مشہور حدیث( رمضان کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے خلاصی کا ہے) کی حقیقت .

مشہور حدیث( رمضان کا پہلا عشرہ رحمت دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم سے خلاصی کا ہے) کی حقیقت .

 

از قلم :طیبہ شمیم تیمی/ بابو سلیم پور /دربہنگہ*

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم.

 

عزیز قارئین : ہمارے سماج و معاشرہ میں بہت سی

ایسی احادیث مشہور ہیں جو کہ سخت ضعیف ہوتی ہیں اسی میں سے ایک حدیث یہ بھی ہے کہ (رمضان میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ستر گنا زیادہ بڑھا دیا جاتا ہےاور یہ کہ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے دوسرا مغفرت کا اور تیسرا جہنم سے خلاصی (آزادی )کا ہے) جسے لوگ ایک دوسرے کے سامنے بیان کر کے اس پر عمل کی ترغیب دیتے ہیں اور خود بھی عمل کرتے ہیں. حالانکہ یہ حدیث بھی سخت ضعیف ہے. جیسا کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ہمیں شعبان کے آخری دن خطبہ دیا. اور کہا :أيها الناس قد اظلكم شهر عظيم, شهر مبارك…… من تقرب فيه بخصلة من الخير, كان كمن أدى فريضة فيما سواه, و من أدى فيه فريضة كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه, و هو شهر الصبر, و الصبر ثوابه الجنة, و شهر المواساة, و شهر يزداد فيه رزق المؤمن…….. هو شهر أوله رحمة وأوسطه مغفرة, وآخره عتق من النار, من خفف عن مملوكه غفر الله له, و اعتقه من النار….. الحديث. (یعنی لوگوں تم پر ایک عظیم الشان مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے, یہ با برکت مہینہ ہے,….. جس نے بھی اس مہینہ میں کوئی خیر و بھلائی کا کام سر انجام دے کر قرب حاصل کیا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کسی نے اس مہینہ کے علاوہ کوئی فرض ادا کیا, اور جس نے اس مہینہ میں کوئی فرض سر انجام دیا گیا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے کسی نے اس مہینہ کے علاوہ ستر فرض ادا کئے. یہ صبر کا مہینہ ہے. اور صبر کا ثواب جنت ہے. یہ خیر خواہی کا مہینہ ہے. اور اس ماہ مبارک میں مؤمن کا رزق زیادہ ہو جاتا ہے………اور اس ماہ کا ابتدائی حصہ (یعنی شروع کے دس دن) رحمت کا ہے اور درمیانی حصہ (درمیان کے دس دن) مغفرت و بخشش کا ہے اور آخری حصہ (یعنی آخر کے دس دن) جہنم سے خلاصی (آزادی) کا باعث ہے. اور جو شخص بھی (اس میں) اپنے لونڈی و غلام سے تخفیف کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا اور اس کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے……. الحدیث. (رواہ ابن خزیمہ فی صحیحہ /1887/وضعفه الالبانی فی السلسلة الضعيفة /871/و في ضغيف الجامع /2135/و قال :منكر) اس حدیث کے ضعیف ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس حدیث میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ایسے راوی ہیں جسے محدثین نے ضعیف اور سیئی الحفظ (یعنی برے حافظے والے )کہا ہے .اور مزید کہا کہ یہ قابل حجت نہیں ہے . عزیز بھائیو اور بہنو ! اب جب کہ ہم نے جان لیا کہ یہ حدیث ضعیف و منکر ہے تو ہمیں چاہئے کہ ہم اس کو سماج و معاشرہ میں نہ پھیلائیں اور لوگوں کو بھی اس سے آگاہ کریں کہ یہ حدیث ضعیف ہے . اور کسی بھی حدیث پر عمل کرنے اور لوگوں تک پہنچانے سے پہلے اس کی تحقیق کر لیں کہ یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف .اور کسی بھی حدیث کو بلا تحقیق آگے پھیلانے سے بچیں. کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے منع فرمایا ہے اور اسلام میں ایسے لوگوں کے لئے سخت وعید آئی ہے. جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب بھی تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لو :”يأيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بنباء فتبينوا “.اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق شخص خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو “.اور حدیث میں ہے کہ اللہ کے یہاں کسی کے جھوٹا ہو جانے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اس کی حقیقت اور سچائی کی پرکھ کئے بغیر آگے ستاتا چلے جائے .جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”كفي بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع… کہ کسی انسان کے (اللہ کے ہاں) چھوٹے ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے وہ سناتا جائے. (صحیح مسلم /5)اور ہر وہ شخص جسے اسلام کا تھوڑا بھی علم ہو وہ جانتا ہی ہوگا کہ جھوٹ بہت بڑا سنگین جرم ہے اور کبیرہ گناہ ہے نیز منافق کی علامت ہے. تو ذرا سوچئے وہ جھوٹ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی طرف منسوب کیا جائے جس کا کوئی اصل نہ ہو یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے ثابت ہی نہ ہو تو یہ کتنا بڑا گناہ و جرم ہو گا . یقینا وہ ایسا کبیرہ گناہ ہےجس کا حتمی نتیجہ جہنم ہے . جیسا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا فرمان ہے :” إن كذبا علي ليس ككذب علي أحد من كذب علي متعمدا فليتبؤا مقعده من النار “.یعنی میرے بارے میں جھوٹ بولنا کسی بھی اور کے بارے میں جھوٹ بولنے کی طرح نہیں. جس نے میرے بارے میں جان بوجھ کر ارادۃ جھوٹ بولا تو اس نے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیا. (بخاری /1229/مسلم/3).اور ایک حدیث میں ہے:”لا تكذبوا علي فإنه من كذب علي فليلج النار “.میرے بارے میں جھوٹ مت بولو, بے شک جو میرے بارے میں جھوٹ بولے گا وہ جہنم میں جائے گا. (متفق علیہ). نیز فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہے :”من حدث عنی بحدیث یری انه كذب فهو أحد الكاذبين “.جس نے میرے بارے میں ایسی بات بیان کی جو جھوٹ محسوس ہوتی ہو تو بے شک ایسا کرنے والا جھوٹوں میں سے ایک ہے (مسلم). . قارئین کرام :یہ حدیث صرف جان بوجھ کر جھوٹ بولنے اور پھیلانے تک محدود نہیں بلکہ اس میں وہ شخص بھی شامل ہے جوغلطی سے اور دھوکہ سے یعنی بلا ارادۃ حدیث کی تحقیق کئے بغیر عوام میں حدیث کو رواج دیتے ہیں (یعنی کوئی حدیث کہیں پڑھا یا کہیں سے سن لیا اوراس کے تعلق سے علم حاصل کئے بغیر اور تحقیق کئے بغیر پھیلا دیا) . اس لئے ہر شخص کو چاہئےکہ وہ جب بھی کوئی حدیث سنے تو اس پر عمل کرنے اور سماج و معاشرہ میں پھیلانے سے پہلے تحقیق کر لے یا کسی اہل حدیث عالم سے اس کے تعلق سے پوچھ لے تاکہ صحیح و ضعیف اور موضوع حدیث کے سلسلے میں صحیح علم ہو جائے اور ضعیف حدیث پر عمل کرنے اور اس کو پھیلانے سے ہم محفوظ رہ سکیں. . اخیر میں اللہ عز و جل سے دعا ہے کہ اے اللہ تو ہمیں کسی بھی خبر و حدیث کو ماننے اس پر عمل کرنے اور آگے بڑھانے سے پہلے ہمیں اس کی سچائی کی تصدیق کر لینے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں قرآن و حدیث کی صحیح سمجھ عطا فرما اور ہمیں حق و باطل,اور صحیح و غلط میں تمیز کرنے کی صحیح سمجھ دے. آمین ثم آمین تقبل یا رب العالمین .

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *