#_صدقہ #_وخیرات #_اور #عورت!!

 

 

انور شمعون تیمی

استاذ: جامعہ امام ابن باز الاسلامیہ

 

رمضان المبارک کا مہینہ اپنے آخری چرن پر ہے۔ یہ جاتے جاتے نیکیوں اور صدقات و خیرات کے ذریعہ اس مبارک مہینے کو مزید اسپیشل بنانے کی صدا لگاتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ خوب خوب شب بیداری کرو، اپنے پڑوسی کا خیال رکھو، یتیموں کا حق دیتے جاو، اپنی کمائی ہوئی روزی کو حلال کرلو، مہاماری کے چلتے دبے کچلے، غریبوں اور مزدوروں کا چولہا جلانے میں مدد کرو ۔ اور یہ صدا مرد وعورت سب کے لئے عام ہے۔ کیوں کہ جہاں روزہ مرد و عورت سب کے لئے ہے وہیں اس مہینے میں کئے جانے والے اعمال بھی سب کے لئے ہے۔

عورت ذات بڑی حساس کی مالک ٹھہری ہے ۔ وہ جس چیز کو ٹھان لے کر گزرتی ہے، اور تاریخی حیثیت حاصل کرلیتی ہے۔ اس مناسبت سے ایک واقعہ سنانا چاہوں گا۔ وہ یہ کہ ایک گاوں میں مسجد کی ڈھلائی کے لئے چندہ کے لئے پروگرام کرنے کا ارادہ کیا گیا، اور لوگوں سے رائے لی گئی تو یہ کہہ کر پروگرام کو ٹالنے کی کوشش کی گئی کہ چند لوگ ہیں کتنا چندہ ہوگا؟ لیکن سکریٹری کے اصرار پر پروگرام ہوا۔ اور جب چندہ ہوا تو مرغیوں، بکریوں اور زیورات کا ڈھیر جما ہو گیا، اور اسی چندے سے ڈھلائی مکمل ہوگئ۔

یہ تو خیر ہماری اور آپ کی مثال ہوئی لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابیات کو یاد کریں تو عید کا وہ دن یاد آتا ہے جس میں آپﷺ نے صدقہ پر ابھارا اور صحابیات نے اپنے سارے زیورات سونے اور چاندی سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کر دیا تھا۔

عورتوں کو میں نے روزہ کی حالت میں مردوں سے زیادہ چاق و چوبند پایا ہے، وہ گھر کا سارا کام بھی کرتی ہیں اور مردوں سے زیادہ وقت کا پابند ہوتی ہیں، خصوصی طور پر رمضان کے دنوں ان کی نماز قضا نہیں ہوتی ہے۔ایک اور خاص بات کہ وہ ہر مانگنے والے کا حساب کر کے رکھتی ہیں اور جیسے جیسے لوگ آتے جاتے ہیں سب کو حتی الامکان خوش کرتی جاتی ہیں۔

ایک سچی اور ایماندار عورت اپنے آپ کو خود سری اور نفس پرستی کے پھندے سے پاک رکھتی ہے اور اپنی ذات کو فائدہ پہنچائے بنا امت کے مسائل، مصائب اور مشکلات سے متعلق فکر مند ہوتی ہے، اپنے کمزور مسلمان بھائیوں کے مصائب کو یاد کرتے ہوئے اسے دور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اور جب تک مصیبت چھٹ نا جائےوہ مطمئن نہیں ہوتی ہے۔ یہ سچا شعور اور احساس ہمارے معاشرے کی ایک جنس عورت کے اندر موجود ہے۔

روزہ کی حالت میں صدقہ و خیرات کرنے کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک خوبصورت نمونہ ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روزہ کی حالت میں ایک دن کے اندر ایک لاکھ درہم اللہ کی راہ میں لٹا دیا، جب افطار کا وقت ہوا تو آپ کی خادمہ نے ،کاش! آج کے افطار کے لئے تو کچھ بچا لیتیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر تونے مجھے یاد دلایا ہوتا تو میں ایسا کر لیتی۔

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ عورت کا کردار کتنا شاندار رہا ہے۔ لیکن آج کی ہماری ماوں اور بہنوں نے دنیوی مفادات کی خاطر اسے بھلا دیا ہے۔

ہماری ماوں اور بہنوں کو پھر سے اپنے کردار میں آنا ہوگا، ایثار و قربانی کی مثالیں پھر سے دہرانی ہوگی، اور مردوں کو بتانا ہوگا کہ قوم جب منجھدار میں پھنس جائے تو کس طرح اسے ساحل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

آج ہمارے کتنے اپنے بھائی بہن مصیبت میں پھنسے ہیں جن کو ہماری ضرورت ہے، ہمارے مال کی ضرورت ہے، اللہ نے ججو رزق ہمیں دے رکھا ہے اسے واپس اللہ کے حوالے کرنے کی ضرورت ہے، خاص کرکے تب جب کہ مہاماری کے عظیم دور سے دنیا گزر رہی ہے۔

میرے آنکھوں دیکھی بات ہے۔ ایک بھائی نے ایک مکھیا جی سے اپنے بچوں کو عید میں کپڑے دلانے کے لئے پیسے مانگے تو اس نے صرف ایک سو روپیہ تھما دیا، یہ دیکھ کر دل پسیج گیا۔ لیکن وہیں دوسرے پل ایک عورت جو دور سے ہی سارا ماجرا دیکھ رہی تھی، اس آدمی کی لاچاری کو دیکھتے ہوئے ایک ہزار روپیہ دے کر پھر سے صحابیات کے کردار کو آنکھوں کے سامنے لا دیا، اور مادہ پرست مردوں کے کردار کو کہیں نہ کہیں شرمندہ کردیا۔ ایسی بات نہیں کہ مکھیا کے پاس پیسے نہیں تھے، کچھ ہی مہینے قبل اس مکھیا نے اپنی بیٹی کی شادی میں تین دن تک لوگوں کو کھانا کھلایاتھا، لاکھوں روپوں کو پانی کی طرح بہایا تھا اور علاقے میں زیبائش کی اعلی مثال قائم کر دیا تھا، لیکن جب اس بے چارے لاچار کے لئے، جس نے ہو سکتا ہو عیدی کے بہانے اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کے لئے پیسے مانگے ہو!! اس کا زیب تنگ پڑ گیا۔

میری ماوں اور بہنوں کے ساتھ ساتھ میں ہر اس شخص سے گزارش کرنا چاہوں گا جسے اللہ نے نوازا ہے اور دوسروں کا محتاج نہیں بنایا ہے۔ میرے بھائیو! اگر اللہ نے آپ کو نوازا ہے تو ضرور اپنے پڑوسی کا ایک بار خیال کر لیں، آپ کا کچھ نہیں جائے گا۔ اگر دینے والے نے آج دیا ہے تو وہ کل بھی دے گا اور یقین مانئے بڑھا کر دے گا۔ خاص طور سے اس مہینے میں جس میں نیکیوں کا بدلہ کئ گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے۔

اللہ تعالی ہم لوگوں کو اپنے مجبور، ضرورت مند اور لاچار بھائیوں کی مدد کرنے کی توفیق دے۔آمین۔۔۔

 

انور شمعون تیمی

استاذ: جامعہ امام ابن باز الاسلامیہ

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *