عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

……………………………….

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

……………………………….

از: سرفراز عالم ابوطلحہ ندوی

……………………………….

 

یہ تلخ حقیقت ہے کہ نوجوان ہی قوم وملت کا اہم ستون ہے . ان ہی سے قوم کا مستقبل روشن ہے . اور اگر دین اسلام کے اندر کسی نے بھی کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے، تو وہ نوجوان نسل ہی ہے . اور یہ بات بھی حقیقت برمبنی ہے کہ نوجوان ایک شعلہ ہیں .دھیرے دھیرے پھیلتے ہیں، بام عروج پر جا پہنچ جائیں تو ہاتھوں کو جلا دیتے ہیں. اور نوجوان نسل جب تک خون پسینہ نہ بہائیں ، تب تک قوم و ملت کی ترقی بام عروج کو پار کر ہی نہیں سکتی ہے. چاہے لاکھ کوشش کر لے معاشرہ ترقی یافتہ بن ہی نہیں سکتا. ہاں اگر قوم کا نوجوان ہونہار، جفاکش، محنتی اور مضبوط عزائم والا ہو اور اسی طرح قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح نہ دیتا ہو. تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ معاشرہ کا نشیمن بہتر سے بہتر بن جائیں، اور اس کے برعکس اگر نوجوان نفس پرستی، عیش پرستی، بے راہ روی، گمراہی اور ثقافت کی بغاوت کے علمبردار بن جائیں، تو وہ نوجوان بربادی کو اپنے گلے سے لگانے میں بد قسمتی سے کامیاب ہوجاتے ہیں. اس طرح نوجوان نسل پوری قوم کے سامنے رسوائی کا سامنا کرتی نظر آتی ہیں . لیکن تاریخ گواہ ہے کہ نوجوان جس قوم وملت کا بیڑا اٹھاتے ہیں، اس کو پائے تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں،اگر ان کی رگوں میں کوئی جذبہ خون بن کر دوڑتا ہے، تو ان کی فولادی طاقت وقوت اور فولادی فطرت اس جذبے کو اپنے لہو سے رنگِ حقیقت میں ڈھال کر ہی دم لیتی ہے، نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کی اطاعت گزاری کرنے والے “سابقون اور اولون” میں بیشتر نوجوان نسل ہی تھے، جن کی مثالیں تاریخ اسلام میں بھری پڑی ہیں، جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے جوانی ہی میں ناقابلِ انکار آفاقی شہرت حاصل کرکے پورے مصر کے تخت و تاج کا بادشاہ بن گئے ، اور اسی طرح حضرت اسامہ بن زید کو سترہ سالہ عمر میں ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے قوم کا سپہ سالار بنایا تھا، ان کے علاوہ اور بھی بہت ساری عہد شاز شخصیتیں ہیں، جن کو کم عمری میں ہی اسلام کی قندیلیں روشن وتابناک کرنے کا موقع ملا، حقیقت یہ ہے کہ جب قوم کا نوجوان صالح اور نیک طینت ہوں اور وہ اپنے نصب العین میں سنجیدہ ہوں تو وہ بنی نوع انسان کے لئے بھی خیر وبھلائی کا باعث بنتے ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ اس وقت عالم اسلام میں عالم کفر کی بنسبت نوجوانوں کا تناسب بہت زیادہ ہے. یہ نوجوان امت کا بہت بڑا اثاثہ ہے.جب کسی قوم کے نوجوان بیدار ہوں تو اسے دنیا کی کوئی قوم شکست نہیں دے سکتی۔ماضی میں کی جانے والی یہ انفرادی کاوشیں، کامیابیاں اور قربانیاں حال میں بھی اجتماعی فخر کا باعث ہیں، اسی لیے تو کہا گیا ہے کہ ایک چراغ سے ہزار چراغ جلتے ہیں۔ قطرے مل کر دریا بناتے ہیں اور دریائی انقلاب روایتی ہتھکنڈوں کو غیر مؤثر ثابت کر دیتے ہیں، انقلاب نوجوانوں کا شاخسانہ ہیں، اور روحِ امم کی حیات کشمکش انقلاب نحیف ضعیف افراد کے لہو سے آہ و فغاں اور سسکیاں و آہیں ہی بلند ہوتی ہیں جبکہ نوجوان شہید کہلاتے ہیں.اور یہ کامیابیاں انہیں راہ حق پر لاکھڑا کر دیتی ہیں.

جس سے ان کی ایمانی طاقت وقت جلا بخشتا ہے، اور انہیں اپنی منزل آسمان و زمین کے مکینوں میں نظر آنے لگتے ہیں، جس کی عکاسی علامہ اقبال نے اپنے اشعار میں کیا ہے.

 

” *عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں*

*نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں* ”

 

اور یہ حقیقت ہے کہ جب نوجوان اپنی محنت ولگن اور جذبہء ایثار وقربانی کو کبھی سرد پڑنے نہ دیں تو کامیابی وکامرانی قدم بوسی کرے گی، جس سے ایمان فروزاں ہوگا، اور ایمان میں تازگی پیدا ہوگی.

 

اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اے بار الہ تو نوجوان نسل کی حفاظت وصیانت فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *