زکاۃ الفطر سے متعلق چند باتیں

زکاۃ الفطر سے متعلق چند باتیں

 

ابو عفراء سراجی

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

 

زکاۃ الفطر کے ادا کرنے کے مقاصد کیا ہیں؟

کیا مدرسے، مساجد یا دینی اداروں میں زکاۃ الفطر ادا کرنے سے اس کے حقیقی مقاصد کی تکمیل ہو جائے گی؟

 

زکاۃ الفطر ادا کرنے کے دو بنیادی مقاصد ہیں جن کا ذکر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے اثر میں ملتا ہے- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ، مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ”.( سنن أبي داود، ح:1609، حكم الحديث:حسن) یعنی:” اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ الفطر کو فرض قرار دیا ہے تاکہ وہ روزہ دار کی زبان سے نکلی ہوئی بد گوئی اور فحش گوئی کے در باب اس کی پاکیزگی کا باعث ہو نیز مسکینوں کا کھانا بن سکے، جو اسے نماز عید سے پہلے ادا کرے اس کی زکاۃ مقبول ہوگی، اور جو بعد نماز عید ادا کرے اس کا عام صدقہ شمار ہوگا”-

 

زکاۃ الفطر ادا کرنے کی مصلحت:

 

١- بشری تقاضوں کے مطابق ہر انسان سے خواہی نہ خواہی غیر مناسب الفاظ یا دشنام طرازی پر مبنی کلمات نکل جاتے ہیں، تو زکاۃ الفطر ان کی تلافی کرتی ہے-

٢- اسلامی نظام انسانیت نوازی اور غربا پروری کا منبع ہے- اس کے ضابطے اور قوانین ہر زمان ومکان کے لیے موزوں اور مناسب ہے- چوں کہ فقراء اور مساکین عید کے دن گداگری نہ کریں اور عید کی خوشیاں انہیں بھی میسر ہوں، ان کی بھی بانچھیں اس دن کھلی رہیں، ان کے چہروں پر بھی مسکراہٹ باقی رہے، اس بنا پر عید سے ایک دو دن قبل یا نماز عید سے قبل اس کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے-

 

اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ شریعت اسلامیہ نے جن مقاصد اور مصلحتوں کی بنا پر زکاۃ الفطر کی ادائیگی کو فرض قرار دیا ہے، اس کے مدارس ومساجد اور دینی اداروں میں ادا کرنے سے اس کے اغراض ومقاصد کی بجاآوری ہوجائے گی؟ بالکل نہیں، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہمیں مساکین اور فقراء پر فوکس کرنے اور اسے عطا کرنے کی تلقین کر رہا ہے- ہم لوگ تو اہل حدیث ہیں، حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں، صحابہ پر جان چھڑکتے ہیں، سلف صالحین کا موقف اختیار کرتے ہیں۔کیا وجہ ہے کہ ہم ارشاد رسول سے اعراض کررہے ہیں- اب کوئی یہ نہ کہہ دے کہ آپ مدارس اور مساجد کے خلاف ہیں- ایسا بالکل نہیں ہے، کیوں کہ میں بھی مدرسے کا ہی پروردہ ہوں، مدارس اور مساجد کا ہمارے اوپر حق ہے، ان کے لیے خاص اصولی ہونی چاہیے نیز اس کے نظم ونسق کے لیے چندوں کا اہتمام ہونا چاہیے-

شریعت کے مقتضیات اور مصلحتوں سے چشم پوشی کرنا کسی بھی صورت صحیح نہیں ہے-

اب کوئی یہ اعتراض کرے کہ مدارس بھی حالیہ دنوں لاک ڈاؤن کے سبب مالی بحران کا شکار ہیں، طرح طرح کی مشکلات سے دوچار ہیں، انہیں بھی امداد وتعاون کی ضرورت ہے- تو یہ اعتراض بالکل درست نہیں ہے، کیوں کہ امداد وتعاون الگ چیز ہے اور زکاۃ الفطر الگ- زکاۃ الفطر تعاون نہیں بلکہ یہ مساکین اور فقراء کا عین حق ہے-اگر کوئی کسی کی حق تلفی کرلے، تو وہ عنداللہ گنہگار ہوگا- دوسرے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے “طعمۃ للمساکین” کے ذریعہ اسے ادا کرنے کے مصرف کی تخصیص کردی ہے، اس سے روگردانی بالکل درست نہیں-

 

اللہ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ بوجھ عطا فرمائے- آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *