رمضان کے بعد ہماری عملی حالت (تیسری قسط

رمضان کے بعد ہماری عملی حالت ( تیسری قسط)

 

ابوعدنان محمد طیب بھواروی

جمعیۃ الدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات۔ المجمعہ ۔

 

اسلامی بھائیو!

اگرچہ رمضان کے جانے سے قیام رمضان تراویح کی نمازختم ہوگئ مگر قیام اللیل سال کی ہررات مشروع ہے،فرمان باری تعالی ہے (وکانوا قلیلا من اللیل ما یھجعون ،وبالاسحارھم یستغفرون ) (الذاریات 17) ” وہ رات میں تھوڑا سوتے تھے اور وقت صبح وہ استغفار کرتے تھے‘‘

اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے نیک بندوں کے اوصاف کو بیان کرتے ہوئے فرمایا وہ رات کو قیام اللیل تہجد کی نماز پرھتے ہیں، آپ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (کان النبی یقوم لیصلی حتی تتفطر قدماہ فقالت عائشۃ : لم تصنع ھذا یارسول اللہ وقد غفر اللہ لک ماتقدم من ذنبک وما تاخر قال افلا احب ان اکون عبدا شکورا ) ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بیدار ہوکر نماز پڑھتےرہتے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک متورم ہوجاتے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پوچھتیں اے اللہ کے رسول آپ ایسا کیوں کرتے ہیں جب کہ اللہ تعالی نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہوں کو معاف کردیا ہے؟ تو آپ فرماتے: کیا میں رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ”

کیا اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے بارے میں ہمیں یہ نہیں بتایا کہ کہ وہ ہروقت اپنے متقی اور محسن بندوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

کیا ہمارے رسول نے اللہ تعالی کے بارے میں ہمیں یہ نہیں بتایا کہ جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہتا ہے، تواللہ تعالی ہررات آسمان دنیا پر اترتا ہےاور اس کا یہ نزول اترنا حقیقی ہوتا ہے (کمایلیق بجلالہ وعظمتہ) جیسا اس کی جلال وعظمت کولائق ہے، پھر اللہ سبحانہ وتعالی فرماتا ہے(من یدعونی فاستجیب لہ، من یسالنی فاعطیہ من یستغفرنی فاغفرلہ)” کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے میں اس کی دعا قبول کروں ، کون ہے جو مجھ سے سوال کرے میں اسے عطاکردوں، کون ہے جومجھ سے مغفرت طلب کرے میں اسے بخش دوں ۔۔۔۔”

لیکن افسوس صد افسوس آج بیشتر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ رمضان ختم ہوتے ہی اپنی پہلی حالت پر لوٹ جاتے ہیں،عبادت میں جو کوتاہی اور سستی پہلے تھی وہی کوتاہی وسستی دوبارہ شروع کردیتے ہیں، اور اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ جماعت کے ساتھ فرائض وواجبات کو ترک کرنا شروع کردیتے ہیں جب کہ ایک مومن کی یہ شان نہیں ہونی چاہئیے ۔

قرون اولی کے مسلمان اپنے نبی کی اقتداء اور پیروی میں رمضان کے بعد بھی نیک کاموں پرمداومت وہمیشگی کرتے تھے ، وہ موسمی نمازی اور روزہ دار نہیں تھے ، البتہ نیکیوں کے موسم کو نیکیوں کے لمحات کو موقع اورغنیمت جانتے تھے، پھر ان موسموں میں عبادتوں کے لئے بہت زیادہ نشیط اور سرگرم ہوجایا کرتے تھے۔

قاسم بن محمد کہتے ہیں : (سئلت أم المؤمنين عائشة رضي الله عنها كيف كان عمل رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ هل كان يخص شيئاَ من الأيام فقالت ( كان عمله ديمة وأيكم يستطيع ما كان يعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم ) ” ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل کیسا تھا؟ کیا آپ دنوں میں سے کوئی دن (عمل کے لئے)خاص کرلیا کرتے تھے توآپ فرماتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں ہمیشگی ہواکرتی تھی ، اور تم میں سے کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہے ”(صحیح مسلم)

اسی لئے علماء نے انقطاع عمل یعنی عمل چھوڑدینے کو اس حدیث (لا تكن مثل فلان كان يقوم الليل فترك قيام الليل) ” فلاں شخص کی طرح مت بن جاؤ جو قیام اللیل کرتاتھا پھر اس نے چھوڑدیا” کو مستدل بناتے ہوئے مکروہ کہا ہے۔

اسلامی بھائیو!

آپ اپنی عبادات میں موسمی نہ بنیں، اللہ والے بنیں ،رمضانی نہ بنیں بلکہ طاعات اور نیکیوں پرمداومت وہمیشگی کرنے والا بنیں جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( أيها الناس أكلفوا من العمل ما تطيقون فإن الله لا يمل حتى تملوا ، وإن أحب الأعمال إلى الله ما دُوِم عليه وإن قل ) متفق عليه ” اپنی طاقت کے مطابق عمل کیا کرواس لئے کہ اللہ تعالی اجر دیتے ہوئے نہیں تھکتے جب کہ تم تھک جاؤگے اور اللہ کو وہ عمل سب سے زیادہ پسند ہے جس پر مداومت کیا جائے چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو”

گرچہ رمضان کا مہینہ ختم ہوچکا اور جاچکا جو فضائل وخوبیوں کا مہینہ تھا لیکن نیکیوں کے جو فضائل وخوبیاں ہیں وہ منقطع اور ختم نہیں ہوتے، جو رمضان کی عبادت کرتا تھا وہ سمجھ لے کہ رمضان گزرگیا اور جو اللہ کی عبادت کرتا تھا وہ سمجھ لے کہ اللہ تعالی زندہ ہے اسے موت نہیں آئے گی۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکیوں پر مداومت وہمیشگی کرنے والا بنائے اور پناہ مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں اس عورت کی طرح نہ بنائے جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈالا ۔

ابوعدنان محمد طیب بھواروی

جمعیۃ الدعوۃ والارشاد وتوعیۃ الجالیات۔ المجمعہ ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *