رمضان المبارک:نماز عید، آداب و احکام اور مسائل

 

سولہویں قسط

 

از قلم :طیبہ شمیم تیمی بنت ابو انس شمیم ادریس سلفی بابو سلیم پور دربہنگہ*

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عید الفطر امت مسلمہ کی قوت و شوکت اور عظمت و قوت کا ذریعہ۔ خوشی کا دن اور مسلمانوں کا وہ عظیم اور مقدس تہوار ہے جو ہر سال ایک شوال کو انتہائی عقیدت و احترام اور ذوق و شوق کے ساتھ منایا جاتا ہے. اس دن سنت نبوی صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے مطابق ہم تمام مسلمان بطور شکرانہ دو رکعت نماز ادا کرتے ہیں اور ہر مکلف مسلمان پر نماز عید ادا کرنا واجب ہے. میں احادیث کی روشنی میں نماز عید کے ان اعمال کو ترتیب وار ذکر کرتی ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے .تاکہ ہم میں سے ہر شخص ان اعمال کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ والہ و سلم سمجھ کر ادا کریں. اس لئے کہ ہم ان میں سے اکثر اعمال انجام دیتے ہیں, اس پر عمل کرتے ہیں. لیکن ہم اسے سنت نبوی صلی اللہ علیہ والہ و سلم سمجھ کر نہیں کرتے. کیونکہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہم جو کر رہے ہیں وہ سنت ہے یا نہیں. آئیے میں ترتیب وار ان اعمال کو آپکے لئے پیش کرتی ہوں. . 1).نماز کے لئے نکلنے سے پہلے غسل کریں اور عمدہ لباس زیب تن کر کے مرد حضرات خوشبو لگا کر گھر سے نکلے :”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ عید گاہ جانے سے پہلے غسل کیا کرتے تھے. (موطا /باب العمل فی غسل العیدین). ابن جریر رحمہ اللہ کہتے ہیں :”صحیح سند سے مروی ہے کہ (ابن عمر رضی اللہ عنہما عیدین کے موقع پر اپنا سب سے اچھا لباس زیب تن فرماتے تھے. اور بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو ریشم کا نیا لباس پیش کیا اور کہا :”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم آپ اسے خرید لیں, اسے آپ عید اور وفود سے ملاقات کے وقت پہن لیا کریں. تو آپ نے ریشم کا لباس ہونے کی وجہ کر منع فرما دیا. لیکن آپ عید اور جمعہ کے دن اچھا لباس اور جبہ اہتمام کے ساتھ زیب تن فرماتے تھے. (فتاویٰ شیخ ابن جبرین /59/44). . 2).عید الفطر میں نماز عید کیلئے نکلنے سے پہلے کچھ کھا پی لینا :حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھائے پئے بغیر عید گاہ کی طرف تشریف نہ لے جاتے اور عید الاضحٰی میں نماز سے پہلے کچھ نہ تناول فرماتے. (جامع ترمذی).

3).عید الفطر کے دن گھر سے نکلتے وقت طاق عدد میں کھجوریں کھانا مسنون ہے :”كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يغدو يوم الفطر حتي يأكل ثمرات, و ياكلهن وترا “.رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم عید الفطر کے دن نہیں نکلتے تھے یہاں تک کہ کچھ کھجوریں تناول فرماتے. (بخاری /953). . 4)).نماز عید کے لئے پیدل چل کر جانا اور پیدل واپس آنا مسنون ہے :جیسا کہ حدیث ہے :”كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج إلى العيد ماشيا و يرجع ماشيا “.رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم عید کے لئے پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے تھے. (ابن ماجہ /1294/وحسنہ الالبانی ). . 5).عید کے نماز کے لئے راستہ بدل کر آنا جانا :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :کہ “كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا خرج يوم العيد في طريق رجع في طريق آخر “.نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و جب عید کے دن نکلتے تھے تو ایک راستے سے جاتے تھے اور دوسرے راستے سے واپس لوٹتے تھے. (ترمذی /541/وصححہ الالبانی). . 6).نماز کے لئے تمام گھر والوں اور عورتوں کو بھی عید گاہ لے جائے خواہ وہ ایام ماہواری میں ہی کیوں نہ ہوں. جیسا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ حیض والی عورتوں کے بارے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے یہی حکم دیا کہ وہ گھر سے ضرور نکلیں تاہم وہ عید گاہ سے باہر بیٹھیں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں. (بخاری /974/مسلم890).البتہ عورت با پردہ ہو کر بغیر خوشبو لگائے نکلیں جیسا کہ دوسری حدیثوں میں ہے. . 7).نماز عید گاہ یعنی کھلی میدان میں پڑھنی چاہیے :جیسا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم یوم الفطر اور یوم الاضحٰی کو عید گاہ تشریف لے جاتے تھے. سب سے پہلے نماز عید پڑھاتے پھر لوگوں کے سامنے آتے جو اپنی صفوں میں ہی بیٹھے ہوتے. آپ انہیں نصیحت کرتے.,انہیں وصیت فرماتے اور احکامات دیتے “.(بخاری /956/مسلم889). . 8)نماز عید کا ابتدائی وقت سورج کے ایک نیزہ کی مقدار بلند ہونے کے وقت ہے اور آخری وقت زوال آفتاب تک ہے . .

9).عید گاہ کی طرف جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیریں پڑھیں :”الله أكبر الله أكبر الله أكبر, لا إله إلا الله و الله أكبر ولله الحمد “. نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم جب عید الفطر کے دن عید گاہ جاتے تھے تو تکبیرات پڑھتے ہوئے جاتے تھے. اور نماز عید سے فارغ ہونے کے بعد تکبیرات نہیں پڑھتے تھے. اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب گھر سے عید گاہ کی طرف جاتے تھے تو تکبیرات پڑھتے ہوئے جاتے تھے. (السلسلہ الصحیحۃ /171). عید الفطر میں شوال کا چاند دیکھنے کے بعد سے نماز عید الفطر کی ادائیگی تک تکبیریں کہنی چاہئے. خواتین بھی مردوں کے ساتھ تکبیر کہہ سکتیں ہیں. .

10).نماز عید سے پہلے اور اس کے بعد کوئی نفل نماز نہیں ہے :حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ “ان النبی صلی اللہ علیہ و سلم خرج یوم الفطر فصلی رکعتین, لم یصل قبلھا و لا بعد ھا “.بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم عید الفطر کے موقع پر نکلے تو آپ نے دو رکعتیں پڑھائیں اور نماز سے عید سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی کوئی نماز نہیں پڑھی. (بخاری /986/مسلم/884). . 11).نماز عیدین کے لئے نہ اذان کہی جائے اور نہ اقامت. حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے ساتھ عیدین کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی. (مسلم/887). . 12).نماز عید میں پہلی رکعت میں سات تکبیر اور دوسری میں پانچ تکبیر کہی جائے. ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے نماز عید میں (زائد) بارہ تکبیریں کہی تھیں سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں. “(ابن ماجہ /1218/وصححہ الالبانی فی صحیح ابن ماجہ /1063/حسن صحیح). . 13).نماز عید کی پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورہ اعلیٰ اور دوسری میں سورہ غاشیہ پڑھے. حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :”کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم عیدین کی نماز میں پہلی رکعت میں (سبح اسم ربک الاعلی) اور دوسری میں (ھل اتاک حدیث الغاشية) تلاوت کرتے. “(ابن ماجہ 1283).پہل رکعت میں سورۃ ق اور دوسری میں سورہ قمر کی تلاوت بھی کر سکتے ہیں. حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہے :”کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم پہلی رکعت میں سورۃ ق اور دوسری میں سورہ قمر کی قراءت کرتے تھے. (مسلم/891). . 14).پہلے عید کی نماز پڑھی جا ئے گی پھر خطبہ دیا جائے گا. ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم, ابو بکر رضی اللہ عنہ, عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید کی نماز پڑھی یہ سب حضرات نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے. (بخاری /962مسلم /884). . 15).صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عید کے دن جب ملتے تو ایک دوسرے کو یہ کلمات کہتے :”تقبل اللہ منا و منک “.حضرت جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں کہ (رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب عید کے روز ملتے تھے وہ ایک دوسرے کو یوں کہا کرتے تھے “تقبل اللہ منا و منک “اللہ تعالیٰ ہم سے اور آپ سے قبول فرمائے). ( ذکرہ الحافظ فی فتح الباری /2/446).مبارک باد بھی پیش کر سکتے ہیں :شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے مبارک باد کا عمل ثابت ہے. اسی لئے امام احمد رحمہ اللہ نے اس کی رخصت دی ہے “.(مجموع الفتاویٰ /253/24). قارئین کرام :میں نے حدیث و آثار کی روشنی میں عید الفطر کے آداب, احکام و مسائل مختصرا بیان کر دیا ہے. اس کو ہم نے پڑھ اور جان لیا اس لئے ہم پر لازم ہے کہ ہم اس پر عمل کریں اور سنت سمجھ کر ثواب کی نیت سے ادا کریں کیونکہ ہم میں سے اکثر ان اعمال کو کرتے ہیں پر یونہی بس دیکھتے آ رہے ہیں اپنے آباء و اجداد سے اس لئے کرتے ہیں. اس لئے ہم ایسا نہ کریں بلکہ ہر کام سنت سمجھ کر اللہ کے رضا کے لئے کریں اور دوسروں کو بھی اس سے آگاہ کریں تاکہ وہ بھی اس پر عمل کر سکیں. اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے اللہ تو ہمیں خوشی اور تہوار کے موقع پر بھی خلاف شرع کام کرنے سے بچا اور سنت کے مطابق ہمیں اپنے تہوار منانے کی توفیق عطا فرما. آمین ثم آمین تقبل یا رب العالمین..

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *