شوال کے چھ روزے : فضیلت و احکام ( پہلی قسط

شوال کے چھ روزے : فضیلت و احکام ( پہلی قسط)

ابو عدنان محمد طیب بھواروی

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

محترم قارئین !

اللہ عزوجل نے نفس انسانی کی تطہیروتزکیہ کی خاطرعبادات وطاعات کومشروع قراردیا ہے، جس قدر ایک مومن زیادہ نیکی کرے گا اس کا قلب اتنا ہی زیاد ہ پاک وصاف رہے گا اور اللہ عزوجل کا اسے قرب نصیب ہوگا اورجوانسان جس قدر معصیتیں اور برائیاں کرے گا اس کا دل اتنا ہی زیادہ غلیظ اور سخت ہوتا چلاجائے گا ۔

نیکیوں کا موسم اور اس کےاوقات ولمحات یکے بعد دیگرے آتے رہتے ہیں، رمضان ختم ہوا کہ شوال شروع ہوگیا ،یہ بھی ایک مبارک مہینہ ہے اور نیکی کا مہینہ ہے جس سے حج کےمہینوں کا آغازوشروعات ہوتا ہے، جس میں چھ روزے رکھے جاتے ہیں ، مسلمانوں کوچاہئے صحیح احادیث میں وارد وثابت اس روزہ کی اہمیت کے پیش نظر اس مہینہ کے چھ روزے رکھیں ، رمضان کے بعد شوال کے روزے ایک قیمتی موقع ہے جس سے ایک مومن فائدہ اٹھاتا ہے بایں طور کہ وہ رمضان کے روزوں سے فارغ ہونے کے بعد طاعت ونیکی کے دوسری ڈگر پر کھڑا ہوتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو شوال کے اس چھ روزے کی ترغیب دی ہے ،عمدہ اسلوب وانداز میں ان روزوں کے رکھنے پر ابھارا اور شوق دلایا ہے ، چنانچہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “من صام رمضان ثم أتبعه ستاً من شوال فكأنما صام الدهر كله) ’’ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے ، پھر اس کے پیچھے شوال کےچھ روزے رکھے تو وہ سارا سال روزے رکھنے کی مانند ہوگا‘‘ (صحیح مسلم)

یہ حدیث شوال کے چھ روزے کی فضیلت پرواضح دلیل ہے،حدیث میں وارد لفظ (دھر) سے السنۃ یعنی ایک سال مراد ہے، گویا اس نے پورے ایک سال کاروزہ رکھا، قرآن کریم میں ہے،(مَنْ جَاۗءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا وَمَنْ جَاۗءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا) ’’ جو شخص نیکی کرے گا تو اسے اس کا دس گنا ملے گا، اور جو برائی کرے گا تو اسے اسی کے برابر سزا دی جائے گی‘‘ ( سورت الانعام آیت : ۱۶۰)

یعنی ایک نیکی کاثواب دس گنا ہے یعنی ایک نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر ملتا ہے ،اس کی مزید وضاحت حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو امام نسائی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اپنی صحیح ابن خزیمہ میں بیان کیا ہے، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (صیام شھر رمضان بعشرۃ اشھر، وصیام ستۃ ایام بشھرین فذلک صیام سنۃ) (صحیح ابن خزیمۃ 3/298 سنن نسائی 2/ 166) ” رمضان کے ایک مہینہ کاروزہ دس مہینوں کے روزہ کے برابر ہے اور شوال کے چھ دن کا روزہ (ستون یوما ) دوماہ کے روزوں کے برابر ہے، نیز سنن نسائی کی ایک دوسری حدیث میں ہے(جعل الله الحسنة بعشرة أمثالها. فشهر بعشرة أشهر، وصيام ستة أيام بعد الفطر تمام السنة)’’ اللہ تعالی نے ایک نیکی کو دس نیکیوں کے برابر قرار دیا ہے، ایک ماہ ( کی نیکی کو) دس مہینوں کے برابر اورعید الفطر کے بعد چھ دن کے روزے کو دوماہ کے برابر قراردیا ہے جس سے ایک سال مکمل ہوجاتا ہے‘‘

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علمائے محدثین رحمہم اللہ نے فرمایا: رمضان اور اس کے بعد شوال کا یہ روزہ زمانہ بھر کے روزہ کی طرح ہے، وہ اس طرح کہ ایک نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر ہے، تو رمضان کے روزوں کا ثواب دس مہینوں کے روزوں کے برابر ہے، اور شوال کےچھ روزوں کا ثواب دو مہینوں کے روزوں کے برابر ہے۔

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے عبد اللہ ابن المبارک کے حوالہ سے نقل فرمایا ہے: شوال کا روزہ اجروچواب اور فضیلت میں رمضان کے روزوں کو شامل ہے اس لئے فرض روزوں کی طرح شوال کے روزوں کا بھی اجروثواب ہوگا ۔

معلوم ہوا کہ رمضان کے فرض روزے رکھنے کے بعد اگر کوئی شوال کے چھ روزے رکھتا ہے تو اسے مکمل ایک سال کے روزے رکھنے کا اجروثواب ملے گا،اور اگرکوئی مسلمان اپنی زندگی میں ہرسال رمضان آنے پر رمضان کے فرض روزے رکھے ،اس کے بعد پھر شوال کے چھ (نفل) روزے رکھے تو کہا جائے گا کہ اس نے زندگی بھر روزہ رکھا، اس کے نامہ اعمال میں زندگی بھر کے روزہ رکھنے کا اجروثواب لکھاجائے گا۔

یہ اللہ سبحانہ وتعالی کا اپنے بندوں پر بڑا فـضل وکرم ہے کہ بندہ شوال کے چھ روزے رکھ کر پورے ایک سال کا اجروثواب حاصل کرلیتا ہے جس میں اسے کوئی مشقت وپریشانی اٹھانی نہیں پڑتی ، شوال کے چھ روزے رکھنے میں یہی وہ حکمت ہے۔ واللہ اعلم ۔

ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ شوال کے یہ چھ روزے رکھے تاکہ وہ اس اجرعظیم سے بہرہ ورہوں جو نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے بیان فرمائے ہیں، اور نیکی کے مقبول ہونے کی علامت وپہچان یہ ہے کہ نیکی کے بعد بھی انسان نیکی کرتا رہےاور شوال کے یہ چھ روزے ( رکھنا ) دلیل ہے کہ انسان کو روزہ جیسی عظیم عبادت سے محبت ہے اور روزہ رکھنے سے نہ تو وہ تھکتا ہے اور نہ ہی اس کا رکھنا اس کو بوجھ معلوم ہوتا ہے۔ جاری ۔۔۔۔۔

ابوعدنان محمد طیب بھواروی

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *