!!!!!انجام کار اجل آپہنچی

انجام کار اجل آپہنچی !!!

عالم فیضی

جمعہ کا دن تھا،گردوں پر شفق اپنے گہنے اتارنے میں منہمک تھا،آفتاب اپنی شعاعوں کے ساتھ نکلنے کے لیے تب و تاب تھا،اسی مابین میرے موبائل کا رنگ آواز دینے لگا،دیکھا تو پردہ اسکرین پر والدہ محترمہ کا کال مرتسم ہے،میں نے آناً فاناً فورا فون کیا،ادھر سے رندھی ہوئی آواز آئی،رقت انگیز حالت میں والدہ کہہ رہی تھیں، بیٹے اب دادی دنیا میں نہیں رہیں، بوقت فجر ان کی روح قفس عنصری کو پرواز ہوگئی،اس اندوہناک خبر نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا،دنیا میری آنکھوں میں تاریک ہوگئی اور میرے پاؤں تلے زمین سرکنے لگی،تشویش اس قدر تھی کہ میں نے تاب نہ لا کر پہلے پہل اس المناک خبر کو ماننے سے انکار کر دیا۔

 

ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟

ابھی شب ہی میں تو گفتگو ہوئی ہے؟

بیمار بھی نہیں تھیں؟

اور نہ ہی بیماری کا کوئی شائبہ تھا؟

الحمد للہ صحت مند بھی تھیں۔

 

ایسی کئی ساری باتیں میری نظروں کے سامنے ایستادہ تھیں،بالآخر مجھ سے رہا نہ گیا،سراسیمگی کی حالت میں دل نے خاموشی کا قفل توڑ دیا،چشم زدن چچا کے پاس کال لگایا،چچا نے اس واقعے کی تصدیق کی، کہ ہاں ابھی مجھے بھی اس حیرت آفریں خبر کی اطلاع ملی ہے۔ “کہ دادی کا انتقال ہوگیا ہے”،میں گھر سے نکل گیا ہوں اور بڑے بھیا کے گھر پر جارہا ہوں،وہاں سے کوئی بندوبست کرکے گھر لانے کی کوشش میں ہوں،جوں توں دار و دستہ اور پورے رشتہ داروں میں یہ غم انگیز خبر جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیل گئی،میرے گھر میں ایک ہی سال دو بار غموں کے پہاڑ ٹوٹے، ایک والد محترم کی جدائی اور اس کے سات ماہ بعد دادی کا انتقال۔

 

اس جانکاہ خبر کے سنتے ہی دادی کی خوش طبعی، سنجیدگی،قناعت پسندی،خوش اخلاقی و خوش گفتاری،متانت و سادگی اور محاسن کی ساری سرحدیں میری نظروں کے سامنے تہہ در تہہ وا ہوتے چلی جارہی تھی، ہمہ وقت پوتوں اور پوتیوں کی سیوا جتن میں لگی رہتی تھیں اور ان کے لیے اپنی جان نچھاور کردیا کرتی تھیں،بچوں،بچیوں پوتوں اور پوتیوں کے آڑی میں سدا آڑے آیا کرتی تھیں،ان سے رل مل کر ان کے چہرے پر شگفتگی چھا جاتی،اور پہاڑ جیسے غموں کو ہریالی میں تبدیل کرلیا کرتی تھیں،کسی کے لیے بھی بس اگلنے اور بس بونے سے احتراز کرتیں،گل ریزی ان کی خو میں بدرجہ اتم موجود تھی۔

 

اپنے پیچھے بچوں کے بچوں کے بچوں کو دیکھ کر فرط جذبات میں آکر مسرت سے لبریز ہو جایا کرتی تھیں،جب کبھی احفادوں کا ارتکاز ہوتا تو اس انبوہ کو دیکھ کر دادی کا دل باغ باغ ہوجاتا، سارے احفاد ان سے محبت بھری باتیں کرتے،جس سے دادی کی باچھیں کھل جاتیں۔اور دل میں مسرتوں کے گلاب کھلنے لگتے،جن کی بنا پر دل کا آنگن ہی نہیں بلکہ گھر کا آنگن بھی خوشیوں کا گیت گانے لگتا۔

 

دادی کو کبھی کبھی پر تکلف سفر بھی کرنا پڑتا ،کیونکہ بڑے ابو کا گھر ہم لوگوں سے کم و بیش ڈیڑھ دو کلو میٹر دور گنوریا چوراہے پر واقع تھا ،جب ان کی اور ان کے بچوں کی یاد ستاتی تو وہاں پہنچ جاتیں ،وہاں رہ کر جب دل کو سکون و سرور مل جاتا اور طبیعت اچاٹ ہوجاتی پھر گاؤں کا رخت سفر باندھ لیتیں اور دونوں بچوں کے پاس چلی آتیں۔

 

انتقال کی رات دادی بڑے ابو کے گھر پر آئی ہوئی تھیں،ساتھ میں میری دو بہنیں بھی تھیں،اسی شام میرے بڑے ماموں دادی سے ملاقات کے لیے گھر پر آئے ہوئے تھے،کیونکہ رشتے میں دادی سگی خالہ تھیں۔”اور میرے ماموں اپنی خالہ کو “موسی”(मौसी) کہہ کر پکارتے تھے،میرے ابو اور بڑے ابو چچا وغیرہ بھی میری نانی کو “موسی” (मौसी) ہی کہا کرتے تھے”۔ان سے گفت و شنید ہوئی۔

 

بعد مغرب میری بڑی بہن نے کال کیا کہ گھر پر امی کو بول دو کہ آج ہم لوگ نہیں آئیں گے،یہیں پر قیام کر لیں گے اور کل دادی کو ساتھ لے کر آ جائیں گے،اسی دوران میں نے بھی دادی سے گفتگو کی،دادی غم سے نڈھال تھیں،چمن کی کلی خزاں رسیدہ ہونے سے ماں کی ممتا پر غم کی آنچ اور بھی تیز ہوگئی تھی،وہ عالم اداسی میں سوچوں کی بھنور میں تلاطم سے نبرد آزما تھیں ،یادوں کی سمندر میں عارض کو گرم گرم آنسوؤں سے تر کر رہی تھیں،جواں سال بیٹے کی فرقت پر غلطاں و پیچاں رہا کرتی تھیں،بیٹے کی جدائی سے ان کا برا حال تھا،ذہن پر جدائی کا ایسا نقش مرتسم ہوگیا تھا جو مٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا،ہچکیوں کے ساتھ مجھ سے لب گویا ہوئیں،بابو مجھے بیٹے کی بہت یاد آرہی ہے،الجھن بہت ہے،میرا دل نہیں لگ رہا ہے،مجھے گھر پہنچا دو،میں نے کہا دادی تیرگی اجالے کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے،رات پاؤں پھیلا رہی ہے،آج یہیں پر قیام کریں، کل ان شاءاللہ دیدی کے ساتھ گھر کو چلی جانا۔

 

لیکن دادی کے الفاظ یہی تھے

مجھے میرے بابو کی بہت یاد آرہی ہے۔

میں بارہا دلاسہ دلاتا رہا لیکن دادی ہمہ وقت ابو ہی کو یاد کرتی رہیں۔

 

اور یاد کرنے کی بات ہی تھی کیونکہ دادا اور دادی کی آنکھوں کے سامنے جواں سال بیٹے(یعنی میرے والد محترم عبدالحکیم) کی جدائی کا ان لوگوں پر نہایت گہرا اثر پڑا تھا،دادا جان اپنی پیرانہ سالی اور بینائی کھو جانے کے باعث صبر اور دعاؤں کا سہارا لیتے رہے،راتوں کو اٹھ کر ذکر و اذکار کرتے اور ان کے لیے دعائے خیر کرتے،جب زیادہ یاد ستاتی تو اتنا کہتے کہ

اے اللہ! تو بہتر جانتا ہے کہ کون تیرے پاس پہلے آئے لیکن فرط محبت، میں یہ چاہتا ہوں کہ پہلے تیرے پاس میں آؤں اور بیٹے کو ابھی اور حیات دے دیا ہوتا،لیکن دادی کا معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا،وہ ہمہ وقت ان کی یادوں کے سایہ تلے کھوئی رہتیں،کسی سے ملاقات ہوتی تو انہیں کا ذکر خیر کرتیں،سدا ان کی یاد میں آنکھیں بھر آتیں،اور اپنے دل کے زخموں پر ٹانکے لگاتیں ،جس سے ماں کی ممتا تڑپ اٹھتی،دادی جان کے دل پر جدائی کا ایسا گہرا زخم لگا جو پوری زیست مندمل نہ ہوسکا ،انہیں رہ رہ کر جواں سال بیٹے کی یاد ستاتی،خلوت میں آنکھیں خشک ہوجاتیں اور جلوت میں ان کی نیک صفات بیان کرکے دل کو دلاسہ دلاتیں،میری بڑی بہن کی شادی کے بعد جب میں گھر سے حیدرآباد کے لیے رخت سفر باندھا تو بہت دور تلک مجھے پہنچانے آئیں،اس وقت بھی ان کی آنکھیں اشکبار تھیں، پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں ،مجھے دعائیں دے رہی تھیں اور زبان سے یہ کہہ رہی تھیں جاؤ بیٹے آرام سے رہنا،راستے میں اپنا خیال رکھنا،کسی کا دیا ہوا سامان مت لینا ،یہ کہتے جارہی تھیں اور آنکھیں اشکبار کرتے جارہی تھیں کہ میرے بیٹے(یعنی مجھ) پر اس صغر سنی میں بہت بڑا بوجھ پڑ گیا ہے،سلام کے بعد اپنے ہاتھ کو زنبیل میں ڈال کر پانچ روپئے کا سکہ نکالیں اور ازراہ محبت میرے ہاتھ میں تھما دیں،میں بھی دادی کا محبت بھرا تحفہ انکار کرنے سے قاصر رہا،اور اسے بطور محبت جیب میں رکھ لیا ،میرے حیدرآباد پہنچنے کے بعد وقتا فوقتاً گفتگو ہوتی رہی ہے ،ٹھیک پندرہ دنوں بعد ایک مرتبہ پھر گفتگو ہوئی،جب دادی بڑے والد کے گھر آئی ہوئی تھیں یہی میری ان سے آخری گفتگو ثابت ہوئی،لیکن جب والدہ کا فون آیا تو میں نے یہی کہا ابھی رات میں بعد مغرب دادی سے بات کیا ہوں اچانک یہ کیسے؟؟

 

والدہ نے کہا دادی ہمہ وقت ابو کو یاد کیا کرتی تھیں،ان کی جدائی کا ان پر گہرا اثر پڑا،رات انہیں کی یاد میں بے چین تھیں،اشک بہاتے اور انہیں یاد کرتے کرتے سوگئیں،اور یہی سونا ان کے زیست کا آخری دن ثابت ہوا،ابو کی یاد میں ان کی ممتا اس قدر تڑپ اٹھی کہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے جان جان آفریں کے حوالے کردیں۔

*انا للہ و انا الیہ راجعون*

 

اللہ دادی ماں کی قبر پر نور کی برکھا برسائے،ان کی لغزشوں کو درگزر فرمائے ،ماں بیٹے کو علیین میں جگہ عطا فرمائے اور ان کی آل و اولاد اور احفاد کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔

*آمین یا رب العالمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *