رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کی فضیلت

اٹھارویں قسط:

رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کی فضیلت.

. از قلم :طیبہ شمیم تیمی بنت ابو انس شمیم ادریس سلفی /بابو سلیم پور/ دربہنگہ* .

 

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم.

معزز قارئین : اللہ عز و جل کا ہم پر بہت بڑا فضل و احسان ہے کہ اس نے ہم جیسے خطا کاروں کو رمضان جیسا عظیم الشان اور با برکت مہینہ نصیب فرمایا.اور الحمد للہ اس میں عمل صالح کی توفیق عطا فرمائی. (اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسا ماہ بار بار نصیب فرمائے. آمین) تو ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم پورے سال عمل صالح کریں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کریں کیا معلوم ہمارا کون سا عمل ہمارے رب کو پسند آجائے اور وہ ہمیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما دے. میرے بہنوں اور بھائیوں شوال کے چھ روزے رکھنے کی بھی بہت بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے اس لئے ہمیں ضرور بالضرور اس کو رکھنے کا اہتمام کرنا چاہیئے . کیونکہ رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد جو شخص بھی شوال کے چھ روزے رکھے گا تو اس کو پورے سال روزہ رکھنے کا اجر و ثواب ملے گا. جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا :”من صام رمضان ثم أتبعه ستا من شوال فذاك كصيام الدهر “.جو شخص رمضان المبارک کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے بھی رکھے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پورے سال کے روزے رکھے. (مسلم/1164).رمضان المبارک کے روزے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کو اس لئے سارے سال کے روزوں کی مانند کہا گیا ہے. کیونکہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہوتا ہے ۔لہٰذا رمضان کے روزے دس ماہ کے برابر ہوئے اور چھ شوال کے دو ماہ کے برابر ہوئے جیسا کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے اس کی شرح و تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا :”من صام ستة أيام بعد الفطر كان تمام السنة, من جاء بالحسنه فله عشر أمثالها “جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے تو یہ پورے سال (کے روزوں) کی طرح ہوں گے. (کیونکہ) جس نے ایک نیکی کی اس کے لئے اس کی مثل دس گنا اجر ہو گا. (ابن ماجہ /1715/وصححہ الالبانی فی صحیح ابن ماجہ /1392).اور ایک روایت میں ہے.” اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو دس گنا کرتا ہے لہٰذا رمضان المبارک کا مہینہ دس مہینوں کے برابر ہوا اور چھ دنوں کے روزے سال کو پورا کرتے ہیں “.(سنن النسائی /138/2/سنن ابن ماجہ /1715/وصحیح الترغیب و الترھیب /421/1).نیز نفلی روزہ رکھنے کی فضیلت یہ بھی ہے کہ فرض روزے میں جو کمی و کوتاہی اور نقص رہ گیا ہو تو وہ اس کو پورا کرتی ہے اور اس کے عوض میں ہے. جیسا کہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہے :”اگر بروز قیامت کسی شخص کے فرائض میں کچھ نقص و کمی ہو گی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس نے جو نوافل پڑھا ہو گا تو اس کے ذریعے (نوافل )اس کی(فرائض) کی کمی پوری کی جائے گی یعنی فرض روزہ کے نقص کو نفل روزے کے ذریعے پورا کیا جائے گا “.(سنن ابی داؤد /733).اور شوال کے چھ روزے نفلی روزے ہیں اس لئے اس کے ایک فوائد یہ بھی ہو گئے. .

عزیز قارئین :شوال کے یہ چھ روزے رکھنا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے. اور مسلمانوں کے لئے مشروع ہے کہ وہ شوال کے چھ روزے رکھے جس میں اجر عظیم اور بہت بڑا اجر و ثواب ہے. اور شوال کے یہ چھ روزے پورے شوال میں کبھی بھی رکھ سکتے ہیں. شروع میں, درمیان میں اور آخر شوال میں بھی, پے در پے بھی رکھ سکتے ہیں یعنی لگا تار اور الگ الگ بھی یعنی وقفے وقفے سے بھی رکھ سکتے ہیں. کیونکہ شریعت میں ان تمام اشیاء کی تعیین نہیں کی گئی ہے. جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :”ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ افضل یہ ہے کہ یہ چھ روزے عید الفطر کے بعد پے در پے رکھے جائیں لیکن اگر کوئی وقفے وقفے سے یہ روزے رکھے یا انہیں ماہ شوال کی ابتداء سے آخر تک مؤخر کر دے تو اسے بھی پے در پے روزے رکھنے کی فضیلت حاصل ہو جائے گی “.(شرح مسلم للنووی /56/8).اور امام ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں :”کہ شوال کے چھ روزے سنت ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم سے ثابت ہیں اور یہ روزے پے در پے اور الگ الگ ہر طرح جائز ہے. “(فتاوی اسلامیہ /160/2). . قارئین کرام :ہم ابھی ابھی ماہ رمضان کے روزے رکھ کر فارغ ہوئے ہیں اس لئے ہمیں ابھی روزہ رکھنے کی عادت بھی ہے اور پریکٹس بھی اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم شوال کے چھ روزے ضرور رکھیں تاکہ ہم بھی پورے سال روزہ رکھنے کا اجر و ثواب حاصل کر سکیں اور قیامت کے دن اگر ہمارے فرض روزے میں کوئی نقص ہو تو اس کے ذریعے ہمارے نقص کو بھی پورا کیا جا سکے. اور سوچئے اگر ہم نے رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کا اپنے زندگی بھر کے لئے (مستقل) معمول بنا لیں تو گویا ہم ایسے ہو جائیں گے جیسے ہم نے پوری زندگی روزوں کے ساتھ گزاری یعنی روزہ رکھ کر گزاری ہے. اور ہم اللہ تعالیٰ کے پاس ہمیشہ ہمیش رکھنے والوں میں شمار ہونگے. اس لئے ہم تمام مسلمان آج ہی سے یہ عہد کر لیں کہ ہم ان شاء اللہ پوری زندگی یعنی جب تک زندہ رہیں رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے بھی رکھیں گے اور ایسا صرف اور صرف اللہ رب العالمین کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کریں گے. تاکہ ہمارا شمار عند اللہ روزے دار میں ہو اور ہم باب الریان سے جنت الفردوس میں داخل ہو سکیں. اور جس کے ذمہ فرض روزے کی قضاء باقی ہو اور وہ شوال کے چھ روزے رکھ لے اور بعد میں اس کی قضاء کرے تو یہ کفایت کر جائے گا. جیسا کہ سعودی مجلس افتاء کا فتویٰ ہے :”جس نے اپنے اوپر فرض روزوں کی قضاء سے پہلے نفل روزے رکھ لئے پھر فرض روزوں کی قضاء دی تو اس کی قضاء کفایت کر جائے گی. لیکن مناسب یہ ہے کہ پہلے وہ فرض روزوں کی قضاء دے پھر نفل روزے رکھے کیونکہ فرض زیادہ اہم ہے. “(فتاویٰ اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء /383/10). . اخیر میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اے اللہ تو ہمیں فرائض کے ساتھ نوافل کا اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں شوال کے چھ روزے رکھنے کی طاقت و قوت عطا فرما .آمین ثم آمین تقبل یا رب العالمین.

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *