اے خدا دنیا میں تیری کیسے ہم رہ پائیں گے

اے خدا دنیا میں تیری کیسے ہم‌ رہ پائیں گے !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج پوری دنیا اک مہلک بیماری کرونا سے جوجھ رہی ہے ۔اور ابھی تک کو ئی دوا بن کر سامنے نہیں آئی ہے جو بیمار کو بیماری کی قید سے آزاد کرادیا ہو ۔بڑے سے بڑے ماہرین ۔سائنسداں ۔ دانشوران انکے سامنے گھٹنے ٹیک نے پر مجبور و مقہور ہیں ۔ اور اس بیماری سے بچنے اور اس سے نپٹنے کے لئے اک ہی طریقہ اور وطیرہ بچ گیا ہیکہ آپ اپنے گھروں کو لازم پکڑلیں اور‌ اک دوسرے سے ملنے جلنے سے اجتناب کریں ۔ محفلوں ،بازاروں ، چوراہوں پر اکھٹا ہونے سے بچیں ۔تبھی جاکر مامون رہ سکتے ہیں اور صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کریں ورنہ آپ مزید برآں اس مہلک مرض کے لپیٹ میں آکر اسکے شکار ہوسکتے ہیں ۔ اگر ارد گرد کا ماحول گندگی سے پاک نہ رہا تو بیماری کا آنا اور جسم میں سرایت کرنے کا اندیشہ زیادہ ہے ۔اسی لیۓ جو احتیاطی تدابیر ہیں انہیں ہماری ذمہ داری ہیکہ فالو کریں ورنہ پریشانی سر چڑھ کر بولے گی اور اس خطرناک بیماری کے شکار ہوکر جوجھیں گے۔۔ ربا بچاۓ ۔

دوستو جہاں تک اس مہلک بیماری کو لیکر عالمی سطح پر بے چینی اور پریشانی اور اضطراری کا اک سنگین ماحول بپا ہے وہیں ملک عزیز میں بھوک مری جیسی کہانیاں ہیں پریشانیاں ہیں شاید اس بیماری سے جتنا خوفزدہ نہیں اتنا بھوک کو لیکر خوف و ہراس کا ماحول بنا ہوا ہے۔۔ بھوک و پیاس کی‌ایسی شدت سامنے ابھر کر آ رہی ہے جسے دیکھ کر دل رنجیدہ ہے غریب طبقے کے مزدور اتنے مجبور ہیں جنکی روداد سن کر پڑھ کر آنکھیں بھر آتی ہہیں دل غمزدہ اور نمدیدہ ۔رنجیدہ و لرزیدہ ہو جاتا ہے ۔ ابھی بھی سماج و معاشرہ میں کچھ ایسے غیر ت مند افراد ہیں جو جان و مال سے امداد کر رہے ہیں۔ جس گودام کو ان مزدوروں نے محنتوں و مشقتوں سے بھرا اسی گودام سے مزدور مایوس ہوکر لوٹ رہے ہیں ۔ ان کی درد و دکھ سمجھنے والا کوئی بھی نہیں۔ یہ مزدور کہتے ہیں کو ئی راشن بھی دیتا ہے تو فوٹو کھینچتا ہے ۔ جو میرے لئےذلت آمیز تصاویر ہوا کرتی ہیں ۔ کنتے خوددار مزدور ہیں جو اپنی مجبوریاں تک دوسروں کے سامنے بیان نہیں کر پاتے ہیں ۔

ہمارا فریضہ ہے کہ ہم ان کے درد میں شامل ہوں انکی پریشانی کو حل کریں مزدور غریب طبقے کے بچے بھوک سے تڑپ تڑپ کر جان گنوا بیٹھے ہیں ۔اک اک نوالے کے لئے بے بس و بے کس ہیں انکی زندگی کی ساری رعنائیاں تباہ و برباد ہوگئی ۔انکی ساری خوشیاں قفس میں قید ہوگئی انکی ساری محنتوں کو بھلا دیا گیا۔ انہیں حقیر و کمتر سمجھا جانے لگا ۔نادانوں یہ مزدور آج اتنے مجبور ہیں ذرا سوچو ! ۔تیری عالیشان عمارتیں بنایا تو اس میں آسائش و آرام فرما رہاہے ۔لکین احساس ذرا بھی نہیں

۔یہ سچ ہیکہ

کورونا وائرس کی وجہ کر بازار یں مارکیٹس اور کاروبار تھم گئی ہیں ۔ہم درد بن کر آگے بڑھیں اور مزدووں کی مدد کریں ۔

آج سڑکوں پر جس قدر افراتفری کا ماحول بنا ہوا ہے ۔جس طرف نظریں اٹھائ جاۓ ۔ وہ تصویر دیکھائی دے گی ۔ بھوک سے تڑپتے معصوم چہروں کی ۔ بلکتے بچوں کی ۔روتی ماؤں کی بہنوں کی بیٹوں کی بوڑھے والدین کی ٹھیلے چلاتے ہوئے مزدورں کے اور ہاتھ میں چھالے پڑے ہوۓ کی ۔ تصویر ایڑیوں کی پھٹ جانے کی ۔ جل جانے کی ۔ مر جانے کی۔ صاحب کو ئی گر آج مدد بھی کرتا تو کچھ لیڈر کو اس میں سیاست نظر آتی ہے

صاحب سیاست کا عینک اتارئیے اور اسے پھینک ڈالئیے

آج غریب مزدور کی حالت زار کو دیکھیۓ ! انہیں کیا اپنی فیملی سے ایثار نہیں محبت نہیں انسیت نہیں ۔ محبت و مؤدت ہے پیار ہے ۔صاحب آپکی طرح بھی انکا پریوار ہے ۔ماں ہے ۔باپ ہے ۔ بیٹاہے ۔بیٹی ہے ۔بیوی ہے ۔رشتہ دار ہے قرابت دار ہے ۔ اس میں کو ئی شبہ و مخفی و محجوب نہیں کے کورنا وائرس یہ بہت بڑی آفت لے کر آیا ہے ۔ لیکن ہم موجودہ حکومت سے کہیں گے جس طرح آپکی پریوار ہے اسی طرح سمجھتے ہوئے انکی ہر ممکن مدد کریں انہیں سہولیات فراہم کریں ۔

غریب مزدور کے بچے کو دیکھکر دل لہو لہو ہوجاتا ہے اک غیرت مند فرد مزدور بےبس بچے کی تصاویر کو دیکھ کر کانپ اٹھے گا پیروں تلے کے زمین کھسک جائیں گے مضطرب کے شکار ہوجائیں گے واقعی میں دل دہل جاۓ گا آنکھیں اشکوں سے نم ہو جائیں گی اور کہے گا خدارا غریب مزدور کی بے بسی اور انکی بے کسی پر اک طائرانہ نظر دوڑائی جائے انکی حالات و واقعات دریا فت کیۓ جائیں ۔ انکی درد دکھ میں شریک ہو انکی مدد کی جائے ۔ ان کے لئے کھانے پینے کے سامان مہیا کیا جائے تب جاکر سکون و اطمینان کی سانسیں غریب مزدور لے سکیں گے نہیں تو مزید جانیں جاتی رہیں گی انکے لیۓ کو حل نکالا جائے تا کہ غریب مزدور کے پریوار بھی خوشیاں منائیں مسرت و اپنائیت کا مظاہرہ کرسکے ۔۔ ا ور ہماری اک ذمہ داری ہے ہم درد بن کر آگے بڑھیں اور انکی مدد کریں ۔۔

مزدور کے بچے اور مزدور اپنی آہ و فغاں سناتے رب سے سے کہتے ہیں ۔بھوک کی شدت تڑپا رہی ہے ۔ اک نوالے کے لئے۔ جانیں میرے بچوں کی جارہی ہے۔ انکی درد بھری آواز یہ ہے

اے خدا دنیا میں تیری کیسے ہم رہ پائیں گے

وائرس سے بچ گۓ تو بھو ک سے مر جائیں گے

 

طالب دعا /

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *