کورونا کی مہاماری اور میڈیا کی چالبازی سے لے کر عید کی خریداری میں مسلمانوں کی چالاکی تک ۔

کورونا کی مہاماری اور میڈیا کی چالبازی سے لے کر عید کی خریداری میں مسلمانوں کی چالاکی تک ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ذیشان الہی منیر تیمی

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی

 

عصر حاضر میں کورونا وائرس کی دردناک اور المناک صورت حال سے ہر کوئی واقف ہے ۔اس وبا کی حیرت ناک اور ہیبت ناک پھیلاؤ کی بنا پر حکومت اور عوام دونوں کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں ۔مزدوروں کی مجبوری ہو یا سیاستدانوں کی دکانداری اور مدد کے نام پر تصویر کشی کا شوق اُن چیزوں کو اِن دنوں میں ہم اور آپ بہت اچھی طرح سے دیکھ، سن اور محسوس کررہے ہیں ۔اس وبا کے پھیلنے اور اس سے بچنے کے لئے ہم مختلف طریقوں کا استعمال کررہے ہیں ۔لاک ڈاؤن کا پالن کرنا ،تنہائی اختیار کرنا ،صاف صفائی کا خیال رکھنا ، میلوں ٹھیلوں میں جانے سے بچنا اور علیک و سلیک کے بعد معانقہ و مصافحہ سے بچنا ہمارا اولین فریضہ بن چکا ہے ۔مساجد و منادر بند ہیں ۔تعلیمی ادارے لاک ہیں ،شادی بیاہ ،محفلوں اور مجلسوں کی خوشنما تصاویر ہماری نظروں سے اوجھل ہیں اور ہم سب اس دن سے صبر کا دامن تھامے ہوئے ہیں جس دن سے بھارتی وزیر اعظم نے بھارت کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ تمام قربانیاں ہم اور آپ اس لئے دے رہے ہیں تاکہ اس وبا سے چھٹکارا پایا جا سکے ۔بھارتی سرزمین پر اس کی پھیلاؤ کو روکا جا سکے ۔اس لئے حکومت کے ہر فیصلے کو اول دن سے تمام لوگوں نے خوشی خوشی سر آنکھوں پر رکھا اور اس وبا سے لڑنے کے لئے حکومت کے قدم سے قدم ملا کر چلنے میں اپنی خوش قسمتی سمجھا ۔

بھارت کی سرزمیں پر جہاں ایک طرف حکومت کی ہر بات پر لوگوں نے ان کا ساتھ دیا وہیں دوسری طرف بھارتی میڈیا نے اس وبا کو ہندو مسلم کا رنگ دینے کی بھرپور کوشش کی ۔ہمیشہ کی طرح مسلمانوں کو بدنام کرنے اور اس وبا کی ذمہ داری مسلمانوں کے سر تھوپنے کے لئے مرکز کو مہرا بنایا اور لاک ڈاؤن سے پہلے ہوئے مرکز کے ایک جلسہ میں شامل تمام لوگوں کو اس وائرس کے پھیلنے کا ذمہ دار ٹہرانے کی پوری کوشش کی گئی حالانکہ یہ تمام لوگ دوسرے ملکوں سے ویزہ لے کر اور ایئر پورٹ پر چیک کرا کر آئے تھے لیکن اس کے باوجود انہیں بدنام کرنے کی مکمل کوشش کی گئی اس کے لئے مہینوں ڈیبیٹ کرایا گیا ۔مولانا سعد، مرکز اور جماعتی کو موضوع بحث بنایا گیا حتی کہ گودی میڈیا نے انہیں کورونا جہاد اور مانَو بم سے بھی تشبیہ دے دیا اور اس کو ثابت کرنے کے لئے مختلف قسم کے پرانے ، جھوٹے اور بناؤٹی ویڈیوز کا سہارا لیا گیا ۔ان کے اس کارنامہ کی وجہ کر بھارتی سماج و معاشرے کے اندر ہندو اور مسلم کے بیچ تناؤ اور نفرت کی صورت پیدا ہوگئی ۔اور بہت سارے سیاسی جماعتوں نے اپنی سیاسی روٹیاں بھی اس پر خوب سیکیں اور نفرت کو ہوا دینے کی مکمل کوشش کی بجائے اس کے کہ اس وبا سے بچنے کے لئے کوئی حکمت عملی اختیار کی جاتی ۔اسی لئے تو ایک شاعر نے کہا تھا کہ ۔

 

کہیں پر کھیت جلتا ہے کہیں کھلیان جلتا ہے

کہیں جنگل سلگتا ہے کہیں میدان جلتا ہے

 

بہت افسوس ہے ہم کو سمجھ اتنی نہیں اسلم

سیاست ہی کی چنگاری سے ہندوستان جلتا ہے

 

کورونا وائرس اور اس کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹہرانے کے لئے میڈیا نے مختلف طریقوں کا استعمال کیا حالانکہ انہیں حکومت سے سوال کرنی چاہئے کہ جب باہر سے لوگ چیک کر کے لائے جارہے تھے تو بھارت میں یہ وبا کیسے پھیلی؟ کیوں باہر سے آنے والے لوگوں کا چیک اپ ٹھیک سے نہیں ہوا؟ کیوں ٹرمپ کو لاکر لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو اکٹھا کیا گیا؟ کیوں اس وقت تک لاک ڈاؤن نہیں کیا گیا جب تک کہ مدھیہ پردیش میں حکومت کو تخت و تاراج نہیں کیا گیا؟ کیوں بلا حکمت عملی کے لاک ڈاؤن کیا گیا؟ مزدوروں کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ اور اس جیسے بہت سارے سوالات ہیں جو ہماری میڈیا کو پوچھنے چاہئے تھے لیکن ان کی ہمت جواب دے گئی حکومت سے سوال کرنے میں انہیں دن کو ہی تارے نظر آنے لگتے ہیں اس سے میڈیا کی چالبازی اور مکاری صاف طور پر واضح ہوتی ہے ۔

آج لاک ڈاؤن کو بھارت کی سرزمیں پر دو مہینہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لوگ اپنے گھروں میں قید ہیں ۔اپنی مساجد و منادر میں اکٹھا ہونے سے بچ رہے ہیں لیکن اسی درمیان رمضان کا پاک اور مقدس مہینہ بھی آیا اور اب عید بھی آنے کو ہے ۔ یہ برکت ، رحمت ،مغفرت اور بخشش کا مہینہ ہے اس مہینہ میں مسلمان اللہ کی عبادت و ریاضت خوب کرتے ہیں مسجدوں کو آباد کرتے ہیں تلاوت ،ذکر و اذکار اور تراویح کا اہتمام خوب کرتے ہیں لیکن اس مقدس مہینہ میں بھی مسلمانوں نے اجتماعیت سے بچتے ہوئے انفرادیت کو ترجیح دیا ۔انفرادی طور پر اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کی ۔پہلے جب رمضان کا مہینہ ختم ہوتا تھا یا ختم ہونے کو رہتا تھا تب بازاروں میں مسلمانوں کی بھیڑ کو دیکھ کر عید کی خوشبوؤں کو محسوس کرلیا جاتا تھا چھوٹے، بڑے، بوڑھے ،بچے، مرد اور خواتین بازار آتے اور اپنے اپنے من پسند کے کپڑے، جوتے، چپل اور کھلونے لیتے پھر جب عید آتی تو خوب دھوم دھام سے عید مناتے ۔نئے لباس میں ملبوس ہوکر، خوشبوؤں میں معطر ہوکر، غریبوں کو صدقہ و فطرہ دیتے ہوئے عید گاہ میں اکٹھا ہوتے اور رمضان کے روزے کو پورا کرلینے کی خوشی میں دو رکعت عید کی نماز پڑھتے لیکن اب چونکہ اس وبا کی بنا پر ماحول بدل چکا ہے، سوشل ڈسٹینس کا پاس و لحاظ رکھنا ہے ۔کورونا کا مقابلہ کرنا ہے ۔مستزاد یہ کہ میڈیا کی نگاہیں مسلمانوں کی عید پر ہندو اور مسلم رنگ دینے اور وائرس کے پھیلنے کی وجہ عید کو قرار دینے پر ٹکی ہوئی ہے اس لئے اہل دانشور اور سوج و بوجھ رکھنے والے افراد اور مسلم رہنماؤں نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اس سال بازاروں کی رونک نہیں بنیں گے، پرانے لباس میں ہی ہم لوگ عید کی نماز پڑھیں گے اور جو پیسہ ہم نئے لباس بنانے میں خرچ کرتے تھے اسے مزدوروں اور بے سہاروں پر خرچ کریں گے ۔اس طرح کی باتیں پندرہ رمضان سے ہی لوگوں کے درمیان پھیلائی جارہی تھیں جس کا اثر بھی دیکھنے کو ملا اور بہت سارے مسلمانوں نے پرانے کپڑے میں عید کی نماز وہ بھی عیدگاہ جائے بغیر اپنے اپنے گھروں میں ہی ادا کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں جو یقینا مسلمانوں کی چالاکی اور دوراندیشی کی ایک بہترین مثال ہے اور یہ گودی میڈیا کے گال پر زوردار طمانچہ بھی ہے کیونکہ انہیں نہیں معلوم کہ عید صرف نئے کپڑے پہننے کا نام نہیں بلکہ اس کا نام ایک عربی شاعر کی زبانی یہ ہے کہ :

لیس العید لمن لبس الجدید

انما العید لمن خاف الوید

کہ عید اس شخص کے لئے نہیں ہے وہ نئے کپڑے پہنے بلکہ عید تو اس شخص کے لئے ہے جو وعید سے ڈر گیا ۔

مذکورہ بالا شعر کو مد نظر رکھے اور اس عید میں مسلمانوں کی سوچ کو سامنے رکھے تو دونوں میں مکمل مشابہت پائی جاتی ہے اللہ تمام مسلمانوں کے روزوں کو قبول کرے اور انہیں اس وباء سے محفوظ رکھے اور جب تک مسلمان اس دنیا میں رہے ایمان و سلامتی کے ساتھ رہیں آمین تقبل اللہ منا و منکم صالح الاعمال ۔

 

ذیشان الہی منیر تیمی

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *