استغفار، دنیاوی مصائب سے نجات کا بہترین ذریعہ ہے

 

استغفار، دنیاوی مصائب سے نجات کا بہترین ذریعہ ہے

 

از:محمدضیاءالحق ندوی

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

استغفار ایک ایساعمل ہے جس پر اللہ جل شانہ کا وعدہ ہےکہ امت استغفار کےذریعے عذاب سے محفوظ رہے گی،آج ہم مسلمان جو طرح طرح کے عذاب کے شکار ہیں ،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اللہ جل شانہ سےصدق دل سے استغفارنہیں کرتے،استغفار کیا ہے؟استغفار لغت میں مغفرت طلب کرنے کو کہتے ہیں، یعنی جب انسان سے اللہ جل شانہ کی نافرمانی ہوجائےاور انسان اس نافرمانی پر نادم و پشیمان ہو کہ میں نے اپنے رب جل جلالہ کی نافرمانی کی ہے اور پھر اللہ جل شانہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگے تو شریعت میں اس کو استغفار کہتے ہیں. قرآن و احادیث میں استغفار کی بڑی اہمیت ہے چنانچہ اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے “اوراللہ ایسانہیں ہےکہ ان کواس حالت میں عذاب دےجب تم ان کے درمیان موجود ہو،اوراللہ اس حالت میں بھی ان کو عذاب دینےوالانہیں جب وہ استغفارکرتے ہوں” الانفال ٣٣

آیت کریمہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ نزول عذاب سے دو چیز مانع ہیں، ایک پیغمبر کا موجود ہونا اور دوسری استغفار کرتے رہنا، پہلی چیز تو اٹھالی گئ اور دوسری چیز باقی ہے لہذا استغفار سے اپنے طرزعمل کی اصلاح کرنی چاہیئے کیونکہ انسان گناہوں و عصیان کا پتلا ہے ،کیونکہ ہمہ وقت گناہوں سے پاک رہنا فرشتوں کی صفت ہے،ہمیشہ گناہوں میں مستغرق رہنا شیطان کی عادت وخصلت ہے،اور گناہوں پر نادم وپشیمان ہو کر توبہ واستغفارکرنا اور معصیت کی راہ ترک کرکے شاہراہ ہدایت میں قدم رکھنا اولاد آدم کا خاصہ ہے،انسان سے کوئی لغزش اورگناہ سرزد ہو یا نہ ہو پھربھی کثرت سے استغفار کرتے رہنا چاہیے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ” خداکی قسم میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کرتاہوں”صحیح بخاری کتاب الدعوات. رقم الحدیث ٦٣٠٧

استغفار دنیاوی مصائب و آلام سے نجات کا بہترین ذریعہ ہے،دنیا میں انسان بسااوقات مالی بحران کا شکار ہوتاہے،توکبھی کسی اور بیماریوں سےدوچار ہوتا ہے،آج پورا ملک بد امنی کا شکار ہے،کسی کی جان ومال محفوظ نہیں، عذاب خداوندی کبھی قتل وغارت گری کی صورت میں ظاہرہوتاہے، کبھی سیلاب اور کبھی زلزلوں کی صورت میں تو کبھی قحط کی صورت میں،اوراس عذاب خداوندی کے سدباب کی ہر ناکام کوشش کی جاتی ہے،لیکن اپنے بداعمالیوں کی طرف کوئی نہیں جھانکتاہے کہ ہم نےاللہ کو ناراض کیا جس کی وجہ سے یہ عذاب آیا ہے،ایسے وقت میں یہ سبق دیا گیا ہےکہ انسان اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کر کے گناہوں سے باز آ جائے، اور دنیا میں پیش آنے والی مصیبتوں کے وقت اپنےگناہوں سے توبہ واستغفار کرے ،اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرے دنیامیں جو مصیبتیں آتی ہیں یہ من جانب اللہ ہوتی ہیں ارشاد باری ہے ” اور اس بڑےعذاب سے پہلے بھی ہم انہیں کم درجے کے عذاب کامزہ بھی ضرور چکھائیں گے شاید یہ باز آجائیں ” السجدہ ٢١

مولانارومی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

ہرچہ برتوآیدازظلمات غم

غم چوں بینی زوداستغفارکن

آن زیباکی وگستاخی است ہم

غم بامرخالق آیدکارکن.

ترجمہ :اے انسان جو کچھ تم پر مصائب وآفات اور ظلمات غم آتے ہیں وہ تیری بیباکی،نافرمانی اور گستاخی کی وجہ سے آتے ہیں ،لہذا جب تم غم اور مصائب وآلام دیکھو تو توبہ و استغفار کرو کیونکہ غم ظلمات اور آفات ومصائب اللہ جل شانہ کےحکم سے آتاہے.استغفار کے ذریعہ اللہ جل شانہ رنج وغم دور فرما دیتے ہیں اور رزق میں برکت عطافرماتے ہیں، ارشادباری ہے”چنانچہ میں نے کہا کہ: اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو، یقین جانو وہ بہت بخشنے والا ہے، وہ تم پر آسمان سےخوب بارشیں برسائےگا، اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دےگا ،اورتمہارےلئے باغات پیداکرےگا،اور تمہاری خاطرنہریں مہیا کردےگا. “نوح١٠تا١٢ ” حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:من لزم الاستغفار جعل اللہ لہ من کل ھم فرجا،ومن كل ضيق مخرجا،ورزقه من حيث لا يحتسب”ابن ماجه كتاب الأدب. رقم الحدیث ٣٨١٩

جواستغفارکواپنے اوپر لازم کرلیتاہے تواللہ جل شانہ اس کوہررنج وغم سےنجات دیتاہے ،اور اس کےلئے ہرتنگی سےنکلنے کی راہ نکال دیتاہے،اوراس کوایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جس کا وہ گمان بھی نہیں کرسکتاہے”یاد رکھیئے! جہاں استغفار کےفوائد وثمرات بے شمارہیں ،گناہ بخش دیئےجاتےہیں، بلائیں اور مصبیتں ٹال دی جاتی ہیں اور رزق میں برکت عطا کردی جاتی ہیں تووہیں استغفارکے وقت چند باتوں کاخیال رکھنا بھی ضروری یےوہ یہ کہ بوقت استغفار اللہ جل شانہ کوقادر مطلق سمجھیں اور اس کی طرف صدق دل سے عاجزی وانکساری کےساتھ رجوع کریں اور خشوع وخضوع کے ساتھ اللہ جل شانہ کے احکامات کوسمجھیں اور اس پر عمل پیراہوں.

اللہ تبارک وتعالی ہمیں خوب خوب استغفار کی توفیق نصیب فرما. *آمین*

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *