رمضان المبارک کا روزہ ترک کرنے کی رخصت اور روزوں کی قضاء کا بیان

سترہویں قسط

از قلم :طیبہ شمیم تیمی بنت ابو انس شمیم ادریس سلفی /بابو سلیم پور/ دربہنگہ*

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم.

رمضان المبارک کے روزے رکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے. لیکن ضرورت انسانی کے پیش نظر شریعت اسلامیہ نے کچھ لوگوں کو ماہ رمضان کے روزے ترک کرنے کی اجازت دی ہے. پھر حالات کے پیش نظر بعض لوگوں کو فدیہ دے کر اس فریضہ سے سبکدوش ہونے کا حکم دیا تو بعض لوگوں کو بعد میں قضاء کرنے کا حکم ۔

میں پہلے ان لوگوں کا ذکر کرتی ہوں جنہیں اسلام نے شرعی عذر یا ضرورت و حاجت انسانی کی وجہ سے روزہ ترک کرنے کا حکم دیا. . 1).مسافر کے لئے روزہ چھوڑنے کی رخصت ہے. جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :”فمن كان منكم مريضا أو علي سفر فعدة من أيام أخر “.یعنی تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو اور دونوں میں گنتی پوری کر لے. (سورہ بقرہ /184). اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”هي رخصة من الله, فمن أخذ بها فحسن و من أحب أن يصوم فلا جناح عليه “.یہ یعنی (دوران سفر روزہ چھوڑنے کی اجازت) اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے جو اسے اختیار کر لے تو بہتر اور جو شخص روزہ رکھنا پسند کرے تو اس پر بھی کوئی حرج نہیں.(مسلم/1121).اس آیت و حدیث سے معلوم ہوا کہ مسافر کے لئے سفر میں روزہ چھوڑنا افضل و بہتر ہے لیکن اگر چاہے تو روزہ رکھ سکتا ہے. البتہ انہیں جان کی ہلاکت کا ڈر ہو تو روزہ افطاری کرنا ضروری ہے. لیکن بعد میں اس کی قضاء کرے گا ۔ 2).مریض کے لئے بھی روزہ ترک کرنے کی رخصت ہے :”جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے :”فمن كان منكم مريضا أو علي سفر فعدة من أيام أخر “.(سورة البقرة /184).اور اہل علم اجماع ہے اس بات پر کہ مریض کے لئے روزہ چھوڑنا جائز ہے. اور اس میں اصل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے (تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں گنتی پوری کر لے). سورہ بقرہ /184).(المغنی لابن قدامہ /403/4).البتہ وہ جب بھی شفا یاب اور تندرست ہو جائے تو ان روزوں کی قضاء کرے گا (البتہ ایسا مریض ہو جو روزے سے عاجز ہو اس پر روزہ شدید مشقت کا باعث ہو اور اس کے تندرست ہونے کی امید نہ ہو تو وہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے). (فتاویٰ اللجنہ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء /160/10). . 3).سخت ضعیف العمر شخص جو روزے کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کے لئے بھی رخصت ہے. اور چونکہ وہ بعد میں روزہ نہیں رکھ سکتا اس لئے وہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا کر کفارہ ادا کرے گا. جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے :کہ”رخص للشيخ الكبير أن يفطر و يطعم عن كل يوم مسكينا ولا قضاء “.بڑے عمر کے بوڑھے کو روزہ چھوڑ دینے کی رخصت دی گئی ہے. وہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے, اور اس پر قضاء نہیں. (دار قطنی 205/2/صحیح).اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ یہ آیت (و علی الذین یطیقونه).(سورہ بقرہ /184).منسوخ نہیں ہے بلکہ یہ ایسے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے لئے ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے اس لئے وہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں گے. (بخاری /4505). . 4).مجاہدین کے لئے بھی رخصت ہے :”اگر کافروں سے جہاد کرنے والے لوگ ایسے مسافر ہوں جو نماز قصر کر سکتے ہیں تو ان کے لئے روزہ چھوڑنا جائز ہے اور رمضان کے بعد ان پر قضاء کے روزے رکھنا لازم ہے. لیکن اگر وہ مسافر نہیں مثلا کفار نے ان کے شہر میں ان پر حملہ کر دیا ہے تو پھر جو ان میں سے جہاد کے ساتھ روزے کی استطاعت رکھتا ہو گا اس پر روزہ رکھنا واجب ہے اور جو جہاد کے ساتھ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا ہو گا اس کے لئے جائز ہے کہ وہ روزہ چھوڑ دے اور پھر رمضان ختم ہونے کے بعد جتنے دن روزے چھوڑے ہیں اتنے دن قضاء کے روزے رکھ لے. “(فتاویٰ اسلامیہ /141/2). . 5).حاملہ و مرضعہ کے لئے بھی رخصت ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”إن الله وضع عن المسافر الصوم و شطر الصلاة و عن الحبلي و المرضع الصوم “.بیشک اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ اور نصف نماز, اور حاملہ و دودھ پلانے والی خاتون سے (صرف) روزہ ساقط کر دیا ہے. (صحیح ابی داؤد /2017/وابو داؤد /2308).یعنی اگر حاملہ عورت رمضان کے روزے کی وجہ سے اپنے نفس یا اپنے پیٹ کے بچے کے متعلق خائف ہو تو وہ روزہ چھوڑ دے اور اس پر صرف قضاء ہے………. اور اسی طرح دودھ پلانے والی جب جب اپنے نفس کے متعلق خائف ہو اگر رمضان میں اپنے بچے کو دودھ پلائے یا اپنے بچے کے متعلق خائف ہو کہ اگر وہ روزہ رکھ لے گی تو اسے دودھ نہ پلا سکے گی تو وہ روزہ چھوڑ دے اور اس پر صرف قضاء لازم ہے. “.(فتاوی اللجنہ الدائمہ للبحوث العلمیہ و الافتاء /220/10). . 6).حائضہ اور نفاس والی عورت کے لئے بھی رخصت ہے. جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ (كان يصيبنا ذلك فنؤمر بقضاء الصوم ولا نؤمر بقضاء الصلاة “).ہمیں یہ(حیض) آتا تھا تو ہمیں روزے کی قضاء کا حکم دیا جاتا تھا. لیکن نماز کی قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا. (مسلم /335).اور بخاری میں ہے کہ( کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزے رکھتی ہے.)(بخاری /195).اور نفاس کا حکم بھی حیض کا ہی حکم ہے. (اہل علم کا اجماع ہے کہ حائضہ اور نفاس والی عورت کے لئے روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اور یہ دونوں رمضان میں روزہ چھوڑیں گی اور بعد میں قضاء کریں گی. اور اگر یہ روزہ رکھ بھی لیں تو انہیں روزہ کفایت نہیں کرے گا.) (المغنی لابن قدامہ /397/4). . *قارئین کرام :جن حضرات پر رمضان کے روزوں کی قضاء ہے چاہے تو پے در پے بھی روزہ کی قضاء کر سکتا ہے .اور الگ الگ بھی* . حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ “(رمضان کی قضاء مسلسل نہیں بلکہ) بلکہ الگ الگ روزے رکھ کر دی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :(دوسرے دنوں سے گنتی پوری کر لو) (یہ نہیں فرمایا کہ پے در پے روزے رکھو). (بخاری تعلیقا /قبل الحدیث /1950).اور جمہور خلف و سلف کا بھی یہی قول ہے. نیز سعودی مجلس افتاء کا فتویٰ ہے (جن ایام کے روزے چھوڑے ہیں ان کی قضاء دینا واجب ہے خواہ الگ الگ روزے رکھ کر یا پے در پے ).(فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیہ و الافتاء /339/10). *اور رمضان کے روزے کی قضاء تاخیر سے بھی کر سکتے ہیں اور رمضان المبارک کے فوار بعد بھی کر سکتے ہیں* حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ (کان یکون علی الصوم من رمضان فما استطیع ان اقضی الا فی شعبان.) یعنی میرے ذمہ رمضان کے روزے ہوتے تو میں ماہ شعبان کے علاوہ (سارا سال) ان کی قضاء دینے کی طاقت نہیں رکھتی. (بخاری/1950/مسلم1146).امام البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں :”حق بات یہ ہے کہ اگر استطاعت ہو تو جلدی قضاء دینا واجب ہے. کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :”وسارعوا الی مغفرة من ربكم “.سورہ آل عمران /133).اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو “.(تمام المنۃ /ص/421).اور امام ابن حزم رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں (انہوں نے حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کو طاقت نہ ہونے پر محمول کیا ہے). (المحلی /260/6). *البتہ اگر کسی نے رمضان المبارک کا ایک روزہ بھی جان بوجھ کر توڑ دے تو اس سلسلے میں حکم یہ ہے کہ اس پر قضاء نہیں اس لئے وہ قضاء نہ دے گا کیونکہ اس سے کوئی فائدہ نہیں. البتہ اسے چاہئے کہ وہ خلوص دل سے سچی توبہ کرے اور اپنا گناہ معاف کرائے* . جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے :”من أفطر يوما من رمضان من غير عذر و لا مرض لم يقضه صيام الدهر و إن صامه “.اگر کسی نے رمضان میں کسی عذر اور مرض کے بغیر ایک دن کا بھی روزہ نہ رکھا تو ساری عمر کے روزے بھی اس کا بدلہ (یعنی قضاء) نہیں ہو سکتے. (بخاری تعلیقا /قبل الحدیث /1935). *اور جو شخص ایسی حالت میں فوت ہو کہ اس کے ذمہ فرض روزے ہوں تو اس کا ولی(یعنی وارث )اس کی طرف سے روزے رکھے* . جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :”من مات و عليه صيام صام عنه وليه “اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھے گا. (بخاری/1952/مسلم/1147).اور بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے دریافت کیا کہ (اے اللہ کے رسول! میری والدہ کے ذمے ایک ماہ کے روزے تھے کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں ؟تو آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”تو اس کی طرف سے روزے رکھ لے. “(مسلم/’1149).اور اگر فوت ہونے والے شخص پر نذر کے روزے ہوں تب بھی اس کی طرف سے اسے اس کے وارث ادا کریں گے. جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا :اے اللہ کے رسول! میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور اس کے ذمے نذر کے روزے ہیں کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں ؟آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”مجھے بتلاؤ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی “؟اس نے کہا :ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”اس کی طرف سے روزے رکھو “.اور ایک روایت میں ہے کہ (فدین الله أحق أن يقضي) اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے. “(مسلم /1147). *اور اگر نفلی روزہ ہو تو ان روزوں کی قضاء ادا کرنا ضروری نہیں* . جیسا کہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث میں ہے کہ وہ روزے سے تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے ان کے گھر میں کچھ پیا پھر اسے چھوڑ کر ام ہانی رضی اللہ عنہا کو دیا, تو انہوں نے بھی اس سے پیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم یقینا میں نے روزہ توڑ دیا, اور میرا تو روزہ تھا. آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے اس سے کہا کہ کیا تم کسی روزے کی قضاء دے رہی تھی ؟اس نے کہا :نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”اگر یہ نفلی روزہ تھا تو کوئی حرج نہیں. “(ابو داؤد /2406/و صححہ الالبانی فی صحیح ابو داؤد /2145). . قارئین کرام :الحمد للہ ہم اس بات سے پوری طرح واقف ہو چکیں کے کن لوگوں کے لئے رمضان کے روزے ترک کرنے کی اجازت ہے اور اس کی قضاء ادا کرنا ضروری اور لازم و فرض ہے اور کن پر کفارہ ہے. اور نفل روزے کی کوئی قضاء نہیں نیز جو جان بوجھ کر روزہ چھوڑے اس کی قضاء قبول نہ کی جائے گی. اور جو شخص وفات پا چکے ہیں اور پر فرض یا نذر کے روزے تھے تو ان کے وارث انکی طرف سے روزہ رکھیں گے. اس لئے ہم ان عذر کے بغیر جو میں نے بیان کیا ہے روزہ نہ چھوڑیں. اور ان باتوں پر عمل کریں جو میں نے ابھی بیان کیا ہے. تاکہ ہم دنیا و آخرت دونوں کامیاب و کامران ہوں اور دوسروں کو بھی اس سے آگاہ کریں تاکہ وہ بھی اس پر عمل کر سکیں. . اخیر میں اللہ عز و جل سے دعا ہے کہ اے اللہ تو ہم تمام مسلمانوں کو صحت و تندرستی جیسی عظیم نعمت سے نواز تاکہ ہم رمضان کے روزے ماہ رمضان میں ہی مکمل رکھ سکیں اور ہمیں قضاء کرنے کی نوبت ہی نہ آئے اور ہمیں کتاب و سنت کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما. آمین ثم آمین تقبل یا رب العالمین. *من جانب :علامہ دکتور محمد لقمان السلفی اسلامک لائبریری /مظفر پور/ بہار*

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *