ایک پیغام اہلِ مدارس کے نام

ایک پیغام اہل مدارس کے نام

عبد الرشید تیمی

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

 

چنو پیدائشی اعتبار سے صحیح سالم اور ذہنی طور پر کافی تیز لڑکا تھا، اس کی پیدائش 1/1/ 1997 ء کو پسماندہ علاقے کے ایک گم نام گاوں راجندر نگر میں ہوئی تھی ، وہ اپنے والدین کا پہلا لڑکا تھا جس کی وجہ سے اس کے والد محترم نے پرورش و پرداخت اور تعلیم و تربیت پر نسبتا کچھ زیادہ ہی توجہ دی، ہمہ وقت اس کی زندگی کو لے کر فکر مند رہتے اور ایک تابناک مستقبل کے لئے دعائیں کرتے ،چناں چہ جیسے ہی یہ لاڈلہ بچہ شیر خواری کی عمر کو عبور کر کے پانچ سے چھ سال کا ہوا تو اس کے والد محترم اپنے ہی آبائی گاوں کےایک مکتب میں ابتدائی تعلیم کے لئے داخلہ دلا دیا ، جہاں اس نے دین کی بنیادی معلومات حاصل کی اور ذہنی اعتبار سے بھی اس لائق ہوگیا کہ ایک بڑی اسلامی یونیورسیٹی کی طرف رخ کرے، چوں کہ چنو پڑھنے لکھنے میں کافی ذہین تھا،اور اس کی دلی خواہش بھی تھی کہ اپنی علمی لیاقت اور قلمی طاقت سے سماج کی بہتری اور قوم کی رہبری کا فریضہ انجام دے ، چوں کہ والد محترم ایک کسان آدمی تھے اس لئے اقتصادی اعتبار سے کچھ زیادہ مضبوط نہیں تھے، پھر بھی اپنے بیٹے کی خواہش اور اس کی ترقی کے اڑان کو دیکھتے ہوئے اپنی تنگ حالی کے باوجود بیٹے کا ملک کی ایک مشہور اسلامی یونیور سیٹی میں متوسطہ کے کلاسوں میں داخلہ کروایا ، اب چنو اپنے علاقے میں ایک اچھے طالب علم کےطور پہ جانا جانے لگا، اس لئے وہ جہد مسلسل اور عزمِ مصمم کے ساتھ اپنے مشن میں منہمک ہو گیا، گزرتے وقت کے ساتھ کلاس میں اچھے نمبرات کے ساتھ کامیاب ہوتا رہا، اس کی کامیابی کو دیکھ کر اقربا کے ساتھ ساتھ علاقے میں موجود زندگی بسر کرنے والے لوگوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا، وقت کے ان سنہرے ایام کو علم و عمل کا بے لوث خادم بن کر گزارتا رہا، اور یہ امید پختہ ہوتی چلی گئی کہ اب سند فراغت نصیب ہو گی، اور قوم کی خدمت کرےگا،لیکن اللہ کے منشا اور علم کو کون جانتا تھا؟ کہ وہی لڑکا فراغت کے بعد کیا قوم کی خدمت کرےگا یا سماج کے لیے ایک نا امیدی کا سبب بن جائے گا ، ہوتا یوں ہے کہ فراغت کی مناسبت سے وہ اپنے امیر خانے پہ اپنے ہم درس دوست واحباب کو ظہرانہ پہ مدعو کرتا ہے، اور ذمہ داران جامعہ کو جیسے ہی یہ خبر ملتی ہے کہ وہ ہونہار طالب پل بھر میں ایک مجرم قرار پاتا ہے اور برسوں کی اعلی اخلاقی کامیابی ناکامی میں تبدیل ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ اخلاقی سبجکٹ میں ناکام قرار دیاجاتا ہے ،جس سے وہ ذہنی طور پر کافی متاثر ہوتا ہے اور اپنے سنہرے خواب و روشن مستقبل کو بھولنے لگتا ہے، اور برسوں کی محنت پل بھر میں آنکھوں کے سامنے برباد دیکھتے ہوئے نامراد ہو جاتا ہے ،اس کے باوجود بہت سے مدارس وجامعات میں یہیں سب دیکھنے اور پڑھنے کو ملتا ہے، چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو ایک بنیاد بناکر اس کی خوب صورت مستقبل کے ساتھ ایک کھیل کھیلا جاتا ہے,کہیں ایک ہاسٹل نگراں کی معمولی شکایت اس طالب کے اخراج کا باعث بن جاتی ہے، تو کہیں طلبہ کی باہمی نا اتفاقیاں ، اور پھر یہی سے ایک طالب علم کی بربادی کا دور شروع ہوجاتا ہے، اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اس جانب خصوصی توجہ دیں۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *