نفرت وقت کی اہم ضرورت

نفرت وقت کی اہم ضرورت

عبید نظام

پوری دنیا کرونا وائرس کے عذاب میں مبتلا ہو کر کراہ رہی ہے۔ فرار کا دور دور تک کوئی راستہ نظر نہیں آ رہاہے۔ آنے والا ہر دن حضرت انسان کے لیئے مشکل اور پریشان کن ہوتا جا رہا ہے۔لوگ ان دیکھے موت سے خوف کھا رہے ہیں۔ایک دوسرے کو دیکھ کر ایسے بھاگ رہے ہیں مانو قیامت آگئی ہے۔ ایسا لگنے لگا ہے کہ برسوں تک کوئی واسطہ ہی نہ رہا ہو۔ہر فرد مشکوک و مشتبہ نظر آرہا ہے۔کھانا کھانے اور قضاء حاجت تک کے لیئے اپنے ہاتھ کا استعمال نہ کرنے والے لوگ بھی ہر دس منٹ میں بیس سیکنڈ تک ہاتھ کی صفائی کرنے میں لگے ہیں۔ عیاری، مکاری، چالبازی، دھوکہ دھری، حق تلفی کرکے شاندار مستقبل کے لیئے جمع کیے ہوئے روپیہ پیسے بھی دھیرے دھیرے خزانہ سے کھسک رہے ہیں ۔ ماتحت کام کرنے والے غریب مزدور کو بے جا ستانے والے اپنے گھر کی ہر صفائی کا خیال رکھ رہے ہیں، بشمول باتھ روم اور بیت الخلاء کی گھسائی تک کی ۔ لوگوں کے اس قدر متوحش اور خوف زدہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے خدا سے زیادہ سائنسی علوم پر منحصر حضرت انسان کا اس ان دیکھے، جان لیوا بیماری کا اب تک کوئی ویکسین یا دوا تیار نہ کر پانا۔ ابتداء میں تو لوگوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ یہ بیماری چند روزہ ہے لاک ڈاؤن کرکے،خود کو گھروں میں محصور کر کے،قیدی جیسی زندگی گزار کے،ایک دوسرے سے دوری بنا کر کے،عبادت گاہوں کو مقفل کرکے اس وباء سے جنگ جیت لیں گے پر اب تک غلو خلاصی کی کوئی راہ نظر نہیں آرہی۔مزید یہ کہ لوگ بھوک پیاس،مفلسی،بےروزگاری کے چپیٹ میں آکر دم توڑنے پر مجبور ہیں۔

اب جب کہ پوری دنیا بشمول ہندوستان کے اس وبائی مرض میں ہی روزمرّہ کی زندگی جینے کا عزم وارادہ کر چکی ہے۔ایسے میں اس وباء کا تصور ہی روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ خدا خیر کرے آنے والا وقت بہتر ہو۔ اب جبکہ اس وباء کے ساتھ ہی جینا ہے تو جینے کا اصول بھی بدلنا ہوگا۔ کیونکہ بہت سے لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی بیماری کا اثر ختم ہوجائے گا ۔کچھ نا سمجھ، نابلد اور مشکوک قسم کے لوگ (خصوصاً ہندوستان) کہ یہ خیال کر رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن فریب اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ گھر سے دور رہ رہے لوگ اپنے آبائی گھر اور اہل خانہ کے پاس جانے کے لیئے تڑپ رہے ہیں جو کہ ایک حد تک درست بھی ہے۔ مگر سکے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ابھی محبت کی نہیں نفرت کی ضرورت ہے یہی نفرت دراصل محبت ہے کیونکہ یہ بیماری باہر رہ رہے لوگوں کے اندر ہی ہے اور اب تک اس وباء نے دیہی علاقوں میں اپنا پیر نہیں پسارا ہے ورنہ سرکار اور محکمہ کے لیئے معاملات کو قابو کر پانا مشکل ہو جائے گا۔ خیر جب لوگ باہر سے آرہے ہیں اور بیماری کا اثر کم نہیں ہو پا رہا ہے۔

تو نفرت کو اپنا ہتھیار بنا لیں

۔ جب تک کلی طور پر اپنے آپ کو صحت مند نہ پالیں اہل خانہ سے دوری بنا کر رکھیں (ہوم قرنطینہ)خاص طور سے اہلیہ، بچے اور گھر کے بزرگوں سے۔ اپنے اہل خانہ کو ہلاکت میں ڈالنے کا موجب نہ بنیں ورنہ زندگی بھر آپ خود کو معاف نہیں کر پائیں گے۔

۔ معاشی تنگی کی وجہ کر اگر آپ کام کرنے جا رہے ہوں تو سفر سے لےکر کام کرنے، اور گھر آنے تک لوگوں سے فاصلاتی نفرت ضرور کریں۔

۔ اپنے اہل وعیال جو آپ کے ساتھ رہ رہے ہوں اس کے علاوہ کے شناسا سے ایسے بھاگیں جیسے شیر کو دیکھ کر بکری بھاگتی ہے۔

۔ دینی اجتماعات جہاں پر جانا کار ثواب ہوتا ہے وہاں جانے سے گریز کریں گھروں کو ہی عبادت گاہ بنا لیں۔

۔ بازاروں میں ضرورت کے وقت ہی جائیں اور خود کو لوگوں سے ایسے بچائیں جیسے کانٹے دار جھاڑیوں سے اپنا دامن بچاتے ہیں

۔ گھروں میں بنے روکھے سوکھے سادہ کھانے کو ترجیح دیں باہری کھانے کو حرام اور نفرت کے قابل سمجھیں تاکہ فضول خرچی اور بیماری سے بچیں۔

۔ اس طرح کی نفرت اس لیے ضروری ہے کہ یہ وبائی مرض دکھتا نہیں ہے بس لاحق ہو جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی لوگوں کو اپنے زد میں لے لیتا ہے۔

نوٹ۔ اس مضمون میں میں نے لفظ “نفرت” دوری کے لیئے استعمال کیا ہے۔

اللہم انی أعوذبک من البرص والجنون والجزام ومن سیئ الاقسام۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *