پردیسی عید

پردیسی عید

تحریر :عبد المالک محی الدین رحمانی

متعلم جامعہ اسلامیہ مدینہ نبویہ

___________________

قارئین کرام!

اللہ کے فضل و کرم سے رمضان المبارک 1441ھ

مکمل کیا اور اس پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے بس – فللہ الحمد والمنہ – سمجھ نہیں آ رہا کہ رمضان المبارک کے وداع پر روؤں یا پھر عید کے وصال پر خوشی کا اظہار کروں، روزوں کے فراق اور ہجر میں آنسو بہاؤں یا پھر عید کے ورود مسعود پر اپنے ٹوٹے ہوئے بدن اور جواب دیتے جسم کو سہارا دے کر خوشی میں مست کروں اور اسے فرحت و انبساط کی وادی میں مست مولا و آزاد کر دوں اور اپنے ساری تھکن بھلا کر عید کی خوشیوں میں گم ہو جاؤں اور عید کی خوشیاں مناؤں یا گھر سے دور رہنے پر غمی و نمی کا اظہار کروں .

معلوم ہونا چاہیے کہ موجودہ لاک ڈاؤن اور کورونا کے ایام میں وقایہ کے طور پر ابھی ہم سعودیہ عرب میں ہی مقیم ہیں اور یہ تو ہر فرد جو باہر کی دنیا دیکھ چکا ہو بخوبی جانتا ہے کہ باہر کی دنیا کیسی ہوتی ہے اور باہر کا ماحول کیسا رہتا ہے، وہاں خوشکی و نمی کیسی ہوتی ہے، کیسے وہاں پر آشوب وادیاں اور خار زار مقامات ہوتے ہیں ، کوئی یہ نہ کہے کہ میں اللہ کی ربوبیت پر شک یا عدم اطمینان اور ناراضی کا تذکرہ کر رہا ہوں جی نہیں میں اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے پر راضی ہوں اور اس پر مکمل اعتماد اور بھروسہ ہے کہ جو بھی ہوگا خیر ہوگا، اور جو ہوتا ہے وہ خیر ہوتا ہے، شر کسی بھی صورت میں اس کے فیصلے میں ایک ذرہ برابر تو کیا اس شر اور ظلم کا شائبہ تک نہیں ہوتا ہے اور اس پر ظلم کا شک کرنا بھی گناہ عظیم ہے اس لیے اللہ کا شکوہ کیا کرے. اور یہ بھی سمجھ لیں کہ آخر کوئی اللہ کی شکایت کرے تو کرے بھی کس سے؟ ہماری بات وہی ہے جو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے جگر کے ٹکڑے کی جدائی اور فراق میں کہا تھا “إنما أشكو بثي وحزني إلى الله…” ارے ہم تو اس کے سامنے اپنی درخواست، اپنی فریاد اور اپنے مطالبات لے کر جاتے ہیں پھر اس سے کیسا شکوہ اس لیے اس کے فیصلے پر مکمل اعتماد ہے اور جس حال میں بھی رکھے کوئی غم نہیں ہم تو اس قوم سے ہیں جن پر کوئی گھبراہٹ کا خدشہ بھی آیا تو اسی کی دربار میں حاضری دی اور اپنا حل لے کر خوشی خوشی گھر واپس ہوئے اس لیے ہمارے اعتماد اور توکل پر شک یا اعتراض نہ کرنا.

المہم ہم یہاں جامعہ اسلامیہ مدینہ نبویہ میں ہی فی الحال قیام پذیر ہیں اور گھر واپسی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں اور تاشیرات بھی صادر کیے جا چکے ہیں بس ٹکٹ آنا باقی ہے ان شاء اللہ وہ بھی جلد ہی منظر عام پر آنے والا ہے اور ان شاء اللہ اللہ کے کرم و فضل سے ہم گھر واپس ہونے والے بھی ہیں .

خیر پردیسی عید کیسی ہوتی ہے یہ بتا رہا تھا 30 روزے مکمل ہوئے اور عید کے لیے دل میں فطری فرحت و مسرت تھی، پرکیف نظارے کی امید تھی لیکن اس لاک ڈاؤن نے سب کچھ بکھیر دیا.

عید کی رات دیر رات تک اپنے دوستوں سے بات چیت چلی، تبادلہ خیالات ہوئے اور تقریباً 12 بجے ہم اپنے اپنے روم میں واپس ہوئے اور جلدی سو گئے کہ صبح جلدی بیدار ہونا ہے، صبح صبح اٹھے، فجر کی نماز ادا کی اور کپڑے پریس کر لیا اور چونکہ کافی دنوں سے جبہ پریس نہیں کیا تھا اس لیے اسے لائن پر لانا تھا سو کام سے فارغ ہوئے اور ہمارا موعد جو عید کی نماز کے لیے طے کیا گیا تھا ساڑھے چھ بجے تھا خیر وعدے کے مطابق وقت پر حاضری ہوئی اور تین لوگوں کی مختصر جماعت قائم ہوئی، ایک ساتھی نے نماز پڑھائی اور دوسرے نے خطبہ دیا اور اپنے و تمام مسلمانوں کی بہتری اور دین و دنیا اور دونوں جہان کی کامیابی رب العزت سے طلب کی اور اس طرح ہم نماز سے فارغ ہو گئے.

عید کے بعد عید کی خاص چیز جو کہ اگر کہا جائے انٹر نیشنل ڈش تو شاید بے جا نہ ہوگا یعنی سوئیاں بنائی سب نے مل کر کھایا اور اپنے ملک کی یاد تازہ ہو گئی کہ کس طرح گھر میں ہم اپنوں کے ساتھ کرتے اور کتنا مزہ کرتے خیر سوئیاں کھا کر طے پایا کہ گیارہ بجے کھانا بنایا جائے گا اور تیاری پلاؤ پکانے کی تھی سب اپنے روم میں گئے اور تھوڑی دیر آرام کی غرض سے سو گئے پھر کیا تھا سارا پلاؤ بس خیال میں ہی پک گیا اور حقیقت سے اوجھل گیا یعنی سیدھے ساڑھے تین بجے کے قریب بیدار ہوا.

مشن کھانا تیار کرنا :

پھر کیا تھا عید کا دن یونہی اپنا بوریا بستر لپیٹے چلنے کو تیار تھا، خوشی کا یہ دن الوداع کہنا ہی چاہتا تھا، اور ہم سے جدا ہونے کی طرف گامزن تھا بس بیدار ہونے کے بعد ہلکا کھانا (light lunch) لیا اور پھر عصر پڑھ کر اپنے مشن پر لگ گئے.

عصر پڑھے اور اپنے مشن کھانا تیار کرنا میں لگ گئے، جو ضروری اشیا تھی وہ تو عید کی رات ہی لے چکے تھے اس لیے کوئی دقت نہ تھی بس مشن میں جڑ گئے، ہم تین ساتھی تھے سب نے مل کر کام انجام دیے اور پھر جب کھانا تیار ہوا تو پھر کھانا کھایا (dinner) اور دن بھر کی کمی پوری کردی، یعنی جو ہم سب دن میں باتیں اور گپ شپ کرنے والے تھے یا ایک دوسرے کی کھنچائی کرنے والے تھے سب کی کسک پوری کر دی اور جی بھر کے ہنسی مذاق کیا اور پورا انجوائے کیا – اللہ ہمیں مزید خوشیوں سے نوازے آمین –

پھر دیر رات کو اپنی مجلس برخواست ہوئی اور اپنے اپنے غریب خانے میں خراماں خراماں واپس ہو گئے.

اس طرح ہوتی ہے پردیسی یعنی آپ کیا کر رہے ہیں، کس طرح دن گزرتا معلوم ہی نہیں پڑتا اور – الا ما شاء اللہ – کسی کو فکر ہی نہیں ہوتی کہ کون کیا کر رہا ہے بس سب کو اپنی اپنی پڑی ہوتی ہے( اور کیسے نہ ہو سبھی تو باہر ہیں اور سب کی اپنی اپنی حاجتیں ہوتی ہیں اور سب کی اپنی مجبوری ہوتی ہے) اور سب کو اپنی فکر ہوتی ہے، سب کے ہوتے ہوئے بھی انسان تنہائی محسوس کرتا ہے اور بھیڑ بھاڑ ہونے کے باوجود انسان اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے، اتنا سارا جشن ہونے کے باوجود ایک عجیب سی کمی کا احساس ہوتا ہے اور وہی کمی اور احساس سب پر غالب آ جاتی ہے اور سب پھیکا پڑ جاتا ہے.

ایسے موقع پر اپنے احباب، اعزاء، اقربا اور اہل خانہ کی بڑی شدت سے یاد آتی ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ اگر انسان اہل و عیال والا ہے گھر میں بیوی بچے والا ہے تو اس کی تو پھر بات ہی نہ کریں اسے تو لگتا ہوگا کہ کاش میرے پاس اپنا کوئی ہیلی-کاپٹر ہوتا اور بس اڑ کر گھر پہنچ جاتا اور گھر والوں سے مل لیتا اور یہ دوری ختم کر دیتا، سارے فاصلے دور کر دیتا اور گھر والوں کی خوشی میں چار چاند لگا دیتا لیکن بس یہ خیال ہی بن کر رہ جاتا ہے اور حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا.

خیر اس طرح ہوتی ہے پردیسی عید اس لیے اگر اجازت ہو اور مناسب ہو تو عید انسان کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ منانی چاہیے تاکہ پوری فراخ دلی سے اپنی خوشی سب کے ساتھ تبادلہ کر سکے اور مل کر ان خوشی کے لمحات ساتھ بتا سکے.

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر خوشی نصیب کرے اور ہر مشکل سے محفوظ رکھے آمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *