شبِ قدر کے مقاصد کو سمجھیں

#_شب #_قدر #_کے #_مقاصد #_کو #_سمجھیں

انور شمعون تیمی

شب قدر ایک عظیم الشان رات ہے۔ ایک ایسی رات جس میں اللہ تعالی نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید نازل فرمایا، جوکہ تمام آسمانی کتابوں میں سب سے افضل کتاب ہے۔ ایسے فرشتے کے ذریعہ جو تمام فرشتوں میں سب سے افضل فرشتہ ہے۔ ایسی رات میں جو سال کے تمام راتوں میں افضل ترین رات ہے۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: إنا أنزلناه في ليلة القدر. وما أدراك ما ليلة القد. ليلة القدر خير من ألف شهر. ترجمہ: ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا۔ تمہیں کیا معلوم کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟ لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یعنی لیلۃالقدر کی عبادت اسی(۸۰) سال یا اس سے زیادہ سالوں کی عبادت سے افضل ہے۔

اللہ تعالی نے جب اپنے مخلوق کو پیدا فرمایا تو ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ اللہ نے مہینوں کو پیدا کیا تو ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ ایام کو پیدا کیا تو بعض کو بعض پر فوقیت دی۔ انسانوں کو پیدا کیا تو بعض پر بعض کو شرف بخشا۔ اللہ اپنے مخلوقات میں سے جسے چاہتا ہے شرف بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے افضل ترین قرار دیتا ہے۔

چنانچہ اللہ تعالی نے لیلۃالقدر کو سب سے عظیم الشان اور عظیم القدر رات قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: “لیلۃالقدر خیر من الف شھر” کہ لیلۃ القدر کی عبادت اسی(۸۰) سال یا اس سے زیادہ سالوں کی عبادت سے افضل ہے۔

 

لیلۃ القدر کی بڑی اہمیت و فضیلت بیان کی گئی ہے۔ لیلۃالقدر ایسی رات ہے جس میں اللہ تعالی اپنا فیصلہ صادر فرماتا ہے۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا” فيها يفرق كل أمرٍ حكيم” اللہ تعالی لیلۃ القدر میں اپنے حکیمانہ فیصلے صادر فرماتا ہے۔

یہ رات ایسی ہے جس میں اللہ کے فرشتے آسمانی دنیا پر اترتے ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے” تنزل الملائكة والروح فيها بإذن ربهم من كل أمر. سلام هي حتى مطلع الفجر”. ترجمہ: کہ لیلۃ القدر ایسی رات ہے جس میں اللہ کے بہت سارے فرشتے اور سید الملائکۃ،أمین الوحی حضرت جبریل علیہ السلام اللہ تعالی کا حکم لیکر آسمانی دنیا پر اترتے ہیں۔

اسی طرح یہ رات سلامتی والی رات ہوتی ہے۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ” سلام هي حتى مطلع الفجر ” ۔ ترجمہ : لیلۃ القدر ایسی رات ہے جس میں طلوع فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہوتی ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کو مغفرت والی رات قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا “من قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه۔( بخاری شریف) ترجمہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لیلۃ القدر کو قیام کرتاہے، توبہ واستغفار کرتاہے ، گریہ وزاری کرتا ہے ، اللہ پر ایمان لاتے ہوئے ، اجر کی امید کرتے ہوئے ۔ تو اس کے پچھلے تمام چھوٹے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔

 

لیلۃالقدر کب ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کے اندر موجود ہے جس کو امام بخاری نے اپنی صحیح کے اندر نقل کیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تحروا ليلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من رمضان”.ترجمہ: کہ تم لوگ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر تلاش کرو۔

ایک دوسری حدیث کے اندر عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں : “إذا دخل العشر الأواخر أحيا الليل وأيقظ أهله وجد وشد المئزر” (بخاري شريف) ترجمہ : کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ ہوتا کہ جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ داخل ہوتا تو راتوں کو جاگتے، اپنے اہل و عیال کو جگاتے، اور اس رات کو پانے کی پوری کوشش کرتے، اور کمر بستہ ہو جاتے۔

 

اسی طرح مسلم شریف کے اندر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت “كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجتهد في العشر الأواخر من رمضان ما لا يجتهد في غيره” ترجمہ : کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جس قدر عبادت و ریاضت کرتے تھے کسی دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے۔

دوسرا سوال یہ کہ اس رات کو ہم کیسے پا سکتے ہیں؟ تو اس کا جواب ان تین باتوں کے اندر موجود ہے جس کا تذکرہ فضیلۃ الشیخ صالح المغامسی حفظہ اللہ نے کیا ہے۔

۱- پہلی بات یہ ہمیں رمضان المبارک کے ابتداء ہی سے اللہ تبارک و تعالی سے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم اس رات کو پا سکیں۔

۲- دوسری بات یہ کہ ہماری عشاء اور فجر کی نماز رمضان بھر چھوٹنے نا پائے خاص طور سے آخری عشرے میں۔

۳- تیسری اور آخری بات یہ کہ ہم رمضان المبارک میں ہر رات جاگ کر کچھ نہ کچھ اللہ کی عبادت کریں، توبہ و استغفار کریں ،ایسا کرنے سے اللہ کے فضل و کرم سے ہم اس رات کو پا سکتے ہیں۔۔۔

اس رات کی کچھ علا متیں بھی بیان کی گئیں ہیں۔ مثلا: اس رات کو زیادہ روشنی ہوتی ہے۔ مومن اس رات کو عبادت کرتے وقت راحت محسوس کرتے ہیں۔ اس رات کی عبادت میں لذت ہوتی ہے۔ اس رات ہوا معتدل ہوتی ہے۔ اسی طرح اس رات کو بارش بھی ہوتی ہے۔

لیلۃالقدر میں کون سی دعاء پڑھی جائے؟

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اتفاق سے اس رات کو پا لوں تو کیا پڑھوں؟ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا سکھلائی کہ یہ دعا پڑھیں “اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني ” ترجمہ: کہ ائےاللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، میرے گناہوں کو معاف فرما ۔

میرے اسلامی بھائیو!! لیلۃالقدر کی اہمیت و فضیلت کو ہم نے مذکورہ سطور میں پڑھا، اور یہ بھی دیکھا کہ اللہ کے رسول کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر اس رات کو پانے کے لئے تیاری کرتے، اپنے اہل وعیال کو جگاتے اور ہر چیز کو چھوڑ کر عبادت میں مشغول ہوجاتے۔

لیکن ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے ناطے کیا اس رات کا اہتمام کرتے ہیں؟ اور اگر کرتے بھی ہیں تو کیا ہمارے اندر اس رات کو پانے کا وہ جذبہ ہوتا ہے؟ اس رات کی ہماری عبادت میں لذت ہوتی ہے، یکسوئی ہوتی ہے؟ دل سے اگر بولا جائے تو ان سب کا جواب ہمیں نفی میں ملتا ہے۔

اس اہم رات کو اکثر دیکھا یہ جاتا ہے کہ لوگ جاگنے کے نام پر بجائے عبادت کرنے کے، نفل کا اہتمام کرنے کے، قرآن کی تلاوت کرنے کے کچھ لوگ گلیوں میں حلقہ بنا کر اکسپرٹ کی مانند سیاسی گتھیوں کو سلجھا رہے ہوتے ہیں، کچھ پکوان کا اہتمام کرتے ہوتے ہیں، کچھ موبائل کے ذریعہ رات کے قیمتی اوقات کو دوستوں کی محفلوں کے سیلفی لے لے کر شئر کرنے میں مشغول ہوتے ہیں۔

جبکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ اس مہاماری میں ہم زیادہ یکسوئ، متانت اور سنجیدگی کے ساتھ اس رات کو پانے کے لئے طاق راتوں میں قیام کا اہتمام کرتے ، توبہ و استغفار میں مشغول رہتے، قرآن کی تلاوت کرتے، اور نفل نمازوں کا اہتمام کرتے۔

لیکن اللہ کی پناہ اتنی مصیبتوں کے باوجود ہمارے رویے میں تبدیلی نہیں آتی ہے اور ہم پہلے سے مزید بے ڈھنگے اور غیر ذمہ دار بنتے چلے جاتے ہیں۔

اللہ تعالی ہم تمام لوگوں کو بچی ہوئی راتوں کو سنجیدگی کے ساتھ جاگتے ہوئے قیام، نفل نمازوں اہتمام اور قرآن کی تلاوت کرنے کی توفیق دے، آمین

 

انور شمعون تیمی

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *