اورنگ آباد سے مظفرپور کا سفر:کچھ یادیں کچھ باتیں

اورنگ آباد سے مظفرپور کا سفر : کچھ یادیں کچھ باتیں

ذیشان الہی منیر تیمی

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی۔

عصر حاضر میں پوری دنیا کے ساتھ ساتھ بھارت کی سرزمیں پر بھی کورونا وائرس کی دردناک اور خطرناک تاثیر کو محسوس کیا جارہا ہے ۔وطن عزیز ملک بھارت کے نقشے پر یوں تو فروری کے مہینہ میں ہی اس وائرس نے اپنا بیج بو چکا تھا لیکن مارچ کے مہینہ میں اس وبا نے اپنا رنگ و روپ دکھانا شروع کیا اور لوگوں کو تیزی کے ساتھ اپنا شکار بنانے لگا. مجبورا بھارتی حکومت کو 23 مارچ کو ملک گیر سطح پر لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع کرنا پڑا ۔جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ تجارت وسیاحت، تعلیم و تعلم، سیر و سفر اور میلوں و ٹھیلوں کو روک دینا اور اپنی آزادی سے ہاتھ دھوکر خود کو بلا جرم کے گھر میں اپنے آپ کو روکے رہنا ہے ۔23 مارچ کا لاک ڈاؤن جو پہلی مرتبہ بھارت میں ہوا وہ بلا اطلاع کے اچانک ہوگیا جس کی بنا پر بہت سے مزدور اور طلبہ جو اپنے گھروں سے معیشت کی غرض سے یا تعلیم کی غرض سے باہر تھے وہ بری طرح پھنس گئے چونکہ گاڑیاں بند تھیں اس لئے ادھر ادھر سفر کرنا محال تھا پھر لاک ڈاؤن کا سلسلہ چل پڑا ایک کے بعد دوسرا پھرا تیسرا اور چوتھا لاک ڈاؤن نے لوگوں کے صبر و تحمل کو گھائل کردیا ان کے چہرے کی مایوسی کو دیکھ کر وہ پرندہ یاد آتا ہے جس کو پنجرہ میں قید کر دیا جاتا ہے اسی ماحول کو دیکھتے ہوئے ہم نے یہ شعر کہا تھا کہ ۔۔

کتنا بد نصیب یہ انسان ہو گیا

آزادی کو قید کر کے حیران ہوگیا

اچانک لاک ڈاؤن کی بنا پر جہاں ایک طرف بہت سے مزدور بہت سارے یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات پھنس گئے تھے وہ گھر نہیں جاسکے تھے وہیں دوسری طرف پھنسنے والے طلبہ و طالبات میں مانو کالج اورنگ آباد کے طلبہ کی ایک جماعت بھی تھی جو گھر نہیں جاسکی حالانکہ یہ طلبہ اور ان سے جڑے اساتذہ و معلمات دوسرے لاک ڈاؤن سے ہی اس مسئلہ کو سلجھانے اور طلبہ کو گھر بھیجنے کی کوشش میں لگے تھے لیکن کامیابی نہیں مل پائی پھر آج یعنی 23 مئی کو تمام لوگوں کی لگاتار محنت و کوشش رنگ لائی پھر ہم لوگوں کا سفر مانو کالج اورنگ آباد سے مظفرپور کا سفر شروع ہوا جس کی مختصر جھلک ذیل میں تحریر کی جارہی ہے ۔

اورنگ آباد سے مظفرپور تک کا یہ سفر ہم لوگوں کے لئے کافی اہم تھا کیونکہ مکمل حفاظت اور ہوشیاری کے ساتھ اپنے آپ کو سوشل ڈسٹینس کا پالن کرتے ہوئے سفر کر لینا یقینا دل اور گردے کی بات ہے خیر اس سفر کی تیاری ہم لوگوں نے ایک دو روز پہلے سے ہی کر رکھی تھی ماسک، گلپس اور سینیٹائزر کا انتظام و انصرام کرنا ہم لوگوں کے اصول سفر میں شامل تھا اس لئے ان تمام چیزوں کو ہم لوگوں نے خریدا پھر 23 مئی کو صبح سویرے لگ بھگ 5:45 میں تاج ریسیڈینسی پہنچے پھر دھیرے دھیرے تمام طلبہ و طالبات وہاں اپنے اپنے سامان کے ساتھ پہنچ گئے۔ پھر یکے بعد دیگرے پروفیسر بدر الاسلام سر ،پروفیسر شاہین پروین میم ،پروفیسر سیدہ ہاجرہ نوشین میم اور پروفیسر عظمی صدیقی میم وہاں پہنچ گئے۔ کچھ دیر کے بعد بس آگئی پھر اساتذہ و معلمات کی نصیحت، ہدایت اور دعاؤں کے ساتھ سوشل ڈسٹینس کا پالن کرتے ہوئے ہم لوگ بس پر سوار ہوئے اور اپنے اساتذہ و معلمات کو خدا حافظ کہا ۔بس لگ بھگ پندرہ بیس منٹ چلی اور ہم لوگ اورنگ آباد اسٹیشن پہنچ گئے ۔یہاں پر ساڑھے چھ کے قریب ہم لوگ پہنچے پھر لگ بھگ دو گھنٹہ کے قریب ہم لوگ اسٹیشن پر ہی رہے اسی درمیان ڈاکٹر خان شہناز بانو میم تشریف لائیں تمام طلبہ سے علیک و سلیک اور گفت و شنید ہوئی ۔کچھ دیر کے بعد ہم لوگوں کو میم کی مدد و کوشش سے ٹکٹ مل گئی اور ہم لوگ چیک کراکر اسٹیشن کے اندر آئے یہاں پر تمام مسافرین کو ناشتہ، کھانا کا تھیلا اور پانی دیا جارہا تھا ان تمام چیزوں کو لیتے ہوئے ہم لوگ اپنی اپنی سیٹ پر آکر دس بجے کے قریب بیٹھ گئے پھر ڈاکٹر خان شہناز بانو میم کے ساتھ ٹرین میں چند طلبہ کے ساتھ تصویر کشی کی گئی اس کے بعد میم نے دعاؤں کے ساتھ ہم سب کو رخصت کیا اللہ میم کی قربانیوں اور جاں فشانیوں کو شرف قبولیت سے نوازے ۔واضح رہے کہ اس مشکل بھری سفر میں ہمارے ساتھ مانو کالج کے طلبہ و طالبات کی ٹیم موجود ہیں جن کے نام کچھ اس طرح ہیں شمشاد، قابل، افروز، علی، شہاب الدین ،سلامل انصاری ،سمیع ،ابو نصر،فراض ،انور ،شاداب ،خادم الاسلام ،سلمان، غلام سنجر ،مبشر ،فردوس ،رفیع اللہ، مستقیم،صلاح الدین، امتیاز ،کاتب سطور ( ذیشان الہی)، عمرانہ، رقیہ اور نوشین ۔

اس سفر کے لئے بے پناہ کوششوں، محنتوں اور شجاعتوں کا مظاہرہ کرکے طلبہ کو ان کے گھر تک پہنچانے کے لئے ڈاکٹر عبد الرحیم سر، ڈاکٹر خان شہناز بانو میم، ڈاکٹر بدرالاسلام سر، ڈاکٹر شاہین پروین میم، سیدہ ہاجرہ نوشین میم اور پروفیسر عظمی صدیقی میم نے شب و روز ایک کردیئے ( اللہ ان تمام کو اس کا بہتر بدلہ دنیا و آخرت میں دے ) جس کی بنا پر آج ہم لوگ باضابطہ طور پر ٹرین میں آ چکے ہیں اور اپنے اپنے گھر جانے کے خواب کو دل کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں ۔اب لگ بھگ دو ڈھائی گھنٹوں کے مسلسل انتظار اور اوپر سے دھوپ کی قیامت اور تپش کے بعد 12:50 میں ٹرین کھل چکی ہے ۔گرمی سے بے چین جسم کو دھیرے دھیرے راحت مل رہی ہے ۔مسافرین کے چہرے ہشاش بشاش نظر آرہے ہیں ۔اب آگے اپنے آپ کو اللہ کے حفظ و امان میں دیتے ہوئے اور آپ تمام قارئینِ سے دعاؤں اور نیک خواہشات کی امید کرتے ہوئے اپنی بات کو یہی پر ختم کرتا ہوں کل ان شاء اللہ تھوڑی تفصیل سے روداد سفر لکھوں گا جب تک کے لئے اللہ حافظ ۔

 

ذیشان الہی منیر تیمی

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *