مدارس اسلامیہ قوم و ملت کی امانت ہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مدارس اسلامیہ قوم و ملت کی امانت ہیں

 

از. محمدضیاءالحق ندوی۔

 

ہم امت مسلمہ کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ مدارس اسلامیہ دین کے محفوظ قلعے ہیں،ان کی حفاظت و استقامت میں دین کا استحکام و استقامت مضمر ہے، مدارس اسلامیہ کا اصل مقصد کلمۃ اللہ کی سربلندی اور اس کی ترویج و اشاعت ہے، اور یہ مدارس دین کی صحیح دعوت اوراسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت اسی وقت کرسکتے ہیں جب تک یہ مکمل طور پر گندی سیاست سے آزاد اور خود مختار رہیں گے، اور ناظم و مہتمم صاحبان مدارس کو قوم و ملت کا سرمایہ سمجھیں گے،آج جب ہم اپنے سماج و سوسائٹی پر نظر ڈالتے ہیں تو معاملہ اس کے بر عکس نظرآتا ہے ،اکثر ناظم و مہتمم صاحبان مدارس اسلامیہ کو قوم وملت کا سرمایہ نہیں سمجھتے ہیں بلکہ اپنا موروثی جائداد سمجھتے ہیں،جس مدارس کے ناظم و مہتمم کی سوچ اتنی گھٹیا ہو وہاں دین کی صحیح اشاعت کیسے ہوگی، وہاں سے قوم و ملت کے سربراہ و قد آور علماء اور اعلائے کلمۃ اللہ کو بلند کرنے والے کیسے نکلیں گے.

مختصریہ کہ ابھی کچھ ایام قبل آپ کی نظروں سے تین مدرسے کا لیٹر پیڈ مع دستخط ناظم یا مہتمم مرور ہوا ہوگا جس میں انسانیت سوز حکم جاری کیا گیا وہ یہ کہ خون جگر سے سینچنے والے شب و روز ایک کر دینے والے اپنے دو چند اساتذہ کو نہایت ہی مسرور ہوکر سبکدوشی کا لیٹر تھما دیا گیا اور یہ تحریر کیا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مدرسہ مالی بحران کا شکار ہے اس وجہ سے مدرسہ آپ کو ڈپریشن سے بچانے کے لئے معزول کرتا ہے ، میں ایسے بےغیرت، انسانیت دشمن سے پوچھنا چاہتا ہوں جنہوں نے قوم وملت کے سرمایہ کو اپنے باپ دادے کی جاگیر سمجھ لیا ہے کیا وہ اساتذہ و منسوبین کو ڈپریشن سے بچارہے ہیں یامزید ڈپریشن میں مبتلا کررہے ہیں ؟ کیا مدرسین و منسوبین کو سبکدوش اور معزول کردینےسے مالی بحران اورمالی تنگی ختم ہوجائے گی؟

کیا ارباب مدارس و جماعات اساتذہ کو تنخواہ اپنے مال خاص سے ادا کر رہے تھے؟ نہیں ہرگز نہیں، دینی مدارس کے اخراجات زکاۃ ، عطیات، صدقات اور اوقاف وغیرہ کی آمدنی سے پورے ہوتے ہیں،جن کی حصولیابی کے لئے یہ بیچارے مظلوم اساتذہ ہی اپنے آرام عیش اور اہل خانہ کوچھوڑ کر چلچلاتی دھوپ ، موسلا دھار بارش اور کڑاکے کی سردی میں سفر کرتے ہیں اور دردر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں، اٹھنی چونی کے لئے جگہ جگہ پر نرم گرم کو سنتے ہیں پھر جاکر مدارس کے اخراجات پورے ہوتے ہیں یا کسی صاحب خیر کا تعاون ہوتا ہے،اور آپ ذمہ داران تو اپنےگھروں میں پیر پسار کر اپنی اہل و عیال، بال بچوں کے ساتھ آرام فرما رہے ہوتے ہیں، اے ناسمجھ انسانو ،اور قوم و ملت کے سرمایہ کو ترکہ سمجھنے والو! کیا ایسے حالات میں اساتذہ کو سبکدوشی کالیٹردینا ظلم نہیں ہے؟اور نونہالان کی زندگی کےساتھ کھلواڑ نہیں ہے؟ سبکدوشی کا لیٹر تھمانے سے پہلے کبھی آپ نے سوچا کہ اس سے اساتذہ اور طلباء پر ظلم ہوگا؟ اے عوام وخواص کے مابین انسانیت کا درس دینے والو اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والو ایسے کٹھن وقت میں آج آپ نے بھی انسانیت کا جنازہ نکال دیا

*قول میں رنگ عمل کہاں .* ….

کیاایسے ہی ادارہ سے انسانیت کاسبق ملےگا اور ایسے ہی کردار سے آپ کے درس پر عمل ہوگا؟اے قوم کے امین حد ہوگئ آپ کی ، آپ اور جہنم کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہے اب بھی تو ہوش کاناخن لیجئے اورغور کیجیے کہ ہم نے کیاکردیا،اور اپنے ان بے چارے اساتذہ جوآج سے پہلے خون جگر سے باغ کو سینچ رہے تھے،جنہیں آپ نے نہایت ڈھٹائی اور چابک دستی کےساتھ سبکدوشی کالیٹر تھمایا اور ان کے دلوں کومجروح کردیا انکی دل آزاری کیا ….یادر کھیئے! فرمان باری ہے” *ومکروا ومکراللہ واللہ خیر الماکرین* “آل عمران ٥٤

اے منصب نطامت و اہتمام پر فائز بزرگوار

اگرآپ اپنے اساتذہ سے کہتے کہ ادارہ ایک دو ماہ کی تنخواہ دینے سےقاصر ہے تو ضرور وہ بھی اس فیصلہ کومانتے اور سراہتے وہ بھی اپنے سینوں میں دل رکھتے ہیں اس لئے اب بھی وقت ہے انہیں منانے کی کوشش کیجیئے اپنی نادانی کااعتراف کیجیئے اوراس فیصلہ کوواپس لیجیے، اس کی فکر کیجئےکہ اگرحالات ایسے ہی رہیں گے تو تعلیم وتعلم کا کیا حل نکلے گا؟اور اللہ پر توکل کرتے رہیے اپنا کام آگے بڑھائیے ان شاءاللہ اللہ کی مدد و نصرت ایسی جگہ سے ضرور آئیگی جہاں آپ کا گمان بھی نہ ہوگا.

اللہ تبارک وتعالی ہم سبہوں کواس وبائی مرض سے محفوظ فرما اور ایسے ناظم ومہتمم کو صحیح سمجھ دے . آمین

*واللہ علی کل شئی قدیر*

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *