کیا طلاق جبر و اکراہ واقع ہوگی؟

“کیا طلاق جبر و اکراہ واقع ہوگی؟”

 

تحریر… محمد فاروق حیدر علی

متعلم… جامعہ امام ابن تیمیہ

 

 

مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد ہمیشہ کی طرح ہم اپنے چند احبابوں کے ساتھ مسجد سے قریب دالان میں بیٹھے اور مختلف مضامین پہ گفتگو کر رہے تھے اسی اثنا میرے دوست نیاز خان مسجد سے نکلے اور مسکراتے ہوئے بلند آواز میں ہم لوگوں کو سلام کیا پھر مجلس کے آداب کے مطابق جہاں جگہ ملی وہیں خاموش بیٹھ گئے تھوڑی دیر بعد میں اس کی طرف دیکھا تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ بھی کچھ سوال کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ یہ شخص بغیر سوال کئے سکون سے نہیں بیٹھتے اگر یہ کہہ دیا جائے کہ ہمیشہ سوالات کی ایک ضخیم کتاب اپنے ساتھ رکھتے ہیں تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا میں نے کہا خان صاحب آپ بھی اپنی زبان کھولیں لوگ بہت مشتاق ہیں آپ کے سوالات سننے کا کیونکہ آپ کے سوالات ان کے فکر و نظر میں کشادگی، شعور و آگہی میں تازگی پیدا کرتی ہیں،اور انہیں معاشرتی میدان کی بہترین علم و فضل سے آراستہ کرتی ہیں

دوست محترم آپ میری بےجا تعریف نہ کریں تو بہتر ہوگا خیر میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں

 

میرے ایک دوست ہیں جس نے اپنے بہن کی شادی ایک شخص سے کی جس کا نام علقمہ ہے اور اپنی بیٹی کہکشاں کی شادی علقمہ کے چھوٹے بھائی راشد سے کی کچھ عرصہ بعد علقمہ نے اس کی بہن کو شرعی اعتبار سے طلاق دے دی جس کی وجہ سے میرا دوست علقمہ کے گھر اور خاندان والوں سے سخت نفرت کرنے لگا اب وہ اپنی بیٹی کہکشاں سے زبردستی کہہ رہا ہے کہ اس سے طلاق لے لو اور راشد کو مجبور کر رہا ہے کہ کہکشاں کو طلاق دے دو جب کہ راشد،کہکشاں ایک دوسرے سے والہانہ انسیت و محبت کرتے ہیں تو اب آپ یہ بتائیں کہ ایسی صورت میں راشد کہکشاں کو طلاق دے دے تو کیا وہ طلاق واقع ہو گئی؟

ماشاء اللہ خان صاحب آپ نے بہت ہی بہتر اور علمی سوال کیا ہے خیر آپ نے جو سوال کیا اس کو محدثین کرام و فقہاءِ عظام طلاق مکرہ کا نام دیتے ہیں یعنی شوہر کو اپنی بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کرنا اور اسے زبردستی طلاق دینے کا حکم دینا

خان صاحب کسی کا دل ایمان سے مطمئن ہو اور اسے کفر پر مجبور کردیا جائے جیسا کہ عمار بن یاسر، بلال، زبیر، سعد رضی اللہ عنهم کو مجبور کیا گیا تو ایسا شخص کافر نہیں ہوتا جیسا کہ اللہ نے فرمایا (من کفر بالله من بعد إيمانه إلا من أكره و قلبه مطمئن بالايمان؛ النحل:106) جو شخص ایمان لانے کے بعد پھر اللہ کے ساتھ کفر کر بیٹھے گا سوائے اس آدمی کے جسے مجبور کیا گیا ہو، دراں حالیکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو،

تو بالخصوص اسی طرح جسے طلاق پر مجبور کیا جائے اور طلاق کا سبب اس کے علاوہ کچھ اور نہ ہو تو وہ طلاق واقع نہیں ہوگی امام ابو داؤد عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا (لا طلاق ولا عتاق في غلاق) طلاق اور آزادی إغلاق (زبردستی) میں واقع نہیں ہوتی اور امام بخاری نے عباس رضی اللہ عنہ کا ایک قول نقل کیا ہے کہ (طلاق السكران و المستكره ليس بجائز) حالت نشہ میں موجود انسان اور مجبور شخص کی طلاق جائز نہیں

طلاق دینے کا واضح مطلب اللہ رب العالمین کے نعمت کا انکار کرنا ہے کیونکہ زوجین اللہ رب العزت کی نعمتوں میں سے عطاء کردہ ایک نعمت ہے اور اس کے نعمت کا انکار کرنا حرام ہے طلاق دینا حلال اس وقت ہے جب اس کی ضرورت ہو کیونکہ ضرورت حرام کو بھی حلال کر دیتی ہیں (الضرورات تبیح المحظورات)

نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے طلاق کو سب سے زیادہ مبغوض شئی قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (“أبغض الحلال إلى الله الطلاق،” ابو داؤد، ابن ماجه) نیز “ما أحل الله شيئا أبغض إليه من الطلاق” ابو داؤد، ترمذي، 2177،

یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ مبغوض چیز طلاق ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اس شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا جس نے حسد و جلن، کینہ و کپٹ، بغض و عداوت کی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان فساد پھیلائے اور انہیں زبردستی طلاق دینے پر مجبور کریں “ليس منا من خبب امرأة على زوجها”

وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے میاں بیوی کے درمیان فساد پھیلایا

خان صاحب امام مالک، شافعی، قدامہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ طلاق مکرہ ہرگز واقع نہیں ہوگی اور علامہ ابن باز رحمہ اللہ کا بھی یہی فتویٰ ہے

مذکورہ تمام دلائل اور علماء کرام کے اقوال سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ طلاق جبر و اکراہ ہرگز واقع نہیں ہوگی اور جس نے ایسا کرنے پر کسی کو مجبور کیا یا انہیں جان سے مار دینے کی دھمکی دی تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس قول (ليس منا من خبب امرأة على زوجها) کے تحت وہ اسلام سے خارج ہے

اخیر میں باری تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ يا إله العالمين تو تمام امت مسلمہ کو طلاق جیسی مبغوض شئی سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا فرما…. آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *