بھلا احساس ہمیں کیوں ہو؟

بھلااحساس ہمیں کیوں ہو!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ازقلم۔۔ فیض اکرم بشیرالدین

احباب “بعدنمازعیدالفطر”سےہی سوشل میڈیا انٹرنیٹ، وغیرہ پر ایک تحریر بڑےہی آب وتاب کے ساتھ پوسٹ ہورہی ہے اور میرے اس ناقص فہم نے ہرایک تحریرکے لب لباب سے یہی دوچیزیں سمجھاہےکہ ملک کے چپےچپے اور گوشے گوشےمیں عالموں کی اشدضرورت ہے ہرگاؤں اور محلےمیں ہرایک بستی میں ہی نہیں بلکہ ہرمسلم گھرانے میں ایک امام کاہونا نہایت ہی ضروری ہے تاکہ ملک میں جب بھی کوئ خطرات ابھرکرسامنےآئیں یاپھر کسی وجہ کرملک کے حالات بگڑجائیں اور مسجدیں بندہوجائیں اگرہمیں کھلےمیں عبادات سےروک دیا جائے پابندیاں عائدکردی جائے جماعت اور اجتماعیت پر لاک لگادیاجائے “غرض یہ کہ مسجدوں میں جانا بھیڑکاحصہ سمجھےجانےلگے آفات ومصیبت کا دور دورہ ہو “توایسے نامساعد حالات میں اہل خانہ سمیت کم ازکم فرض تواداکرلئے جائیں جمعےاور عیدکیلئے توبھٹکنانہ پڑے !

اور دوسری بات جو میں نےسمجھاہے وہ یہ کہ اپنے علماء کی جہاں تک ہوسکے قدر کی جائے انکی منزلت کو خوب سمجھا جائے میرامطلب یہ ہرگز نہیں کہ سب کی عزت کی جائے لیکن ہاں “جوقابل قدرہیں اور قابل تکریم بھی انکی عزت افزائی ہونی چاہئے اورساتھ ہی اپنی اولاد کارخ مدارس اسلامیہ کی طرف موڑاجائے تاکہ اسکے ذریعے مدارس ومکاتب کی چاہت لوگوں میں زندہ جاوید بن کر جگمگاتارہے،

لیکن دوستو! حیرت جتانےکی بات اب رقم کررہا ہوں کہ دنیاچڑھتےسورج کیطرح ترقی کی منازل کوزینہ بزینہ طےکررہی ہیں لیکن صدافسوس کہ لوگوں کی عقلیں ماتھے سے مفقود ہوتی جارہی ہیں ایسامعلوم ہوتاہے کہ عوام صرف عصری علوم میں الجھ کر اسکول اور کالج کا راستہ اپناتےجارہی ہیں دین وشریعت سے دور ایمانی حلاوت سے بیزار ہوتے جا رہے ہیں اس کا احساس ہمیں تب ہواجب ہم لاک ڈاؤن اور حکومتی رعب کی وجہ سے عیدکی نماز اپنے گھروں میں اداکرنے پر مجبور ہوئے اللہ اللہ لوگ اسی بات کولیکر سہمے ہوئے تھے کہ آخرہم عیدکی نماز کہاں اور کیسے ادا کریں کس امام کو لائیں وغیرہ

لیکن ایسے حالات میں بھی کچھ لوگ جواپنی عادات رذائل میں گِھرے ہوئے تھے جن کو نماز روزہ اور مسجدسے دور دور تک کاکوئ واسطہ نہیں تھا انہیں کسی بات کی افسوس اور بھلاغم کیونکر ہو ،انہیں کیا پتہ کہ مسجد نماز اور امام بھی کوئ چیز ہوتی ہے جب جہالت کایہ عالم ہو کہ سماج کےلوگ منبر و محراب کے ناموں سے نابلد اور بیزارہوتو پھر احساس کس بات کی میرےدوستو! یقیناً ایسے مسلمان پر تھو ہے ” جنہیں ان حالات میں بھی علماء کی اہمیت سمجھ میں نہ آئے ہوں اور نہ ہی جن کےدلوں میں علماء کےتئیں مقام جاگے ہوں

چہ جائےکہ علماء کی قدر” اب توعقل کی بتی جلاؤ اوراپنی اولاد کو مدارس سے جوڑو امام وخطیب بناؤ تاکہ کم سےکم تمہاری موت پر جنازے کی نماز پڑھا سکے اور دعائے خیر کرے۔

اللہ کےواسطے مولوی کی قدرکرو اور اپنی اولاد کو مدرسوں سے جوڑو ورنہ مسلمانوں “آج بغیر عید، تراویح، اور جمعہ کے ہو کل جنازےکی نماز کیلئے ترس جاؤگے کوئ نماز پڑھانے والا نہیں ملےگا سچ فرمایاہے دانشوروں نے کہ مولوی نہیں تو دین نہیں ایمان نہیں اعمال نہیں شادی نہیں مسلمانوں اب بھی ہوشمند ہو جاؤ ۔

کیوں کہ علماء کےتئیں حالات جتنابھی ناساز ہوجائیں لیکن علماء کاایک گروہ اپنافریضہ ہمیشہ اداکرتی رہے گی ،،،ان شاءللہ

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *