خوف کا اثر

” خوف کا اثر ”

وسیم اکرم نظام الدین تیمی

متعلم :جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

 

 

خوف ایک ایسا احساس ہے جو نہ جانے انسان کو کیا کیا کروا دیتا ہے، نہ جانے کن کن راستوں سے گزرنے پر مجبور کر دیتا ہے، یہ ڈر کئی طرح کا ہوتا ہے، عزت وعظمت کھونے کا ڈر، سلطنت و حکومت کے گرنے کا ڈر،عہدہ ختم ہونے کا ڈر، جھوٹی خاندانی شان مٹنے کا ڈر،ناکامی کا ڈر، دولت چھن جانے کا ڈر، اور جان تلف ہونے کا ڈر وغیرہ وغیرہ.

پھر ڈر جس رتبہ اور مرتبہ کا ہوتا ہے اس کے اثرات بھی اسی حساب سے مرتب ہوتے ہیں، کبھی فرعون خود کی ہلاکت،اور دعوائے خدائی کے ختم ہونے کے ڈر سے پیدا ہونے والے سارے مذکر بچوں کے قتل کا حکم دے دیتا ہے ، تو کہیں حکومت قائم کرنے اور اسے بچائے رکھنے کیلیے ہندو مسلم کے نام لڑائیاں کروائی جاتی ہے، خاندانی شان بچانے کے لیے ذات پات کو دین سے آگے رکھا جاتا ہے، غریبوں کو بے آبرو اور ان کے لڑکیوں کو دل بہلانے کا سامان سمجھا جاتا ہے.

ان میں سب سے بڑا خوف جان تلف ہونے کا ہوتا ہے، جس کو بچانے کے لیے بسا اوقات کبھی سارا مال وأسباب صرف کردیا جاتا ہے، تو کبھی اپنی جان بچانے کے لیے دوسروں کی جان لے لی جاتی ہے، اس کے علاوہ بہت سے اسباب اپنایے جاتے ہیں، حالیہ دنوں پوری دنیا جس وبا سے دو چار ہے – جسے ہم کووڈ ۱۹ کے نام سے جانتے ہیں، جس کا آغاز 2019 کے آخری ایام میں ہوا – اس کے خوف کا انسانی زندگی پر عجیب سا اثر ہوا ہے، دنیا بالکل تھم سی گئی ہے، در آمد و برآمد کے سارے فضائی اور دریائی راستے بند ہوگئے ہیں، سارے لوگ جیسے دشمن کے ڈر سے قلعہ بند ہو گئے ہوں، مساجد ومنادر ویران پڑی ہیں، حرمین شریفین کے منارے خاموش کھڑے دنیا کا تماشا دیکھ رہے ہیں،اور اپنے ویرانے پن کا رونا رو رہے ہیں، مسجدوں کی منبریں سوگ منا رہی ہیں، گرجا گھروں اور چرچوں پر تالے پڑے ہیں، سارے تجارتی منڈیاں بند پڑی ہیں، خورد و نوش کی ضروری اشیاء بمشکل دستیاب کی جاتی ہیں، لوگ اس وباء کا کم اور بھوک مری کے زیادہ شکار ہیں، سارے اطباء، سائنس داں، اور ماہرین ادویات اس وقتی لا علاج مرض کی دوا تلاش کرنے میں اپنی ساری طاقتیں صرف کر رہے ہیں پھر بھی کوئی حل نہیں مل رہا ہے.

قدرتی مناظر کا جیسے اثر ختم ہو گیا ہو، وہ ہوا جو پہلے جسم ودل کو سرور پہنچاتی تھی، اب ایسا لگتا ہے جیسے کوئی ووباءمیرے طرف لارہی ہو، اس کی سرسراہٹ سر و ساز سی محسوس ہوتی تھی وہی اب کانوں پر ناگوار گزرتی ہے، وہ سورج جو ہماری روشنی کا سامان تھا اب لگتا ہے جیسے ہماری حالات پر ہنس رہا ہو، وہ چاند جسے دیکھتا تو چاندنی نظر آتی تھی اب صرف داغ نظر آتا ہے چمک پر نظر ہی نہیں ٹکتی، وہ ستارے جسے دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ ہماری خوشیوں پر ٹمٹما رہے ہیں اب ایسا لگتا ہے کہ کن انکھیوں سے ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں.

مانو زمانہ جیسے اچھوتوں کا لوٹ آیا ہو جو ہم کبھی کتابوں میں پڑھا کرتے تھے اور زبانوں سے سنا کرتے تھے، لوگ ایک دوسرے سے ایسے بھاگتے ہیں جیسے اس کے ہاتھ میں کوئی زہریلا جانور یا کوئی ہتھیار ہو، وہی انسان جو ایک دوسرے سے مل کر مصافحہ کرتے اور گلے ملتے تھے اب دور دور رہتے ہیں، جہاں پارکوں اور میدانوں میں بچوں کے کھیلنے کی آوازیں سنائی دیتی تھی اب پولیس کی گاڑیوں کے سائرن سنائی دیتی ہے، جہاں پارک اور سڑک کنارے محفلیں سجتی تھیں، گھنٹوں ملکی وغیر ملکی، سماجی ودینی مسائل پر گفتگو ہوتی تھی، مزاحیہ کلمات پر قہقہے لگتے تھے اب کچھ لوگوں کے جمع ہوتے ہی شرطہ اس طرح دھاوا بولتے ہیں جیسے پہلے ہی سے دشمن کے گھات میں بیٹھے ہوں اور موقع ملتے ہی دھاوا بول دیا ہو.

غرض یہ سارے اثرات و تبدیلیاں اس وباء کے خوف کا ہے جس سے ہم جوجھ رہے ہیں، اس کے کچھ اچھے اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں۔ مثلا لوگ اللہ کی طرف رجوع کر رہے ہیں، جو صرف جمعہ اور رمضان میں نمازیں ادا کرتے تھے اب گھروں میں پانچوں اوقات کی پابندی کرتے ہیں، صفائی ستھرائی کا خاصا خیال کیا جاتا ہے جس کی ہدایت اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے کی تھی، اور “الطھور شطر الإيمان” کا خطاب دیا تھا، گھر کی عورتیں مردوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہوتی ہیں. اور یقیناً یہی چیزیں ہیں جو ہمیں اس بلا سے نجات دینے والی ہیں، اللہ ہم سب کو طبی احتیاط اپنانے کے ساتھ ساتھ اللہ کی طرف زیادہ سے زیادہ لو لگانے کی توفیق عطا فرمائے، اور اطباء کا اس کی دوا تیار کرنے میں مدد فرما کر اس جان لیوا بلا کو دنیا سے ختم کردے آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *