میں نے اسے طلاق دے دی

 

“میں نے اسے طلاق دے دی”

پہلی قسط

 

تحریر…. محمد فاروق حیدر علی

متعلم.. جامعہ امام ابن تیمیہ

 

ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد میں اپنے تمام ہم عصر ساتھیوں کے ساتھ مسجد سے قریب” پاکر “کی درخت کے سائے میں بیٹھے جو درخت کافی اونچا اور سایہ دار ہے ہوائیں بالکل ٹھنڈی اور صاف آتی ہیں جس کے آنے کی وجہ درخت کے نیچے ایک تالاب کا ہے جس کی گہرائی گرائی، چوڑائی چکلائی گاؤں کے اطراف میں مشہور و معروف ہے ۔میں نے تمام ساتھیوں سے کہا کہ یار بہت عجیب و غریب امر ہے کہ نیاز خان جو ہمارے قریبی احباب میں سے ہیں ہمہ وقت میرے ذہن و دماغ اور دل کے نہاں خانے میں رہتے ہیں ہم دونوں کی دوستی اور ایک دوسرے سے والہانہ انسیت و محبت کا پورے گاؤں میں چرچا ہے لیکن آج کئی روز ہو گئے ان سے ملے ہوئے اس نے اب تک نہ کال کی اور نہ نماز پڑھنے کے لیے کبھی مسجد تشریف لائے آخر وجوہات کیا ہیں کسی کو معلوم ہو تو بتائیں، اتنا کہنا ہی تھا کہ دیکھتا ہوں کہ مغرب کی جانب سے بہت ہی تیزی کے ساتھ آرہے ہیں جب میرے قریب پہنچے تو میں مُسکراتے ہوئے ان سے کہا” تفضل يا أخي العزيز” وہ کہنے لگے گھر چلیں بہت ہی ضروری باتیں کرنی ہیں ، نیاز خان کے مسلسل اصرار کرنے کی وجہ سے میں گھر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اپنے ہم عصر ساتھیوں سے کہا بعد میں ملتے ہیں دوست محترم بہت پریشان لگ رہے ہیں، جوں ہی ہم لوگ گھر ان کے بیڈ روم میں پہنچے اور کرسی پر بیٹھے تو دیکھتا ہوں کہ دوست محترم نیاز خان کی آنکھیں نم ہیں آنسوؤں کا سیلاب جاری ہیں اور آنکھیں بہت تیزی سے برس رہی ہیں جس کے سبب داڑھی بھیگ چکی ہے اور نیاز خان بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ” میں نے اسے طلاق دے دی” اور یہ الفاظ انہوں نے دو سے تین مرتبہ دھرایا

یہ سننا تھا کہ میرے پاؤں تلے زمیں کھسک گئی اور میں ہکا بکا ہو گیا اور ذہن میں متنوع اور گوناگوں سوالات آنے لگے میں فوراً ایک سوال ان کو داغا کہ آخر آپ نے انہیں طلاق کیوں دی؟ پھر دوسرا سوال انہیں طلاق دینے کے وجوہات کیا ہیں؟ کیا وہ بہترین شکل و صورت اور خوش رنگ جسامت کی مالکہ نہیں ہیں؟ کیا وہ آپ کا حق ادا نہیں کرتیں ہیں؟ اسی طرح میں نے ان کو دس سے بارہ سوالات کر ڈالے پر ان تمام سوالات کے جوابات ان کے پاس بس ایک ہی تھا کہ رات و دن تو تو میں میں، گالی گلوج، لڑائی جھگڑے سے بہتر ہے کہ وہ اپنے گھر چلی جائیں اور اچھا رشتہ دیکھ کر نکاح کرلیں تاکہ زندگی کا یہ طویل سفر بلا مصائب و آلام، خوش و خرم کے ساتھ گزر جائے اور میں اللہ سے ان کے لئے دعا کرتا ہوں جس طرح ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے وفات کے بعد دعا کی تھیں کہ اے اللہ تو مجھے ابو سلمہ سے بہتر شوہر عطاء کرنا، تو اللہ نے انہیں محمد الرسول صلی اللہ علیہ و سلم جیسا عظیم الشان شخصیت عطاء کیا جو عالم کائنات کے لیے رحمۃ للعالمين، سید المرسلين بنا کر مبعوث کئے گئے تھے بالخصوص ویساہی میں ان کے لئے اللہ رب العالمین سے دعاء گو ہوں کہ ان کے زندگی میں مجھ سے بہتر شخص عطاء کرنا اور اس کی زندگی میں کشادگی پیدا کردینا اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ انہیں اللہ رب العزت کے اس قول “تسريح بإحسان” کے ساتھ رخصت کروں گا

دوست محترم پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ نے کتنی طلاقیں دیں اور کن الفاظ میں دیں؟

میں نے اسے بیک وقت تین طلاقیں دیں اور میرے الفاظ یہ تھے کہ فلاں میں نے آپ کو طلاق دے دیں ہیں آپ اپنے گھر چلی جائیں

بھائی صاحب آپ نے جو طلاقیں دیں وہ شرعی اعتبار سے غلط ہے لیکن ایک طلاق واقع ہوئی تین نہیں سورہ بقراء میں اللہ نے فرمایا( الطلاق مرتان) طلاق دو مرتبہ ہے یعنی وقفے کے ساتھ اکٹھے نہیں نیز ایک دوسرے مقام پر فرمایا (و الذين لم يبلغوا الحلم منكم ثلاث مرات، سورة النور 58) اس آیت میں لفظ مرات مرة کی جمع ہے اس میں تین اوقات کو بیان کیا گیا ہے وقفے کے ساتھ اکٹھے نہیں، لہذا ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ طلاق وقفے سے دینا صحیح ہے اکٹھے نہیں

امام مسلم نے اپنی صحیح میں ابن عباس رضی اللہ عنهما کے حوالے سے روایت کیا ہے کہ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهمَا قَالَ: كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ طَلَاق الثَّلَاثِ وَاحِدَة، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ؟ فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.) عہد نبوی، عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے دو سالوں تک تین طلاق کو ایک ہی طلاق شمار کیا جاتا تھا بعد میں حضرت عمر نے کہا کہ لوگ اس معاملہ میں تیزی دکھلانے لگے ہیں جس میں ان کے لئے مہلت تھی اس سورت میں کیوں نہ ہم اسے تین قرار دے دیں، پھر آپ نےتین قرار دے دیا، نیز امام ابن حزم ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں (ان طلاق الثلاث كان يرد على عهد رسول الله صلي عليه وسلم إلي الواحدة) تین طلاق نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد میں ایک طلاق شمار کیا جاتا تھا،

ابن عباس رضی اللہ عنہما کے تمام شاگرد اور دوسرے علماء کرام کا قول ہے کہ بیک وقت تین طلاق ایک طلاق شمار کی جائے گی، اور خود ابن عباس نے صاحب السیرۃ امام محمد بن اسحاق اسی کے قائل ہیں، نیز شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد رشید علامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہما نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے اور علامہ عبد العزیز بن باز رحمۃ اللہ کا بھی یہی فتویٰ ہے

مذکورہ تمام آیات قرآنیہ، احادیث نبویہ اور علماء کرام کے اقوال سے یہ واضح ہو گیا کہ بیک وقت تین طلاق ایک طلاق شمار کی جائے گی

دوست محترم طلاق جیسی قبیح شئی سے بچیں اور اپنی ازدواجی زندگی کے طویل سفر کو الفت و محبت کے ساتھ گزاریں اور ہمیشہ اللہ رب العزت سے دعا کرتے رہیں کہ اے باری تعالیٰ ہماری ازدواجی زندگی کو مضبوط اور مستحکم بنا دے، ہم دونوں میں ایک دوسرے کے لیے الفت و محبت پیدا کردے اور ہم سے جو غلطیاں سرزد ہو گئی ہیں انہیں معاف کر دے

اور آپ پر یہ لازم آتا ہے کہ ان سے الفت و محبت کے ساتھ مسکراتے ہوئے ملیں انہیں “كلكم راع و كلكم مسؤول عن رعیته “کے تحت ان کے ذمہ داری کا احساس دلائیں، ان کی چھوٹی بڑی تمام غلطیوں پر نشان دہی کریں اور انہیں اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کی نصیحت کریں اور ان کی بعض چیزوں کو نظر انداز کر کے چلنے کی کوشش کریں

اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اے باری تعالیٰ تو تمام امت مسلمہ کو طلاق جیسی مبغوض شئی سے بچا اور شیطان مردود جو پوری انسانیت کا کھلا دشمن ہے اسے اپنے مشن میں کامیاب نہ ہونے دے آمین

 

 

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *