رمضان کے بعد ہماری عملی حالت (دوسری قسط

رمضان کے بعد ہماری عملی حالت   (دوسری قسط)

ابوعدنان محمد طیب بھواروی
جمعیۃ الدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات۔ المجمعہ ۔

اسلامی بھائیو!
ماہ رمضان کے بعد ایک مسلمان کا اللہ کے فرائض و واجبات کی پابندی کرنا اور نیکیوں پر گامزن رہنا اور اپنے اقوال وافعال کی اصلاح کرلینا یہ بہت بڑی دلیل ہےکہ اس نے رمضان سے کچھ حاصل کیا اورسیکھا ہے کیوں کہ رمضان ہماری روحانی تربیت کا ایک مدرسہ ہے ، رمضان پورے ایک مہینہ کا مکمل تدریبی وتربیتی کورس ہے، اور یہ اس کےاعمال خیر کےمقبول ہونے کی علامت اور پہچان ہے، ایک مومن کا عمل رمضان کے چلےجانے اوردوسرے مہینے کے شروع ہوجانے سے رک اور ختم نہیں ہوجاتا، بلکہ مومن کا عمل مرتے دم تک جاری رہتا ہے ، جیساکہ اللہ نے اس آیت میں فرمایا (وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ)  ایک مومن کے عمل کو صرف موت ہی ختم کرتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے( اذا مات الانسان انقطع عملہ ــ۔ ’’ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے ۔۔۔۔)
دینی بھائیو اورساتھیو!
اگرچہ رمضان کا روزہ ختم ہوگیا ہےمگرنفلی روزے رکھنا تو سال بھر ہمارے لئے مشروع ہے، (ومن العبادات المشروعۃ اتباع رمضان بصیام ست من شھر شوال و صیام الاثنین والخمیس والایام البیض وعاشوراء وعرفۃ وغیرھا) مشروع عبادات میں سے ہےکہ رمضان کے بعد ماہ شوال کے چھ روزے رکھے جائیں، ہر مسلمان کے لئے شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہے، شوال کے اس چھ روزہ رکھنے کی بڑی فضیلت آئی ہوئی ہے، اوراس کے رکھنے پر بڑا اجر وثواب بیان ہوا ہے ، صحیح مسلم کی حدیث ہے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ حدیث کے راوی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (من صام رمضان ثم اتبعہ ستا من شوال کان کصیام الدھر)’’ جس نے رمضان کا روزہ رکھا اس کے بعد شوال کا چھ روزہ رکھا تواس نے زمانہ بھر کا روزہ رکھا ” رمضان کا روزہ اور اس کے بعد شوال کا چھ روزہ یہ سال بھر روزہ رکھنے کے برابر ہے کیوں؟
اس لئے کہ (الحسنۃ بعشر امثالھا) ایک نیکی کاثواب دس گنا ہے ،اس کی مزیدوضاحت حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( صیام شھر رمضان بعشرۃ اشھر، وصیام ستۃ ایام بشھرین فذلک صیام سنۃ) (صحیح ابن خزیمۃ 3/298 سنن نسائی 2/ 166) ” رمضان کے ایک مہینہ کا روزہ دس مہینوں کے روزہ کے برابر ہے اور شوال کے چھ دن کا روزہ  (ستون یوما ) دو ماہ کے روزوں کے برابر ہے، اس طرح سے یہ پورے ایک سال کا روزہ رکھنا ہوا” اس طرح اگر کوئی مسلمان اپنی زندگی میں ہرسال رمضان آنے پر رمضان کے فرض روزے رکھے اس کے بعد پھر شوال کے چھ  (نفل)روزے رکھے تو کہا جائے گا کہ اس نے زمانہ بھر کا روزہ رکھا اس کے نامہ اعمال میں زمانہ بھر روزہ رکھنے کا اجر وثواب لکھا جائے گا۔
اللہ تعالی کتنا مشفق اورمہربان ہے اپنے بندوں پر کہ وہ بلا کسی تعب اور مشقت کے زمانہ بھر کے روزے کا ثواب آپ کے نامہ اعمال میں لکھ دیتا ہے، اس لئے شوال کے اس چھ روزہ رکھنے میں ہمیں جلدی کرنا چاہئے،شوال کےاس چھ روزے رکھنے میں جلدی کرنا مستحب ہے، کیوں کہ خیر کے کاموں میں ہمیں جلدی کرنا چاہئے،ویسے اس روزہ کو اس ماہ کے اخیر اور درمیان کے ایام تک موخر کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، سلف صالحین شوال کا چھ روزہ رکھنےمیں مبادرت کرتے تھے، امام شافعی رحمہ اللہ  شوال کے دوسرے اور تیسرے ہی دن سے روزہ رکھنا شروع کردیتےتھے۔
ان چھ دنوں کے روزے متواتر و مسلسل رکھنا زیادہ افضل ہے ،البتہ ان روزوں کا متفرق اورالگ الگ رکھنا بھی جائز ہے،البتہ جس کے ذمہ رمضان کے قضا روزے ہوں تو اسے چاہئے کہ وہ پہلے قضا روزے رکھے، اس کے بعد شوال کے یہ چھ روزے رکھے، کیوں کہ فرمان نبوی ہے (من صام رمضان ثم اتبعہ ستا من شوال) جس نے رمضان کا روزہ رکھا  پھر اس کے پیچھے شوال کا چھ  روزہ رکھا ۔۔۔ )تو جس کے ذمہ رمضان کے قضا روزے ہوں اس پر یہ حدیث صادق نہیں ہوگی کیوں کہ اس نے پورے رمضان کا روزہ نہیں رکھا ہے، ہاں اگروہ اس کی قضا سے بری ہوجائے، قضا دیدے ،پھر شوال کےچھ روزے رکھے، تو اسے بھی یہ اجر وثواب ملے گا، اسی طرح سوموار اور جمعرات کے روزے رکھے جائیں ،( کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  یصوم یوم الاثنین والخمیس ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کے روزے رکھا کرتے تھے ، اور آپ ان دنوں کا روزہ اس لئے رکھتے تھےکہ آپ نے خود فرمایا ہے کہ اس دن لوگوں کے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں (فاحب ان یرفع عملی وانا صائم، ) اس لئے میری یہ خواہش ہے کہ  جب میرا عمل اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا جارہا ہوتو میں روزے سے ہوں ”
اسی طرح ایام بیض ( تیرہویں ، چودھویں اور پندرہویں کا ) ، عاشوراء( نو اور دس محرم کا)اورعرفہ ۹( ذی الحجہ) وغیرہ کے روزے رکھے جائیں ۔  جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابوعدنان محمد طیب بھواروی
جمعیۃ الدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات۔ المجمعہ ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *