دنیا کی ایک انمول نعمت ماں

دنیا کی ایک انمول نعمت ماں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تحریر‌‌ : عبد الباقی عبداللہ

متعلم: جامعہ امام ابنِ تیمیہ

مقام: کا نہرپٹی مدھوبنی بہار

 

ماں کی عظمت پر کچھ لکھناسمندر کو کو زے میں بند کر نے کے مترادف ہے ۔ ماں دراصل شفقت، خلوص، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ ماں دنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی ہمارے ذہن و دماغ میں ایک محبت، ٹھنڈک، پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔ اس کا سایہ ہمارے لئے ٹھنڈی چھاؤ کی مانند ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں اس کا دست شفقت شجر سایہ دار کی طرح سائبان بن کر اولاد کو سکون کا احساس دلاتا ہے،اس کی گرم گود،سردی کا احساس نہیں ہونے دیتی۔خود وہ کا نٹوں پر چلتی ہیں، مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی ہیں اور دنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رواں دواں رہتی ہے اس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دنیا میں پیدا نہیں ہوئی، آندھی چلے یا طوفان مگر اس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی۔وہ نہ ہی کبھی احسان جتاتی ہے اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتی ہے بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبّت اولاد پر نچھاور کر تی رہتی ہے۔

ہمارے پڑوس میں ایک بوڑھی ماں رہتی ہے، اس کی عمر ٣٥ ۔ ٤٠ ہی تھی مگر بڑھاپے سے زیادہ اولاد ناخلف کے ناروا سلوک نے اسے کہیں زیادہ ضعیف بنا دیا تھا۔ جب بھی میں ان سے ملتا وہ بہت خوش ہوتی تھی، مغرب کا وقت تھا میں گھر سے نماز کے لئے نکلا وہ بوڑھی ماں اپنے گھر کے دروازہ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے سلام پیش کیا تو جواب نہیں ملی مجھے اس کی خاموشی حیرت و استعجاب میں مبتلا کر دیا۔ نماز سے فارغ ہو نے کے بعد فوراً میں بوڑھی ماں کے پاس گیا تو وہ بستر پر لیٹی تھیں۔ سنسان تنہائی کے عالم میں۔ ماں کیا ہوا؟ میں نے سوالیہ انداز میں استفسار کیا میری آواز سن کر اداس وپریشان حال چہرہ خوشی سے تمتمانے لگا، اس کی زندگی کس قدر سنسان بیاباں کی طرح ہے کہ ان سے کسی کا ملنا ان کے لئے ملاقات مسیحا و خضر سے کم نہیں ہے۔پھر بوڑھی ماں نے بتایا کہ میں متوسط گھرانے کی پڑھی لکھی خاتون ہوں میرے پاس بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ بیٹیاں تو اپنے گھر چلی گئیں وہ تو پرایا دھن تھی نہ۔ البتہ بیٹوں کو اللہ کے کرم سے ہم نے سب کچھ دیا، پیار اور محبت سے نہ صرف ہم نے پرورش و پرداخت کی بلکہ اس کی بہترین تعلیم اور اچھی، ملازمت، عیش و عشرت، کے لئے تن من دھن سب کچھ لگا دیا۔ جس طرح ہر والدین اپنی پوری محنت اپنی اولاد کی بہتر سے بہتر تعمیر وترقی کے لیئے کرتے ہیں۔ ہم نے بھی کیا۔ الحمدللہ بہت کچھ دیا۔ مگر۔۔۔۔مگرآج۔۔۔ اور پھر اس کے بعد لفظ ان کے حلق میں پھنسنے لگے۔ آنکھیں نم ہو نے لگیں، اس کے لئے مکان بنا نے کے لئے قرض ہی نہیں لیا بلکہ اپنا پرانا مکان بیچ کر اس کے لئے بہترین عمارت بھی تعمیر کرائی، الحمدللہ اولاد کے لئے بہت کچھ کیا۔ مگر شادی کے کچھ ہی دنوں بعد اس بوڑھی ماں کے لئے ان کے دل میں یا گھر کے کسی گوشے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس کا بوڑھا باپ ہمیں کربناک حالت میں چھوڑ کر چل بسا۔ اس کے باوجود سارے بیٹوں کو مجھ پر ترس نہیں آتا۔ یہ وہی بچے ہیں جو کل ماضی میں میری گود میں آنے کے لئے جھگڑتے تھے، آج جیسے انہیں کچھ یاد نہیں کل جن کے ایک معمولی تکلیف پر تڑپ جاتی تھی۔ آج انہیں میری سراپا کربناک زندگی پر کوئی ترس نہیں آتا۔ جن بچوں کے لئے راتوں کو جاگ جاگ کر دعا کرتی تھی اور دن کو محنت ومشقت کرکے بہتر مستقبل کے لئے کو شاں رہی، آج وہی بچے کتنا بدترین بدلہ دے رہے ہیں؟ یہ باتیں کہتے کہتے بوڑھی ماں دھاڑے مار مار کر رونے لگی۔ میں جب ان سے رخصت ہونے لگا تو انہوں نے بڑے ہی کربناک لہجے میں نصیحت کی بیٹے تم اپنے بوڑھے والدین کے ساتھ ایسا سلوک مت کرنا، یاد رکھنا بیٹے: قدرت اس کا بہت سخت انتقام لیتی ہے

 

متعلم: جامعہ امام ابنِ تیمیہ

مقام: کا نہرپٹی مدھوبنی بہار

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *