اگر “ماں” تقدیر اور قسمت لکھتی

  • اگر “ماں” تقدیر اور قسمت لکھتی

 

————————————————-

 

قارئین کرام : کچھ لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ اگر میری قسمت اور تقدیر میری ” ماں ” لکھتی تو مجھے زندگی میں کبھی غم اور مصیبت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔

وہ اس وجہ سے کہ ” ماں ” اپنی اولاد سے بے انتہا محبت کرتی ہے اور وہ کبھی نہیں چاہتی کہ اس کی اولاد کو غم، پریشانی اور مصیبت چھو کر بھی گزرے ۔

یہ حقیقت ہے کہ ” ماں ” اپنی اولاد سے بے انتہا محبت کرتی ہے، مگر انسان شاید اس بات سے ناواقف ہے کہ ” ماں ” کے دل میں اولاد کے تئیں محبت ڈالی کس ذات نے؟؟!!

اور اس سے زیادہ اس بات سے ناواقف ہے کہ ہماری تقدیر لکھنے والا رب العالمین ہمارے لئے کس قدر رحیم ہے؟؟؟ ۔

 

چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”  جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ، فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ جُزْءًا، وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا، فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ، حَتَّى تَرْفَعَ الْفَرَسُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا ؛ خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ “.(صحيح البخاري | كِتَابٌ : الْأَدَبُ | بَابٌ : جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ : 6000).

” اللہ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور اپنے پاس ان میں سے ننانوے حصے رکھے صرف ایک حصہ زمین پر اتارا اور اسی کی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے، یہاں تک کہ گھوڑی بھی اپنے بچہ کو اپنے سم نہیں لگنے دیتی بلکہ سموں کو اٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس سے اس کے بچہ کو تکلیف نہ پہنچے “.

 

نيز سنن ابن ماجہ کے الفاظ میں ہے : ” إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ، قَسَمَ مِنْهَا رَحْمَةً بَيْنَ جَمِيعِ الْخَلَائِقِ، فَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ، وَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى أَوْلَادِهَا، وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً، يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ “.( كِتَابُ الزُّهْدِ | بَابٌ : مَا يُرْجَى مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : 4293).

” اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت کو تمام مخلوقات کے درمیان تقسیم کر دیا ہے، اسی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت کرتے ہیں، اور اسی وجہ سے وحشی جانور اپنی اولاد پر رحم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں محفوظ کر رکھی ہیں، ان کے ذریعے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم کرے گا “.

 

جبکہ صحیح مسلم کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں : ” إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ، أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، وَالْبَهَائِمِ وَالْهَوَامِّ، فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ، وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا، وَأَخَّرَ اللَّهُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ رَحْمَةً، يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ “.( صحيح مسلم /كِتَابٌ : التَّوْبَةُ | بَابٌ : فِي سَعَةِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى : 2752).

” اللہ تعالی کے پاس رحمت کے سو حصے ہیں اللہ نے اس میں ایک حصہ جنوں ،انسانوں اور کیڑوں مکوڑوں میں اتارا اسی وجہ سے وہ آپس میں ایک دوسرے سے نرمی اور رحم کا معاملہ کرتے ہیں اور اسی وجہ سے جانور اپنے بچے پر رحم کھاتا ہے اور ننانوے حصہ اللہ نے بچا رکھا ہے جس کے ذریعے قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا “.

 

ان احادیث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ “ماں” کی رحمت اللہ ” ارحم الراحمین ” کی رحمت کے سامنے ایک فیصد بھی نہیں ہے ۔

کیونکہ اللہ نے اپنی رحمت میں سے ننانوے حصے اپنے پاس رکھے ہیں اور صرف ایک حصہ اپنی تمام تر مخلوق میں بانٹا ہے ۔ اور اللہ کی مخلوق میں اربوں کھربوں سے زیادہ مائیں ہیں ۔

اب آپ دیکھیں کہ جب اللہ کی محض ایک رحمت کی وجہ سے اربوں کھربوں مائیں اپنی اولاد سے اس قدر محبت کرتی ہیں کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے حتی کہ وہ اپنی اولاد کے لئے جان تک قربان کر دینے کو تیار رہتی ہیں ۔

تو پھر اس حساب سے اللہ کی رحمت کی وسعت کا اندازہ کرنا تو انسانی عقل کی حدود ہی سے خارج ہے ۔

لھذا کوئی اس غلط فہمی میں قطعا نہ رہے کہ ” ماں ” اپنی اولاد سے بہت زیادہ محبت کرتی ہے اس لئے اگر اس کو تقدیر لکھنے کا اختیار دیا جاتا تو اس کی اولاد کبھی غم مصیبت اور پریشانی کا سامنا ہی نہیں کرتی ۔

کیونکہ ماں کی محبت رب العالمین کی محض ایک رحمت کا مظہر ہے جبکہ اس کے پاس نناوے رحمت ہے لھذا وہ زیادہ اپنے بندے پر رحم کر سکتا ہے یا ایک ماں جس کے پاس صرف ایک رحمت کا ادنی سا حصہ ہے؟؟؟!!! ۔

 

ازقلم : حسان عبد الغفار ۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *