ہم عرب نہیں کہ قتل پر خاموش رہیں

 

ہم عرب نہیں کہ قتل پر خاموش رہیں

 

از قلم: محمد طاسین ندوی

 

باسمہ تعالی

اعتماد و یقین کو دنیا کہ ہر میدان و محاذ پر کلید کی حیثیت حاصل ہے اگر اعتماد کا فقدان ہوجائے تو بدظنی،کدورت،نفرت، فریب، درشت کلامی، دھوکااور اس قبیل کے بے شمار چیزیں جنم لیتی ہیں ابھی حالیہ واقعہ ایک سیاہ فام امریکہ جارج فلائیڈ کی موت کاہے جس نے پورے امریکہ میں کہرام مچایا ہوا ہے یہ محض اعتبار و اعتماد کا مجروح ہونا ہی تھا دوکاندار اور مرنے والے کے مابین مسئلہ بیس ڈالر کا تھا کہ آیا یہ اصلی ہے یا جعلی بیس ڈالر نےامریکہ کے چھکے چھڑادیے ہیں ہر طرف احتجاج و مظاہرہ (protest )کا بازار گرم ہے پچاس سے زیادہ شھروں کے کام کاج بالکل ہی ٹھپ پڑے ہیں سیاہ و سفید فام عنصریت و قومیت پر نبرد آزما ہیں صدر امریکہ کی ادنی سی چوک نے امریکی ایوان کو متزلزل کررکھا ہے ٹرمپ جو فرعون وقت ہے اسکی ہوا نکلی جارہی ہے نیشنل گارڈ،خصوصی افواج و دستے اس سیل رواں کے سامنے کچھ کام آنے والے نہیں، احتجاج ہے کہ تھمنے والا نہیں مظاہرہ ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتا ، یہ ہے قبائلی غیرت و حمیت کی مثال اور ہم ہیں کہ خیر امت کہلاتے ہیں ہمارے برادران اسلام کے ساتھ کیسے کیسے نازیبا و ناروا سلوک کیے جارہے ہیں اذیت ناک سزائیں دی جارہی ہیں گاجر و مولی کی طرح کند چھریاں چلائی جارہی ہیں۔

ہم ہیں کہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے داد عیش دے رہے ہیں سوچنے کی بھی طاقت و قوت ختم ہوتی جارہی ہے چہ جائیکہ ہم شانہ بشانہ قدم سے قدم ملا کر چلیں اپنے برادران کے لئے؟

قارئین کرام! قابل شرم بات یہ کہ امریکہ جو سپر پاور ہے وہاں احتجاج کرنے والے یہ نعرۂ مستانہ بلند کرتے نظر آتے ہیں کہ *ہم عرب نہیں کہ قتل پر خاموش رہیں *We are not ARABS to kill us and keep silent یہ جملہ بظاہر ایک چھوٹا جملہ ہے لیکن بہت ہی پر مغز ومعنی خیز اور ہمیں (امت مسلمہ) یہ دعوت فکر دے رہا ہیکہ اگر اب بھی تم خواب خرگوش میں رہے اور جاگ نہ سکے تو وہ دن دور نہیں کی غیرت و حمیت کےخاتمے کے ساتھ ساتھ تمہارا وجود بھی خطرے سے باہر نہیں، ابھی تو تم سوالیہ نشان بنے ہو، یہ بات کس حد تک درست ہے؟ چلیں عالمی منظر نامہ پر توجہ مبذول کرتے ہیں ..

دین اسلام کے علمبردار ذات باری تعالی کے بارگاہ سب سے معزز و محترم اسوقت ہیں جب دین اسلام کے مدون اصول و ضوابط، آئین و قوانین کی پاسداری کرنے والے ہوں اگر اس ڈگڑ سے منحرف ہوگئے تو پھر فرمان باری تعالی “ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس ” بحر و بر میں بگاڑ تمہارے کرتوت کے نتائج ہیں . بالکلیہ صادق و فٹ آتا نظر آئیگا اسوقت دنیائے فانی میں جہاں بھی ہم رہتے بستے ہیں وہاں پسپائی،ذلت، حقارت، ہمارا مقدر اس لئے بنا ہیکہ ہم نے فرامین الہی، ھدایات مصطفوی کو سینت سینت کر کے کسی صندوق کی نذر کردیا ہے اب بھی وقت ہے اگر ہم عقل کا ناخن لیں اور لوٹیں اپنے اس مراجع و مصادر کی طرف تو کوئی بندہ خدا دم خم نہیں رکھتا کہ ہمیں مغلوب کرسکے کیوں کہ ہم ہی تو ایسے دین کے پیرو کار ہیں ۔ ہمارے کرتوت ہمیں سر اٹھا کرجینے نہیں دے رہےہیں اسوجہ سے ہم دنیا میں بھٹکتے پھر رہے ہیں کہیں ہمارا کوئی مستقر نہیں ہے.

اللہ تعالی سے دست بستہ دعاگوہوں کہ اللہ ہمیں دین اسلام کی صحیح فہم نصیب کرے تاکہ عوام الناس ہمیں دیکھ کر دین اسلام کو گلے لگائیں اور دنیا و آخرت دونوں جہان میں ہمیں سرفرازی وسربلندی میسر ہو. وماتوفیقی الا باللہ .

ــــ ـــــــ ــــــــ ــــــــ ـــــــ ـــــ ــــ ــ

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *