چیک اینڈ بیلنس

چیک اینڈ بیلنس

 

ثناءاللہ صادق تیمی

 

ہمارے دوست بے نام خاں کی بڑی بڑی اور بے حد اہم خوبیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اپنی معلومات کثیرہ وافیہ غزیرہ سے ہمیں بھی روشناس کرانا اپنا دینی ، اخلاقی ، سماجی ، انسانی اور معاشی حق سمجھتے ہیں اور وہ یہ مانتے ہیں کہ اگر وہ اپنے علم ودانش سے ہمیں اسی طرح نہال نہ کرتے رہیں تو ہم جس طرح حساب کتاب میں پھسڈی ثابت ہوئے ہیں اسی طرح پوری زندگی میں بھی فیل ہوتے رہیں گے ۔ وہ بڑی محبت اور محنت سے مجھے چیک اینڈ بیلنس کا مفہوم سمجھاتے ہیں اور جب میری سمجھ میں کچھ نہيں آتا تو ناراض تو ضرور ہوتے ہیں لیکن پھر دوسرے پیرایے میں سمجھانے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور یوں نہ میں سمجھ پاتا ہوں اور نہ ان کی قوت تفہیم سے گلوخلاصی مل پاتی ہے ۔

دیکھو مولانا ، چیک اینڈ بیلنس کا مطلب ہوتا ہے کہ حکومت کے کسی بھی ادارے کو اتنی آزادی نہ دی جائے کہ وہ دائرے سے نکل کر کسی اور کے حق کو دبالے ، یعنی کے ہر کسی کو کسی نہ کسی کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے ۔جمہوری نظام میں چیک اینڈ بیلنس کی بہت زيادہ اہمیت ہے ۔ یہاں اگر پارلیمنٹ ہے تو عدالت بھی ہے اور اگر عدالت ہے تو پارلیمنٹ بھی ہے ۔ پولیس ہے تو عوامی نمائندے بھی ہیں اور حکومت ہے تو پریس بھی ہے اور پریس ہے تو اصول و ضوابط اور حدود بھی ہيں ۔

میں نے کہا : خان صاحب ، اتنے زيادہ ” بھی ” میں آپ نے مطلب الجھا دیا ہے ، میری تو سمجھ میں کچھ نہيں آیا ؟ خان صاحب ، بگڑتے بگڑتے ہنسے اور کہنا شروع کیا : میں بھی کس گدہے مولوی کو سمجھانے میں لگ گیا ، سنو مولانا ، مطلب یہ ہے کہ کوئی مکمل آزاد نہیں ہے سب پر کوئی نہ کوئی ہے جو اسے اس کی حد بتانے کا کام کرتا ہے ۔ میری ہنسی چھوٹ گئی اور میں نے کہا : ایسا ہے تو مودی جی کو ، یوگی جی کو کون حد بتاتا ہے ؟ خان صاحب تھوڑا پریشان ہوئے اور زوردار قہقہہ مارا اور وہ بھی اس انداز میں جیسے بڑا تگڑا جواب مل گیا ہو ۔” مولوی صاحب ، دونوں پر ناگپور کا چلتا ہے۔ وہیں سے حد اور اوقات بتانے کا کام ہوتا ہے۔ کچھ سمجھے یا نہیں ؟

خیر ان باتوں کو چھوڑو ، دیکھو انسانی زندگی میں بھی چیک اینڈ بیلنس کی بڑی اہمیت ہے ۔ کسی بھی کام کو اتنی اہمیت مت دو کہ وہ کسی اور ضروری کام کا نقصان کردے ۔ یوں سمجھو کہ تم بڑے پڑھاکو ہو لیکن شادی شدہ ہو ، بیوی بچے ہیں تو پڑھو لکھو لیکن یاد رکھو کہ بیوی بچے بھی ہیں ، ان کے بھی حقوق ہیں اور حقوق توازن سے ادا کرو ۔ ایسا بھی نہ ہو کہ محبت میں اندھے ہو جاؤ اور اپنی وہ ذمہ داریاں بھی ادا نہ کرسکو جن کی وجہ سے محبت کرپاتے ہو ۔ کچھ سمجھے مولانا !!

یہ ایک بہت اہم اصول ہے زندگی کے لیے ۔ اچھی اور کامیاب زندگی میانہ روی میں ہی ہے ، توازن نہ ہو تو سارا کھیل بگڑ جائے ۔ انسان کو احتساب کرتے رہنا چاہیے کہ کہیں کسی چيز کو اس کی حیثیت سے زيادہ اہمیت تو نہیں دی جارہی ،کہیں ایسا تو نہیں کہ جسے جتنی اہمیت دینی تھی اتنی اہمیت نہیں مل پارہی ؟ مولانا صاحب ، تعلقات میں بھی اس پر دھیان رکھنا ہوتا ہے ۔ انزلوا الناس منازلھم کے تحت ہی چلنا چاہیے ۔ تمہاری قوم کو اس کی بڑی ضرورت ہے کہ اس پر غور کرے ۔تم لوگ اب تک گویوں کو ، گلا پھاڑ مقررین کو اور جذبات مشتعل کرنے والے سیاستدانوں کو اپنا رہنما مانتے ہو اور انہیں کیا سے کیا مقام دیتے ہو اور اس چکر میں مفکرین ، دانشوران ، بہی خواہ علما اور دوربیں قائدین کو در خور اعتناء نہیں سمجھتے اور یوں دن بہ دن زوال سے دوچارہوتے جاتے ہو ۔مولانا صاحب ، ہم تو کہتے ہیں کہ شخصی اور ذاتی تعلقات کے معاملے میں بھی اس اصول کو یاد رکھو ، کسی کی محبت میں وہاں تک نہ گرجاؤ کہ اٹھ ہی نہ سکو اور کسی کی دشمنی میں ایسے بھی اندھے نہ ہو جاؤ کہ کوئی اور تمہارے اندھے پن کا آسانی سے فائدہ اٹھالے ۔چیک اینڈ بیلنس سے کام لو ۔نہ محبت بقیہ اور جذبات پر مکمل حاوی ہوجائے اور نہ نفرت بلکہ ہرایک اپنے اپنے دائر ے میں رہے ورنہ لازمی طور پر کسی اور کا دائرہ مار کھاجائے گا ۔

میں نے اب خان صاحب کو روکا اور کہا : دیکھیے خان صاحب ، میں نفرت کو سرے سے ایک منفی رویہ سمجھتا ہوں ، اگر نفرت کرنی ہے تو برائی سے کیجیے اور جس کے اندر جس قدر برائی پائی جائے اسی قدر اس سے نفرت کا براء کا معاملہ کیجیے بقیہ محبت میں وسعت ہی رکھیے ۔ تعلقات کو حساب کتاب کی نظر سے مت دیکھیے ، ذاتی تعلقات کو تعلقات ہی رہنے دیجیے ، ہر جگہ تجارتی ذہن اچھا نہیں ہوتا ۔ محبت بانٹتے رہیے ، جو آپ سے قطع تعلق کرے اس سے بھی صلہ رحمی کیجیے ، جوآپ کو دیکھ کر منہ پھیرلیتا ہواسے بھی سلام کردیا کیجیے ، کسی کو بھی اس کے حق کی عزت دیجیے ، کسی کو کمتر مت خیال کیجیے ، اپنی طرف سے محبت عام کیجیے تو دوسری طرف سے بھی محبت ہی ملے گی

تم پیار کی سوغات لے گھر سے تو نکلو

رستے میں تمہیں کوئی بھی دشمن نہ ملے گا

چیک اینڈ بیلنس کی ضرورت سے انکار نہيں لیکن احتساب خویش بھی کوئی چيز ہے ۔ کیا ضروری ہے کہ کوئی دوسری طاقت آپ کو آپ کی اوقات بتائے ، یہ بہتر نہ ہو کہ خود آپ کو آپ کا اپنا ضمیر ہی اصل آئینہ دکھانے کا کام کرتا رہے ۔ خان صاحب ، ہم تو اللہ کے یہاں جوابدہ ہیں نا ؟ ہمارے ایک ایک کام ، ایک ایک پل کو رکارڈ کیا جارہا ہے نا ؟ ہمیں ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہے یا نہیں ؟ اگر یہی سچ ہے تو ہم کسی اور کے محتاج کیوں ہوں ؟ کیوں نہ اپنا جائزہ لیتے رہیں ؟ اگر یہ شعور احتساب خویش بیدار ہوجائے تو پھر چیک اینڈ بیلنس اتنا معنی نہیں رکھتا ویسے ہمارے دین نےعدل کی تعلیم دی ہے ، کہیں کسی عہدے پر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرنا اور عدل کو پورا کرنا اسلام کا مطالبہ بھی ہے اور سماجی استحکام کے لیے ضروری بھی ۔افسوس کہ ہم عدل کے تقاضوں سے دور ہوتے جارہے ہیں ورنہ ہم خود اپنے خلاف گواہ ہوتے اور دشمن یہ دیکھ کر حیران ہوجاتے کہ یہ کیا نظام ہے جس کے ماننے والے اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی ناانصافی نہيں کرپاتے ۔

خان صاحب نے میری طرف دیکھا ، مسکرائے اور کہا : کیا مولانا یار ، میری اچھی باتوں کو بھی تم نے کس طرح سےالگ رخ دے دیا ۔ بھیا میرے ، دونوں کی اہمیت ہے اور دونوں پر سنجیدگی سےغور کرنے کے ساتھ ساتھ عمل در آمد کی ضروری ہے ۔ احتساب خویش سے کس کو انکار ہے لیکن جو احتساب خویش نہيں کرتے ، جنہیں ضمیر کی آواز سنائی نہیں دیتی اور جو صرف اپنے سے مضبوط طاقت کی ہی سنتے ہیں ان کے لیے چیک اینڈ بیلنس بہت ضروری ہے ۔ مولانا صاحب ، کنفیوژن سے نکلیے اور خوش رہیے ۔ اسی لیے آپ کو کوئی اچھی بات سمجھانے سے پہلے ہزار بار سوچنا پڑتا ہے ۔ اللہ حافظ ۔۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *