہمدرد قوم و ملت علماء مساجد میں امامت کی ذمہ داری قبول کر لیتے ہیں.. کچھ دنیاوی علوم سے آشنا علمائے ذیشان سرکاری ملازمت کے اعلی عہدوں کی زینت بنتے ہیں تو کچھ شاہین صفت حساس علماء یونیورسٹیوں کی طرف پا بہ رکاب ہوتے ہیں اور وہ علوم اسلامیہ ہو کہ عصریہ ہر دو فیلڈ میں نمایاں کامیابی حاصل کر دینی اداروں کا سر فخر سے اونچا کر دیتے ہیں.. یعنی چھوٹے چھوٹے دیہاتی اداروں کے مقابل ان بڑے بڑے اداروں کی اہمیت ہو بہو ایسی ہی ہے جیسے نظام فلکی میں کواکب و انجم کے درمیان شمس بازغہ کی اہمیت مسلم ہے..ان کی عالمگیر شہرت کی وجہ سے نام شماری کی چنداں حاجت نہیں..مدارس اسلامیہ کی انھیں بے مثال کارناموں کو دیکھ کر شاعرمشرق علامہ اقبال نے کہا تھا…..

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی

نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا

دوستو!!!

چمکتی اشیاء کی طرف نگاہوں کا اٹھنا فطری ہے.. کانٹوں سے نفرت و عداوت اور پھولوں سے لگاو اور الفت ہر کسی کو ہوتی ہے.. دیہاتی بودوباش ترک کر شہری بودوباش کی تمنا کون نہیں کرتا.. لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ گاؤں اور دیہاتی بودوباش کی اہمیت نہیں.. بلکہ ہر ایک کی اپنی شناخت مسلم ہے.. وجہ جگ ظاہر ہے.. جس طرح کانٹے اعدا سے پھولوں کی پاسبانی کرتے ہیں..دیہات میں شہری لوگوں کی پرورش اور نشو و نما ہوتی ہے..اور پھر وہی لوگ صاحب دولت ہو کر شہروں کی رونق افزائی کرتے.. بالکل یہی حال چھوٹے چھوٹے غیر معروف اداروں کا ہوتا ہے.. یہی وہ دینی علمی قلعے ہوتے ہیں جو ملک و بیرون ملک کےنامور مشہور اداروں کے لیے کانٹوں کی طرح پاسبان بن کر طلبہ کو نکھار کر تیار کرتے ہیں.. غوروفکر کی بات یہ ہے کہ یہ ادارے طلبہ کی اس وقت پرورش و نگہبانی کرتے ہیں.. جب وہ بے بال و پر ہوتے ہیں..شعور و آگہی کے دشمن ہوتے ہیں.. جب انھیں والدین کی طرح پیار و محبت سے تعلیم و تربیت دینے کی ضرورت ہوتی ہے.. جب وہ اکل و شرب گفتار و رفتار اٹھنے بیٹھنے اور سونے و جاگنے کے درست طور و طریقے سے نا بلد ہوتے ہیں.. یعنی بڑے مدارس کے مقابل چھوٹے چھوٹے مدارس کی اہمیت پہ روشنی ڈالی جائے تو صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے چھوٹے ادارے بڑے بڑے ادارے کو جہالت و نادانی کے پلندہ طلبہ کے حشو و زواید کو کاٹ چھانٹ کر رنگ وروغن سے آراستہ و پیراستہ کر کے فریش مال سپرد کرتے ہیں.. اتنی قربانیوں کے باوجود صرف بڑے اداروں کو سراہنا آنکھوں کا تارا تصور کر نا اور ان چھوٹے چھوٹے اداروں کو نظر انداز کر دینا سراسر غلط اور عقل و دانش کے متضاد ہے..

 

میں بڑے اداروں کی اعانت و تعاون کا قطعی مخالف نہیں.. ایک زمانے تک ایک بڑے ادارے سے میرا تعلق رہا ہے.. بہر حال!!! میری ناقص تحریر کا مطمح نظر یہ ہے کہ اس نازک دور میں چھوٹے چھوٹے مدارس کے تعاون کی طرف بھی توجہ دی جائے.. بڑے اداروں کاتو حال یہ ہوتا ہے کہ ان کے فارغین ایک بڑی تعداد میں ہوتے ہیں.. ان کے فارغین ملک و بیرون ملک ہر جگہ جلوہ ریز ہوتے ہیں.. ان کے معاونین ان گنت ہوتے ہیں.. ان کے محبین بہت کشادہ ظرف ہوتے ہیں.. ان کے چندہ وصولنے والے ممبران متعدد اور متعین ہوتے ہیں.. انھیں حکومت سے بھی کچھ فنڈ کی امید ہوتی ہے.. کچھ مدارس کے پاس ذاتی بزنس اور تجارت بھی ہوتی ہے.. مگر چھوٹے چھوٹے ادارے تقریباً مذکورہ بالا سارے ذرائع سے محروم ہوتے ہیں.. اور جب کبھی بھی کوئی مصیبت پورے ملک پر ٹوٹ پڑتی ہے تو یہ بے چارے ادارے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں.. بے دست و پا ہو جاتے ہیں.. ان کے پیروں تلے زمین کھسک جاتی ہے.. ان کی نگاہوں کے سامنے اندھیرا سا چھا جاتا ہے.. حد یہ کہ ان کے حاشیہ ذہن میں اپنے وجود و بقا کا سوال بار بار گردش کرنے لگتا ہے.. ماضی میں ملکی و عالمی پیمانے پر شہرت نہ بٹور سکنے کی وجہ سے کھل کر عوامی تعاون کی اپیل سے گھبراتے نظر آتے ہیں.. ہمیں ان حقائق اور چنوتیوں کو تسلیم کرنا از حد ضروری ہے.. ورنہ انجام گلستاں کیا ہوگا سمجھ سے بالاتر ہے..

ملک کے ناگفتہ بہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مدارس کے فارغین اور عوام کو صرف بڑے اداروں پہ توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے..بلکہ بڑے اداروں کے تعاون کے ساتھ ساتھ ان چھوٹے چھوٹے مدارس پہ بھی نگاہ کرم فرما نے کی اشد حاجت ہے.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *