ماہ رمضان اور محاسبئہ نفس

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ماہ رمضان اورمحاسبۂ نفس

از قلم: محمد طاسین ندوی

اللہ رب العزت نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں ماہ رمضان المبارک میسر فرمایا۔ اس مہینے کے فضائل و برکات سے ہم بخوبی واقف بھی ہیں کہ یہ ایک مہتم بالشان، جلیل القدر،عظمتوں،برکتوں سے پر ماہ محترم ہے ایک فرض کا ثواب دس فرض کے بقدر نفل کا ثوب فرض کی طرح حتی کہ سات سو گنا ثواب کا ذکر حدیث رسول میں ملتا ہے

ماہ مبارک اپنی تمام تر رعنائیوں اوربخششوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے، جن کے اکثر ایام بیت چکے ہیں، آخری ساعات و لمحات بھی جلد ہی منزل مقصود کو پہنچنے ہی والے ہیں ،

غور طلب امر یہ ہیکہ ان گزرے ہوئے گھڑیاں کو ہم نے کس عمدگی اور خوش اسلوبی سے اپنے انتہا کو پہنچایا۔ آیا شب قدر کے نام سے ہم نے اپنےکو عام رَت جگوں کی طرح گپ شب، خورد و نوش، طنز و مزاح، ذلت وتحقیر، انٹرنیٹ و موبائل کی بھٹی میں جھونک کر ذات باری تعالی کی بے شمار نعمتوں سے اپنے کو دور رکھا یا ہم نے اپنے اوقات کو قیمتی بناکر عبادت،دعاء،ذکر،تلاوت،تہجد و قیام اللیل میں گزار ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا اس کا صحیح اندازہ ہم خود لگاسکتے ہیں۔ اگر ہم نے ان برکات و انعام کی گھڑیوں کی قدر کی تو ان شاءاللہ ضرور اللہ قبول فرمائےگااور مغفرت کے دہانے کو ہم کور چشم ، کوتاہ بین بندوں کے لئے کھول دے گا کیونکہ فرمان نبوی ہے”الصوم لی انا اجزی بہ” روزہ میرے لئے ہےاورمیں ہی اس کا بدلہ دوں گا ،اور مزید فرمایا”من قام لیلۃالقدر ایمانا واحتسابا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ ” جو شخص ایمان اورثواب کی نیت سے شب قدر میں عبادت کرےگا اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے،شب قدر کی بڑی فضیلت واردہوئی ہے بہت ہی نیک بخت ہیں وہ شخص جوآخری عشرہ کی طاق راتوں میں اہتمام کےساتھ عبادت کرلے ،اس ایک رات کی عبادت پوری زندگی کی عبادت سے بہتر ہے اس لئےاگر ہم نے سستی برتی وقت کو ہم نے بیجا استعمال کرکے اس ماہ مقدس کی قدر نہ کی ۔تو آئیے اب بھی رمضان کے چند ایام ہیں اس کو کار آمد اورقیمتی بنانے کی فکر اوڑھیں اوران چند ایام میں عبادت، صدقات و خیرات کو اپنا وطیرہ بنائیں غرباء، فقراء. ایتام،مساکین و بیوہ سبہوں کا خیال رکھیں . جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے روزے داروں کو ایک گھونٹ پانی یا لسی یاشربت ہی پلادیا تو قیامت کے دن اللہ رب العزت ان کو میری حوض کوثرسے ایساپانی پلائےگا کہ پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی اس لئے اس مبارک مہینہ میں دل کھول کر صدقات وخیرات کریں اور اللہ کے انعامات سے لطف اندوز ہوں کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کے آئندہ ماہ رمضان جب جلوہ نما ہو تو ہم میں سے کون اس کارگاہ عالم میں ہو اور کون داعئ اجل کو لببیک کہ چکا ہو تو آئیے ہم اپنےنفس کامحاسبہ کریں اورعہد کریں کہ گنتی کےجو چند ایام ہیں اس کو بیش قیمت، بیش بہا بنائیں اور اعمال صالحہ کو بجالائیں اورگریۂ زاری کے ساتھ اللہ سے معافی مانگ کر عبد و معبودکا رشتہ اور مضبوط کریں تاکہ جو مانگیں وہ مل جائے اور ہماری جائز امیدیں، تمنائیں،خواہشات کو اللہ پوری فرمادئے. آمین

وماتوفیقی الاباللہ رب العالمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *