روزے کی فضیلت

روزے کی فضیلت

 

قسط 1

حسان عبد الغفار

 

صوم عربی زبان میں کسی چیز سے رکنے کو کہتے ہیں ۔( لسان العرب: 12/350).

” یعنی : کھانے، پینے، بولنے اور جماع کرنے سے رک جانا سب اس میں شامل ہے “. ( القاموس المحيط ،ص: 1020).

جیسا کہ اللہ رب العزت نے حضرت مریم کے قول کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ” إِنِّی نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمَـٰنِ صَوۡمࣰا “. ( مريم : 26).

” بیشک میں نے رحمان کے لئے روزے کی نذر مانی ہے “.

اور روزے سے ان کی مراد کلام سے خاموشی تھی، جیسا کہ اسی آیت کے اگلے حصے سے معلوم ہوتا ہے : ” فَلَنۡ أُكَلِّمَ ٱلۡیَوۡمَ إِنسِیࣰّا “. میں ( نے روزہ رکھا ہے لھذا آج میں) کسی سے بات نہیں کروں گی “.

 

چونکہ روزے دار کھانے پینے اور ہمبستری کرنے سے رک جاتا ہے اسی لئے اسی عربی زبان میں “صائم” کہتے ہیں ۔

 

شرعی تعریف :

صوم یعنی : روزے کی شرعی تعریف کرتے ہوئے شیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : هو التعبد لله سبحانه وتعالى بالإمساك عن الأكل والشرب، وسائر المفطرات ، من طلوع الفجر إلي غروب الشمس “. ( الشرح الممتع: 6/298 ).

 

” اللہ رب العزت کی عبادت کی خاطر طلوع فجر سے لیکر غروب شمس تک کھانے پینے اور دیگر مفطرات صوم سے رکنے کا نام صوم یعنی روزہ ہے “.

روزہ کی حکمت، خصلت اور فضیلت :

 

1 – روزہ ان اعمال میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے اللہ رب العزت نے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے ۔جیسا کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے : … وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا. ( الأحزاب: 35).

” … روزہ رکھنے والے مرد اور روزے رکھنی والی عورتیں،اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں،بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں( ان سب کے )لئے اللہ تعالٰی نے مغفرت اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے “.

2 – روزہ خیر کا جامع ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَأَن تَصُومُوا۟ خَیۡرࣱ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ .(البقرة: 184).

” تمھارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم باعلم ہو “.

 

3 – تقوی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے ۔جیسا کہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے : یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ كُتِبَ عَلَیۡكُمُ ٱلصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ.( البقرة :183).

” اے ایمان والو !تم پر روزہ رکھنا اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو ۔

 

4 – روزہ ایک ایسا مضبوط ڈھال ہے جس کے ذریعے سے مؤمن بندہ جہنم کی آگ سے بچ سکتا ہے ۔ جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قَالَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ : الصِّيَامُ جُنَّةٌ يَسْتَجِنُّ بِهَا الْعَبْدُ مِنَ النَّارِ، وَهُوَ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ “.( مسند أحمد : 23/33،رقم : 14669، وقال محققوا المسند: حديث صحيح بطرقه وشواهده).

” اللہ رب العزت فرماتا ہے : ” روزہ ایک ایسا ڈھال ہے جس کے ذریعے سے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے، اور وہ روزہ میرے لئے رکھتا ہے لھذا میں ہی اس کا بدلہ دوں گا “.

دوسری جگہ فرمایا :الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ، كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ “.( سنن النسائي | كِتَابُ الصِّيَامِ | ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ فِي فَضْلِ الصَّائِمِ : 2231، وصححه الألباني في صحيح سنن النسائي : 2230).

” روزہ ( جہنم کی)آگ سے بچاؤ کے لئے ڈھال ہے جس طرح کہ تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں دشمن کے وار سے بچاؤ کے لئے ڈھال ہوتی ہے“۔

 

مزید فرمایا : الصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَحِصْنٌ حَصِينٌ مِنَ النَّارِ “.( مسند أحمد : 15/123،رقم : 9225، وصحح إسناده محققوا المسند، 15/123. وقال الألباني في صحيح الترغيب والترهيب ،1/578: حسن لغيره).

“روزے ( جہنم کی) آگ سے بچنے کے لئے ڈھال اور مضبوط قلع ہیں “۔

 

5 – روزہ نفسانی خواہشات اور شہوات کو کچل دینے والا ہے، کیونکہ جب انسان سیر ہو اور اس کا پیٹ بھرا ہوا ہو تو اسے شہوت کی تمنا ہوتی ہے ،اور جب بھوکا ہوتا ہے تو خواہشات وشہوات سے اجتناب کرتا ہے ۔ جیسا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا، لَا نَجِدُ شَيْئًا، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ؛ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ “.( صحيح البخاري | كِتَابُ النِّكَاحِ | بَابٌ : مَنْ لَمْ يَسْتَطِعِ الْبَاءَةَ فَلْيَصُمْ : 5066).

” ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نوجوان تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہیں تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ نوجوانوں کی جماعت! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لئے طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہئے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا”.

6 – اللہ کے راستے میں ایک دن کا روزہ رکھنے کی وجہ سے اللہ رب العزت اس روزے دار کے چہرے جہنم کی آگ سے ستر سال کی مسافت کے برابر دور کر دیتا ہے ۔جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَعَّدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا “.(صحيح البخاري | كِتَابُ الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ | بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ : 2840).

” جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن بھی روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت کی دوری تک دور کر دے گا “.

 

7 – اللہ کے راستے میں ایک دن کا روزہ رکھنے کی وجہ سے انسان کو جہنم کی آگ سے آسمان وزمین کے درمیان کی مسافت کے برابر دور کر دیا جاتا ہے ۔جیسا کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ” مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ خَنْدَقًا، كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ “. ( سنن الترمذي | أَبْوَابُ فَضَائِلِ الْجِهَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. | بَابٌ : مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّوْمِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ : 1624،وقال الألباني في صحيح سنن الترمذي، 2/232 : حسن صحيح ).

” اللہ کے راستے میں جو شخص ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اور آگ کے درمیان اسی طرح کی ایک خندق بنا دے گا جیسی زمین و آسمان کے درمیان ہے”.

امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : “في سبيل الله” سے مراد ” في طاعة الله ” ہے یعنی : جس نے اللہ رب العزت کے چہرے کے ارادے سے روزہ رکھا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ : “فی سبيل الله ” سے مراد ” الجهاد في سبيل الله ” یعنی : اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں روزہ رکھا ۔( المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم :3/217).

اسی طرح امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : فیه فضيلة الصيام في سبيل الله ، وهو محمول على من لا يتضرر به ، ولا يفوت به حقا ، ولا يختل به قتاله ولا غيره من مهمات غزوه۔( شرح النووي علي صحيح مسلم : 8/281).

” اس ( حدیث) میں اللہ کے راستے میں روزہ رکھنے کی فضیلت موجود ہے ،اور اسے اس شخص پر محمول کیا جائے گا جسے روزہ رکھنے کی وجہ سے ( میدان جنگ میں) کسی ضرر کے لاحق ہونے، کوئی حق فوت ہو جانے، قتال کے اندر خلل پیدا ہونے یا کسی جنگی مہمات اور معاملے میں کمی درپیش ہونے کا خدشہ نہ ہو”.

8 – روزہ ایسا عمل ہے جس کا کوئی مثل اور بدل نہیں ۔ جیسا کہ ابو امامۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: يَا رَسُولَ اللَّهِ،مُرْنِي بِأَمْرٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ. قَالَ : ” عَلَيْكَ بِالصِّيَامِ، فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ “.

“اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسی چیز کا حکم دیجئیے جس سے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ پہنچائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی ( عبادت ) نہیں ہے”۔

جبکہ دوسرے الفاظ میں ہے : أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : ” عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ ؛ فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ “.( سنن النسائي | كِتَابُ الصِّيَامِ | ذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ فِي فَضْلِ الصَّائِمِ : 2221،2222 وصححهما الألباني في صحيح سنن النسائي: 2/122).

” انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے”.

9 – روزے دار جنت کے اندر ریان نامی خصوصی دروازے سے داخل ہوں گے۔جیسا کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، يُقَالُ : أَيْنَ الصَّائِمُونَ ؟ فَيَقُومُونَ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ “.( صحيح البخاري | كِتَابٌ : الصَّوْمُ. | بَابٌ : الرَّيَّانُ لِلصَّائِمِينَ : 1896) .

” جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں، قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہو گا، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہے؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے، ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جا سکے گا”.

10 – روزہ گناہوں کا کفارہ ہے ۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ” فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ، وَمَالِهِ، وَوَلَدِهِ، وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ، وَالصَّوْمُ، وَالصَّدَقَةُ، وَالْأَمْرُ، وَالنَّهْيُ “.( صحيح البخاري | كِتَابٌ : مَوَاقِيتُ الصَّلَاةِ. | بَابٌ : الصَّلَاةُ كَفَّارَةٌ : 525).

“انسان کے گھر والے، مال اولاد اور پڑوسی سب فتنہ ( کی چیز ) ہیں۔ اور نماز، روزہ، صدقہ، اچھی بات کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا ان فتنوں کا کفارہ ہیں “.

11 – روزے دار بلاحساب وکتاب اجر سے نوازے جائیں گے ۔

12 – روزے دار کے منھ کی بو اللہ رب العزت کو مشک کے خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قَالَ اللَّهُ : كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ : إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ. وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ. لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا ؛ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ “.( صحيح البخاري | كِتَابٌ : الصَّوْمُ. | بَابٌ : هَلْ يَقُولُ : إِنِّي صَائِمٌ إِذَا شُتِمَ : 1904).

“اللہ پاک فرماتا ہے کہ: انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لئے ہے مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، اور روزہ( جہنم سے بچنے )کی ایک ڈھال ہے، اگر کوئی روزے سے ہو تو وہ فحش گوئی نہ کرے اور نہ ہی شور مچائے،اور اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑنا چاہے تو اس کا جواب صرف یہ ہو کہ میں ایک روزہ دار آدمی ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے، روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوں گی ( ایک تو جب ) وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور ( دوسرے ) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب پا کر خوش ہو گا “.

 

13 – روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لئے شفاعت کریں گے ۔ جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ الصِّيَامُ : أَيْ رَبِّ، مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ، فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ : مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ، فَشَفِّعْنِي فِيهِ “، قَالَ : ” فَيُشَفَّعَانِ “.( مسند أحمد: 6626، وقال الألباني في صحيح والترغيب والترهيب ،1/579: حسن صحيح).

” روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے ، روزہ کہے گا اے میرے رب ! میں نے اسے دن میں کھانے پینے اور شہوت کے کام سے روکے رکھا تھا ، لہذا اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرما ، قرآن کہے گا اے رب ! ہم نے اسے رات میں سونے سے روکے رکھا تھا ، لہذا اس کے بارے میں میری شفارش قبول فرما ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی ان دونوں کی شفارش قبول فرمالے گا “.

14 – روزہ بغض، کینہ اور وسوسے کو سینے سے نکال دیتا ہے ۔جیسا کہ ایک اعرابی صحابی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ : يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ “.( مسند احمد :23070،وقال محققو المسند : إسناده صحيح رجاله رجال الشيخين غير صحابيه، اس حدیث کو بزار نے “1057” بھی ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیاہے ،اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحيح الترغيب والترهيب ،1/599 میں “حسن صحيح” کہا ہے).

” صبر ( یعنی رمضان) کے مہینے کا روزے اور ساتھ ہی ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنا سینے سے بغض اور کی نے کو نکال دیتے ہیں”.

ابن الاثير رحمہ اللہ فرماتے ہیں : وحر الصدر : غشه، وحقده، ووسواسه. ( النهاية في غريب الحديث لابن الأثير: 5/160).

” وحر الصدر کا مطلب سینے میں موجود دھوکہ، کینہ اور وسوسہ ہے “.

 

15 – برابر مشروع روزہ رکھنے والوں کے لئے رب العزت نے جنت میں بالاخانے تیار کئے ہیں ۔جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :: ” إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا تُرَى ظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا، وَبُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا، فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ : لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَدَامَ الصِّيَامَ، وَصَلَّى لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ “.( سنن الترمذي | أَبْوَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. | بَابٌ : مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الْمَعْرُوفِ : 1984،وحسنه الألباني في صحيح الترمذي :3/7، وفي صحيح الجامع: 2/220).

“جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا” ، ( یہ سن کر ) ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کس کے لئے ہیں؟ آپ نے فرمایا: “جو اچھی طرح بات کرے، کھانا کھلائے، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کے لئے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں “.

16 – اللہ رب العزت روزہ دار کی دعا کو کبھی رد نہیں کرتا ہے ۔جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ : الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ، يَرْفَعُهَا فَوْقَ الْغَمَامِ، وَتُفَتَّحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ : وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ “. (سنن ابن ماجه | كِتَابُ الصِّيَامِ. | بَابٌ : فِي الصَّائِمِ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُ: 1752،وسنن الترمذي | أَبْوَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. | بَابٌ : مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ وَنَعِيمِهَا : 2526، وصححه الألباني في صحيح إبن ماجه: 2/86).

“تین آدمیوں کی دعا رد نہیں کی جاتی: ایک تو عادل امام کی، دوسرے روزہ دار کی یہاں تک کہ روزہ کھولے، تیسرے مظلوم کی، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قیامت کے دن بادل سے اوپر اٹھائے گا، اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جائیں گے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میری عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا گرچہ کچھ زمانہ کے بعد ہو”.

17 – روزہ کے عظیم اجر کی وجہ سے اللہ رب العزت نے اسے درج ذیل گناہوں کا کفارہ قرار دیا ہے ۔

1 – حالت احرام میں تکلیف کی وجہ سے سر منڈا لینے کا کفارہ ۔

2 – جو شخص ھدی کا جانور نہ پائے وہ تین دن کا روزہ وہیں پر رکھے اور سات دن کا روزہ جب اپنے گھر واپس آئے ۔

3 – قتل خطا کا کفارہ ۔

4 – قسم توڑنے کا کفارہ ۔

5 – حالت احرام میں شکار کرنے کا کفارہ ۔

6 – ظہار کا کفارہ ۔

7 – ماہ رمضان المبارک کے دنوں میں بیوی سے جماع کرنے کفارہ ۔

( دیکھئے، الصيام في الإسلام ،ص: 10-25)

18 – روزہ حرام اشیاء سے اجتناب کا ذریعہ ہے، کیونکہ جب انسان اللہ رب العزت کی خاطر حلال اشیاء کو ترک کر دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، تو حرام اور ناجائز اشیاء ترک کر دینے پر بدرجہ اولیٰ تیار ہوگا ۔

19 – روزہ اللہ رب العزت کی عطا کردہ نعمتوں کے شکر کا ایک وسیلہ ہے، کیونکہ روزے میں انسان کھانا، پینا ترک کر دیتا ہے جو کہ اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ہے، لھذا چند گھنٹوں اس سے رک جانا اس کی قدر وقیمت معلوم کراتا ہے، پھر انسان ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے پر راغب ہوتا ہے ۔

20 – روزہ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ رب العزت ہر لمحہ اس کی نگہبانی کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ طاقت وقدرت ، اسباب اور استطاعت کے باوجود اپنی خواہشات ، کھانے پینے اور دیگر حلال اشیاء کو ترک کر دیتا ہے، کیونکہ اسے یقین کامل ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *