علامہ اسرار جامعی ! نہ ہندوستان میں نہ پاکستان میں نہ قبرستان میں

علامہ اسرار جامعی ! نہ ہندوستان میں نہ پاکستان میں نہ قبرستان میں

ضیاء اللہ صادق

فخر بہار سید محمد اسرار الحق” علامہ اسرار جامعی” سے ہماری ملاقات کی کہانی غایت دلچسپ ہے۔ تقریباً سات سال قبل اپنے دوست فیصل اقبال کے ہمراہ بٹلہ ہاؤس میں ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔جسے ملاقات نہیں، حادثہ اور سانحہ سے تعبیر کریں۔اردو کا اتنا بڑا نامور شاعر ،ان کی مجموعی حالت مسکین جیسی تھی۔۔۔میں انہیں ان کی مشہور زمانہ نظم “ٹاڈا میں بند کرو “کے حوالے سے جانتا تھا جو قومی تنظیم پٹنہ میں شائع ہوئی تھی۔۔۔ہمارے درمیان خط و کتابت بھی ہوئی تھی جس کا ذکر کرتے ہی علامہ اسرار جامعی مجھے لمحہ بھر میں پہچان گئے۔۔۔

اپنی شرطوں پر زندگی جینے کے اصول کے پابند علامہ اسرار جامعی اردو زبان وادب کی اس دنیا کے باسی نہیں تھے، جس کے مطابق پیسہ ہی سب کچھ ہے,اور جھوٹی انا اور سستی شہرت کے لیے انسان سب کچھ داؤں پر لگا دیتا ہے. وہ تو اردو کی طنزیہ اور مزاحیہ شاعری میں اکبر آلہ آبادی اور ساغر خیامی کی روایت کے امین تھے ۔

1938 میں بہار کے ضلع گیا میں ان کی پیدائش ہوئی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ , ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت کا مرکز رہا۔ برلا کالج آف انجینئرنگ سے انجینیئر ہوئے ۔انہوں نے رانچی میں کسی کالج سے بی ایس سی بھی کیا تھا۔۔۔

مکمل ذہنی یکسوئی نہ ہونے کی وجہ سے پیشہ ورانہ ملازمت سے سبکدوش ہو کر ‘اقبال اکیڈمی”قایم کیا جس کے تحت ڈھیر سارا علمی ادبی کام ہوا۔ اللہ تعالیٰ کار ساز ہے۔ اگر صحیح ذہنی یکسوئی ہوتی تو اردو ادب ایک بڑے ادیب اور خود ان کے بقول “شاعر اعظم” سے محروم ہوتا۔۔۔۔

علامہ اسرار جامعی طنز و مزاح کے کتنے بڑے شاعر ہیں یہ فیصلہ اردو دنیا کرے گی، البتہ ان سے بڑے طنز و مزاح کا کوئی شاعر نہیں، یہ میں کہہ سکتا ہوں۔۔۔

کورونا وائرس کی وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کے جنازے میں شرکت نہ کر پانے کا افسوس تا عمر رہے گا۔جب ان کی وفات کی خبر موصول ہوئی تو اپنی کیفیت عجیب ہو گئی جسے دنیا کے کسی بھی لغت کے الفاظ کے ذریعہ واضح نہیں کیا جا سکتا۔ پہلی ملاقات کے بعد باہم میل جول کی کئی یادیں ان کے ساتھ وابستہ ہیں۔۔۔ ان کی کئی تصویریں اور میری کئی سیلفی ان کے ساتھ ہیں جنہیں پوسٹ کرنے کی میری ہمت نہیں ہے ۔وہ مر گئے۔۔۔۔۔۔۔نہیں ان تصویروں میں ، اپنی شاعری میں اور اپنی طنز و مزاح کی دنیا میں وہ جاوید ہیں ۔۔۔۔

اوکھلا پارلیمانی سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑتے ہیں۔ اپنی شاعری سے عوام کو محظوظ کرتے ہیں۔اس زمانے میں ان کی شاعری کی شہرت خوب ہوئی۔یہ اور بات ہے کہ جیت ان کا مقدر نہ بن سکی۔۔۔

‌”چٹنی” اور “پوسٹ مارٹم” کی ادارت کی ۔2015 میں شاید پوسٹ مارٹم کی آخری اشاعت عمل میں آئی جس کی ایک کاپی آج بھی میرے پاس ہے جو میرے لیے ایک عظیم سرمایہ کے مانند ہے۔

‌”شاعر اعظم” ان کا پہلا مجموعہ ہے جو 1996 میں شائع ہوا۔اور اب بھی ان کا بہت سارا غیر مطبوعہ سرمایہ باقی ہے جو شائع ہو جائے تو اردو کے طنزیہ و مزاحیہ شاعری میں ایک عظیم اضافہ ہوگا۔ ( خبر سننے میں آئی ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ان کا کلیات شائع ہوگا، اللہ کرے ایسا ہو جائے)

وہ سراپا مزاح تھے جنھوں نے اردو کی مزاحیہ شاعری کو معراج تک پہنچایا۔۔۔

طنز و مزاح کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں ایسا گوپی چند نارنگ کہتے ہیں۔ علامہ اسرار جامعی اسی زریں اصول کا پاس و لحاظ کرتے رہے۔ زندگی میں زندہ دلی ،شگفتگی، شوخی اور اعلی ظرافت کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کے روشن مثال تھے اسرار جامعی۔مثال دیکھیں!

ایک جواں لڑکی کا شوہر مر گیا جب ناگہاں

صبر کی تلقین کرنے میں بھی جا پہنچا وہاں

وہ یہ بولی صبر کرنا چاہتی ہوں پر مجھے

چین سے رہنے نہ دیں گے آپ جیسے مہرباں

طنزو مزاح کی شاعری کے لیے بے باک نڈر بے لاگ اور بہادر ہونا شاہ کلید ہے۔ان تمام صفات سے وہ متصف تھے۔وزیر داخلہ کے سامنے ٹاڈا میں بند کرو نظم کا سنانا ہو یا وزیراعظم راجیو گاندھی وی پی سنگھ وغیرہ کے سامنے حق اور سچ کو اپنے طریقے سے سامنے لانا جس میں طنز و مزاح تو تھا ہی ان کی سچائی کے تئیں ایمانداری اور دیانتداری بھی تھی۔۔۔

طنزو مزاح کے درمیان فرق ہے حالانکہ دونوں کا استعمال ایک ساتھ ہی ہوتا ہے۔طنز سے مراد طعنہ،ٹھٹھا تمسخر یا رمز کے ساتھ بات کرنا ہے۔جب کہ مزاح سے خوش طبعی مذاق یا ظرافت مراد لیا جاتا ہے۔عام طور پر طنز و مزاح کے شاعر مزاح پیدا کرنے کے جوش میں طنز کو نظر انداز کر دیتے ہیں تو بعض کے یہاں طنز تو ہے لیکن مزاح نہیں ۔جامعی صاحب کے یہاں طنز و مزاح کا حسین امتزاج ہے جہاں طنز و مزاح کے درمیان کوئی فرق کر ہی نہیں سکتا۔۔

خبط مجھ کو شاعری کا جب ہوا

دس منٹ میں ساٹھ غزلیں کہہ گیا

سب سے رو رو کر کہا سن لو غزل

تاکہ میں ہو جاؤں پھر سے نارمل

نام ہے اسرار میرا محترم

ساری دنیا جانتی ہے بیش و کم

شاعر اعظم ہوں میں عزت مآب

وہ یہ بولے میں تو بہرا ہوں جناب

 

الفاظ کے جادوئی استعمال میں انہیں ید طولی حاصل ہے الفاظ کے معمولی الٹ پھیر سے وہ عجیب چاشنی پیدا کرتے ہیں ۔

کیا پتے کی بات کہہ دی جامعی اسرار نے

کیوں ادا کرنا پڑا ہے اس کا کفارہ ہمیں

بھائی چارے کا یہ مطلب اب نہ ہونا چاہیے

ہم تو ان کو بھائی سمجھیں اور وہ چارہ ہمیں

 

مجموعی طور پر شاعری میں علامہ اسرار جامعی غالب، کالی داس، اکبر الہ آبادی ،ساغر خیامی، علی سردار جعفری کی روایت کے امین ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے ان کے مرتبہ کا طنز و مزاح کا شاعر کوئی نہیں ہے خود ان کے بقول:

مجھ سے بڑا شاعر نہ ہوگا جامعی

ہند وپاکستان میں اور نہ قبرستان میں

 

موت سے پہلے ان کی زندگی مسکین ہو گئی تھی ۔جس کے لیے اردو دنیا ذمہ دار ہے ۔جب اردو والے اپنے لوگوں کی حفاظت نہیں کر سکتے تو آگے ان سے کیا امید کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔اسرار جامعی مر گئے لیکن پوری اردو دنیا پر تھوک کر ۔۔۔۔۔آج اردو والے ان کے قرض دار ہیں ۔ دیکھنا ہے یہ قرض کیسے اترتا ہے۔۔۔۔۔۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *